حساس ادارے نے غلط اطلاع کیوں دی؟

ساہیوال میں چار بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے کے بعد انسداد دہشت گردی محکمے نے ٹی وی چینلز کو جو بیان جاری کیا اس میں کہا گیا کہ کارروائی حساس ادارے کی اطلاع پر کی گئی ۔

ایک دن گزرنے کے بعد بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ ’حساس ادارہ‘ کون سا ہے جس نے غلط اطلاع دی ۔ ملک کے چند قانونی دماغوں نے کہا ہے کہ جس وقت تک اس ادارے کا نام معلوم نہیں ہوگا اس وقت تک اس بات کی تحقیقات کیسے ہو سکیں گی کہ حساس ادارے نے غلط انفارمیشن کیوں دی جس کے نتیجے میں چار بے گناہ مارے گئے اور تین معصوم بچے اپنے والدین اور بڑی بہن سے محروم ہو گئے ۔

حیران کن امر یہ ہے کہ جن پر الزام ہے پنجاب حکومت نے انہی اداروں کے افسران کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آٹی ٹی میں شامل کیا ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے ساہیوال واقعے پر ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ سہمے بچوں کو دیکھ کر صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اچھا کام کیا ہے لیکن قانون کے سامنے سب جواب دہ ہیں۔

 اتوار کی صبح ٹوئٹ پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’اگرچہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ دہشت گردی کیخلاف نمایاں خدمات سرانجام دے چکا ہے تاہم قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آتے ہی اس کی روشنی میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ اپنے تمام شہریوں کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے۔‘

وزیراعظم نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’سہمے ہوئے بچوں، جن کے والدین کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا گیا کو دیکھ کر ابھی تک صدمے میں ہوں۔‘

عمران خان نے مزید لکھا: ’اپنے بچوں کے بارے میں ایسی صدمہ انگیز صورتحال کے تصور ہی سے کوئی بھی والدین پریشان ہوجائیں گے۔ ریاست اب ان بچوں کا ذمہ لے گی اور ان کی مکمل دیکھ بھال کرے گی۔‘

عمران خان کی اس ٹویٹ کے جواب میں ان کو سخت ردعمل کا سامنا ہے ۔

ساہیوال میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے مبینہ انکاؤنٹر کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد مشکوک پولیس مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

حکومت پنجاب کے محکمہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اس واقعے کی مختلف سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

جیسے ہی اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آتے ہی سی ٹی ڈی کی اس مبینہ کارروائی پر کئی سوالات اٹھائے جانے لگے، جبکہ آج بھی پاکستان میں ساہیوال واقعہ ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

سوشل میڈیا پر پولیس کے موقف کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بعض صارفین اس واقعے کو ماڈل ٹاؤن کیس کے ساتھ جوڑ رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف سے ویسی ہی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جیسا کہ وہ ماضی میں ماڈل ٹاؤن واقعے پر کرتی رہی ہے۔

سارہ خان نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’ساہیوال کے اس دردناک سانحے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ اگر دو نہیں ایک پاکستان ہی ہے تو اس سانحے کی جلد تحقیقات مکمل کروا کے سارے کرداروں کو جلد سے جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔‘

اس سے قبل پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار واقعہ کے بعد رات ساہیوال پہنچے تھے جہاں انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جے آئی ٹی تشکیل دے گئی ہے جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی کریں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی اس واقعے میں ملوث ہو گا اسے قرار واقعی سزا ملے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ملوث اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

عثمان بزدار کے مطابق اس واقعے میں زخمی بچوں کی کفالت حکومت پنجاب کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ وہ خود انکوائری کی نگرانی کریں گے۔

عثمان بزدار کے دفتر سے رات گئے جاری ہونے والے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ساہیوال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ میں زخمی ہونے والے بچوں کی عیادت کی۔

ہینڈ آؤٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے ساہیوال میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور انھیں انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

ساہیوال کے واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مسلم لیگ نون کی عظمی بخاری نے اپنی ٹویٹ میں پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام تفصیلات سامنے لائیں اور جن جرائم کا ذکر اس بیان میں کیا گیا ہے اس کے ثبوت پیش کریں کہ ہماری اطلاعات اور عینی شاہدین کے مطابق کوئی مزاحمت نہیں کی گئی اور ہم جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر وائرل اس مبینہ انکاؤنٹر میں بچ جانے والے بچوں میں سے ایک کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بورے والا گاؤں شادی میں جا رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کے والد کے ایک دوست تھے۔ بچے کا کہنا تھا کہ فائرنگ سے پہلے ان کے والد نے کہا کہ پیسے لے لو ہم کو چھوڑ دو لیکن انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ بعد میں جو مر گئے انہیں گاڑی میں ڈال دیا اور ہمیں اپنے ساتھ پتہ نہیں کہاں لے گئے اور پھر ایک پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا۔

بچے نے بتایا کہ اس کے بعد ایک شخص آیا اس نے کہا کہ میں آپکو گھر چھوڑ دوں لیکن پھر ہمیں ہسپتال لے آئے۔

محکمہ انسدادِ دہشت گردی نے اس واقعہ کی ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب جاوید سلیم کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ساہیوال سی ٹی ڈی ٹیم نے حساس ادارے کی جانب سے ملنے والی موثر اطلاع پر آپریشن کیا جس کے نتیجے میں کلعدم تنظیم داعش سے منسلک چار دہشت گرد ہلاک جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔

اس رپورٹ کے مطابق ہفتے کی دوپہر بارہ بجے کے قریب ساہیوال پلازہ کے نزدیک محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی ٹیم نے موٹر سائیکل پر سوار دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے ٹیم پر فائرنگ شروع کر دی جس پر ٹیم نے اپنے تحفظ کے لیے جوابی فائرنگ کی جب فائرنگ کا سلسلہ رکا تو چار دہشت گرد جن میں دو خواتین شامل تھیں اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک جبکہ ان کے تین ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

میڈیا کو جاری کئے بیان میں کہا گیا تھا کہ سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق ساہیوال میں ہونے والا آپریشن سولہ جنوری کو فیصل آباد میں ہونے والے آپریشن کا تسلسل ہے اور سی ٹی ڈی کی ٹیم ریڈ بک میں شامل مطلوبہ دہشت گردوں شاہد جبار اور عبدالرحمن کو تلاش کر رہی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے