وکیل کم بولے اور ججوں نے فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد

عدالت عظمیٰ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کو محمد صفدر کو احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا معطل کرنے کے ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو کی اپیل خارج تو آدھے گھنٹے کی سماعت میں ہی کر دی مگر اس دوران کچھ دلچسپ باتیں بھی ہوئیں ۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، اور جسٹس مظہر عالم خان پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے اپیلوں کی سماعت کی تو نیب کے پراسیکیوٹر اور وکیل صفائی خواجہ حارث کم ہی بولے ۔ پانچ رکنی بنچ کے تین ججز نے سوالات کئے یا تبصرے نما قانونی نکات آگے بڑھائے ۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ابتدا میں ہی کہہ دیا کہ گزشتہ سماعت پر جب یہ اپیلیں تین رکنی بنچ سے پانچ ججوں کے سامنے لگانے کی فیصلہ کیا گیا تھا تو اس کی وجہ کچھ قانونی سوالات تھے جن کی تشریح اور وضاحت کیلئے جسٹس آصف کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد کو بنچ کا حصہ بنایا گیا ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ بنیادی طور پر اس وقت معاملہ میرٹ کا نہیں بلکہ ان سترہ قانونی سوالات کا ہے جو اٹھائے گئے تھے ۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ تشریف رکھیں، پہلے اپیلیں دائر کرنے والے نیب پراسیکیوٹر کو سن لیتے ہیں ۔ نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہا کہ ضمانت کی درخواستیں سنتے ہوئے اور ان پر فیصلہ دیتے ہوئے مقدمے کے میرٹ کو زیربحث نہیں لایا جا سکتا مگر اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں ایسا کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں تقریبا مقدمے کے میرٹ کو زیربحث لا کر تفصیلی وجوہات تحریر کی ہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اس کیس میں نیب قانون کے 14 سی کا بھی معاملہ ہے، ہائیکورٹ نے فیصلے میں سپریم کورٹ کے دو فیصلوں کو بطور مثال پیش کر کے بنیاد بنایا ہے ۔ چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ ہو سکتا کہ ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو درست تناظر میں دیکھے بغیر اپنے فیصلے میں لکھ دیا ہو مگر ضمانت منسوخی کیلئے آپ کے پاس کیا دلائل ہیں؟ ۔

نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہا کہ یہ قانون ہے کہ نیب مقدمات میں صرف ہارڈشپ کیسز/ انتہائی ناگزیر حالات میں سزا معطل اور ضمانت دی جا سکتی ہے ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے نیب کے پراسکیوٹر سے استفسار پوچھا کہ آپ کے لئے مشکل کیا ہے؟ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان تینوں کو بری کر دیا ہے؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ایسا تو نہیں ہوا لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ بری ہو جائیں گے ۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا عبوری حکم نامہ اتنی تفصیل سے لکھنے کے بجائے مختصر بھی ہو سکتا تھا تاہم ضمانت دی جا سکتی ہے اور عدالت نے مقدمے کے میرٹ کو نہیں دیکھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہائیکورٹ کی آبزرویشن وقتی ہوگی اور ضمانت کے مقدمات میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ اگر ملزمان ضمانت کا غلط استعمال کریں تب عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے، نیب بتائے کیا یہ ضمانت منسوخی کا کیس بنتا ہے؟ انہوں نے نیب کے پراسکیوٹر سے پوچھا کہ کیا کہ انھیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم نامے کی منسوخی کی اتنی جلدی کیوں ہے جبکہ مجرم نواز شریف پہلے سے ہی جیل میں ہے ۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ جب ملزم باقاعدگی سے احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوتا رہا ہو اور عدالت کے فیصلے کے بعد سزا کاٹنے کے لیے وطن واپس بھی آ گیا ہو وہ کیسے فرار ہو سکتا ہے ۔ اب تو بدقسمتی سے وہ ایک اور کیس میں جیل میں ہے ۔

جسٹس کھوسہ نے نیب کے وکیل سے کہا کہ آپ اپنے پاؤ گوشت کیلئے یہ کر رہے ہیں، اب میں شیکسپیئر کے ناول مرچنٹ آف وینس کا حوالہ دوں گا تو پھر مجھ پر ناول کی بات کرنے کا الزام لگ جائے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مریم نواز خاتون ہیں اور ہمارے قوانین میں خواتین کے لیے خاصی رعایت رکھی گئی ہے۔ ن کا کہنا تھا کہ اگر ہائیکورٹ نے درست طور پر قانون کا اطلاق نہ کرکے ضمانت دیدی ہے تو کیا ہم بھی غلطی کرکے اسی طرح ضمانت منسوخی کا حکم دیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کا قانون ہم نے تو نہیں بنایا، وائٹ کالر کرائم کو ثابت کرنے کیلئے نیا قانون بننا چاہئے یا موجودہ قانون میں بہتری لانا چاہیئے مگر یہ ہمارا کام نہیں ہے ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چین میں وائٹ کالر کرائم/ کرپشن پر سمری ٹرائل ہوتا ہے اور فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے گولی مارتے ہیں ۔ اس بات پر عدالت میں ہنسنے کی آوازیں سنائی دیں تو جسٹس آصف سعید کھوسہ فورا بولے کہ شفاف ٹرائل ہر ایک کا بنیادی حق ہے اور ہم یقینی بنائیں گے کہ عدالت کے مطمئن ہوئے بغیر کسی کو سزا نہ ملے ۔

سماعت آدھ گھنٹے پر محیط تھی اور آخر میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے اس لیے عبوری حکم نامے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔

ایک بج کر 33 منٹ ہوئے تو چیف جسٹس نے ساتھی ججوں سے ایک منٹ کیلئے مشاورت کی ۔ عدالت میں موجود سارے رپورٹر کھڑے ہو چکے تھے ۔ چیف جسٹس نے سامنے کھڑے وکیلوں کا رخ کیا اور ایک لفظ کہا کہ ‘ڈس مس’ ۔

اس کے ساتھ ہی رپورٹرز نے دروازے کی جانب دوڑ لگائی اور پھر ہر طرف بریکنگ نیوز تھی کہ سپریم کورٹ نے نیب کی اپیلیں خارج کر دیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button