خاتون کا کمرہ عدالت میں دھرنا

سپریم کورٹ میں خاتون نے کمرہ عدالت میں دھرنا دے دیا جس کے بعد چیف جسٹس دیگر دو جج اٹھ کر چلے گئے ۔

سپریم کورٹ میں سندھ کے تعلیمی اداروں میں غیر قانونی بھرتیاں کے کیس کی سماعت کے دوران ایک خاتون نے کہا کہ چھ سال اسکول جاتی رہی مجھے تنخواہ نہیں دی گئی ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطاچیف جسٹس نے کہا کہ کمشن بنایا کمشن نے تقرریوں کو غیر قانونی قرار دیا۔

خاتون نے عدالت میں چیخ و پکار شروع کر دی، کہا کہ جسٹس صاحب میں کراچی سے آئی ہوں، جسٹس صاحب یہ بالکل بھی انصاف نہیں ہے ۔ لیڈی پولیس نے سائلہ کو ہٹانے کی کوشش کی تو سائلہ عدالت میں بنچ کے سامنے لیٹ گئی ۔

عدالتی معاون نے نیا مقدمہ پکارا لیکن خاتون کی آہ و بکا جاری رہی جس پر خاتون پولیس اہلکاروں نے سائلہ کو اٹھانے کی کوشش
کی، آہ و بکا اور پولیس سے کھینچا تانی دیکھ کر چیف جسٹس اور ججز عدالت سے اٹھ گئے ۔ خواتین پولیس اہلکاروں نے خاتون کو پکڑ کر عدالت سے باہر نکال دیا ۔

شہزادی بیگم کو دوہزار بارہ میں کورنگی کراچی کے اسکول میں نان ٹیچنگ اسٹاف میں بھرتی کیا گیا تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے