افتخار چودھری جج کے گواہ بنیں گے

آف شور کمپنیاں بنانے والے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کھلی عدالت کی کارروائی تک پیر تک ملتوی کر دی گئی ۔ جسٹس فرخ عرفان کے وکیل نے 6 کے علاوہ باقی گواہان سے دستبرداری اختیار کر لی ہے ۔ گواہان میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس فرخ عرفان خود بھی شامل ہیں ۔

چیئرمین کونسل جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی کونسل نے کارروائی کی۔ جسٹس فرخ عرفان کے وکیل نے دلائل میں کہا ہم اپنے دفاع میں 6 گواہان پیش کریں گے، گواہان میں سنجیو کمار پٹیل،نثار بھٹی، سید مبشر علی، اسیب الرحمان شامل ہیں،گواہان میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس فرخ عرفان خود بھی شامل ہیں ۔

وکیل صفائی نے کہا کچھ گواہان ملک سے باہر ہیں ۔ کونسل کے چیئرمین نے کہا آپ بتا دیں کتنے گواہان پیش کرنے ہیں، سابق جسٹس افتخار چودھری کو بلانا ہے یا نہیں، افتخار چودھری صاحب نے آج آنا تھا ۔ وکیل صفائی نے کہا آپ گواہان کو پیش ہونے کا آرڈر کر دیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بالکل آرڈر نہیں کریں گے، آپ لانا چاہیں تو لے آئیں،وہ آکر اپنا بیان قلمبند کرانا چاہیں تو کرائیں، افتخار چودھری صاحب کو طلب کرنا مناسب نہیں لگتا، آپ نے ان کا بیان حلفی دیا ہے، افتخار چودھری نامور قانون دان ہیں،انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ ذاتی طور پر بیان قلمبند کیے بغیر بیان حلفی کی کوئی اہمیت نہیں، ہم ان کو طلب نہیں کررہے،اگر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری خود آنا چاہیں تو آجائیں ۔ کونسل نے جسٹس فرخ عرفان کے وکیل کی استدعا پر مزید کارروائی پیر تک ملتوی کردی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے