تعلیم فروشوں کا عدالت پر وار

سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ فیس میں کمی کے فیصلے پر زیادہ تر اسکول عمل نہیں کر رہے جبکہ کئی نجی اسکولوں کی انتظامیہ نے عدالت عظمی کے خلاف مہم شروع کر دی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ میرے پاس جتنا وقت رہ گیا ہے اس میں کارروائی کر کے جاؤں گا، عدالتی تقدس سب سے اہم ہے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق عدالت کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرامان اللہ کنرانی نے بتایا کہ فیسوں میں کمی کے فیصلے کے بعد بیکن ہاؤس نے بچوں اور ان کے والدین کو ذہنی اذیت دینا شروع کر دی ہے، میرے بچوں کے ساتھ غلط سلوک ہوا ہے، بیکن ہاؤس نے سینکڑوں افراد کو نکال دیا ہے، اسکالر شپس ختم کر دی ہیں، سزا کے طور پر ایسے اقدامات کر رہے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسکول مالکان فیسوں میں کمی کے بعد سزا کے طور پر نہیں کر رہے بلکہ ری ایکشن/ ردعمل دکھا رہے ہیں، پچاسی پچاسی لاکھ ڈائریکڑوں کو دیتے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی سپریم کورٹ کے حکم کی عزت ہے ۔ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ ہمیں فیس واپس نہیں چاہئیے پرانا چاہئیے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جس نے ردعمل دکھانا ہے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے دے ۔ محکمہ انکم ٹیکس کو حکم دے رہا ہوں کہ اسکول مالکان کے ذاتی اکاؤنٹس بھی ٹٹولے ۔

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ بار کے صدر امان اللہ ایڈووکیٹ سے کہا کہ بیکن ہاؤس کے مالکان کے خلاف ذہنی اذیت دینے پر مقدمہ درج کرائیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ جن اسکولوں کے نام فیصلے میں نہیں انہوں نے بھی عمل کرنے سے انکار کیا ہے ۔ عدالتی معاون لا اینڈ جسٹس کمیشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ کچھ سکول کہہ رہے ہیں 20 فیصد کمی اس رقم پر کریں گے جو 5 ہزار سے زیادہ ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کیسے کر سکتے ہیں؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ فیسوں میں کمی کا سپریم کورٹ آرڈر پورے ملک کے اسکولوں کیلئے ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ معلوم ہے کہ اسکولوں نے سہولیات کم کرنا شروع کر دی ہیں ۔ عدالتی معاون نے بتایا کہ ایمز نامی اسکول نے کہا ہے کہ قرآن پاک نہیں پڑھائیں گے ایک ہزار روپے فیس کم کر دیں گے، اسی طرح ایک اسلامی اسکول نے والدین کو خط لکھا کہ مخلوط کلاسیں ہوں گی تو فیس پندرہ سو کم کر لیں گے ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ لاہور گرائمر اسکول نے تاحال اضافی فیس واپس نہیں کی اور والدین کو آگاہ کیا ہے کہ سالانہ 18 فیصد فیس بڑھے گی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کا کوئی نمائندہ آیا ہے؟ وکیل نے بتایا کہ اس پر جواب دیں گے ۔ عدالتی معاون نے بتایا کہ سلور آکس اسکول کہتا ہے کہ ہم چھ ہزار فیس لے رہے ہیں کم نہیں کر سکتے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں ایکول نامی ایک سکول ہے جس نے والدین کو لکھا کہ سپریم کورٹ کے غیر منصفانہ فیصلے کے بعد معیار کم کرنے پر مجبور ہیں ۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے ذریعے سکول مالک کو طلب کر لیا ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ہیڈ اسٹارٹ اسکول انتظامیہ نے بھی تاحال فیصلے پر عمل نہیں کیا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ یہ اتنے بااثر اور طاقتور لوگ ہیں کہ ریگولیٹر کچھ نہیں کر سکتا، یہ بہت بڑا کاروبار بن گیا ہے، کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے فیصلے کے بعد عدالت کے خلاف مہم شروع کی ۔

چیف جسٹس نے عدالت میں وکیل سلمان اکرم راجا کو کھڑا کر کے کہا کہ ہم ان لوگوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے آپ نے عدالت کی معاونت کرنی ہے ۔ عدالت کا تقدس سب سے زیادہ اہم ہے، اگر غلط حکم جاری ہو گیا ہے تو نظر ثانی دائر کریں، اس طرح کی مہم چلانے والوں کو نہیں چھوڑیں گے ۔

پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے نجی اسکولوں کو ریگولیٹ کرنے والی اتھارٹی کے سربراہ سے کہا کہ یہ بھی دیکھا جائے کہ عدالتی حکم کا جواز بنا کر اساتذہ کو نکالنے والے اسکولوں کے خلاف کیا کارروائی کی جا سکتی ہے ۔ نجی اسکولوں کی تنظیم کے صدر نے کہا کہ اگر فیس واپس کرنے کے فیصلے پر عمل کیا تو 80 فیصد اسکول بند ہو جائیں گے ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو لٹ مار آپ نے مچائی ہوئی ہے اس کو بند کریں، ہم دیکھتے ہیں کون اسکول بند کرتا ہے، میں خود ذاتی طور پر آپ کے خلاف کارروائی کروں گا ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق تنظیم کے صدر نے کہا کہ مالی بحران کی وجہ سے بند ہو جائیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب فیس لے رہے تھے تب کیا تھا، اب واپس کیوں ہیں کر سکتے؟ ہم آپ کے اسکولوں کا بھی فرانزک آڈٹ کرائیں گے، آپ کی بنائی گئی ذاتی جائیداد کا بھی آڈٹ کرا لیں گے، آپ پہلے کسی اسکول میں ماسٹر تھے؟

نجی اسکولوں کی تنظیم کے صدر نے جواب دیا کہ کالج میں انگریزی شعبے کا سربراہ رہا ہوں، میرے بچے پہلی پوزیشن لیتے رہے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لی گئی زائد فیس واپس کریں، جو اربوں روپے باہر لے جا کر گئے ہوں گے ۔ نجی اسکولوں کی تنظیم کے صدر نے کہا کہ میرے اثاثے دیکھ لئے جائیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ سوزوکیوں اور موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے اب بڑی گاڑیوں پر آ گئے ہیں ۔

نجی اسکولوں کی تنظیم کے صدر نے بتایا کہ میں ان میں شامل نہیں، ہمارے چھوٹے درجے کے اسکول ہیں، اسکول بنانا مثبت کام ہے، آپ ان لوگوں کی بات کر رہے ہیں جن کے بڑے اسکول ہیں، ہم سفید پوش لوگ ہیں، جائزہ حقیقت پسندانہ ہونا چاہیئے ۔

عدالت کو ایف بی آر کی ممبر آڈٹ نے بتایا کہ سات نجی اسکولوں کے ذمے اربوں روپے کے ٹیکس بقایا جات ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button