پانامہ پیپرز کیس میں عدالتی کارروائی کا احوال

اے وحید مراد
مطلب یہ کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آج پھر عدالتی کارروائی میں رنگ بھردیے۔ جسٹس آصف کھوسہ جتنے اعلی پائے کے قانون دان ہیں، اتنے ہی معاملہ فہم بھی ہیں۔ عدالت کے دیگر جج قانون کو سمجھنے یا اس کی تشریح کے معاملے میں ان کے سامنے بونے نظر آتے ہیں ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے جب وزیراعظم کے بچوں کے جواب پڑھے تو ان کے وکیل کو مخاطب کرکے کہاکہ مقدمہ بہت آسان ہوگیاہے، آف شور کمپنیوں کی ملکیت تسلیم کرنے کے بعد اب عدالت کو مطمئن کردیں کہ ان میں لگایا گیا پیسہ قانونی تھا تو آرام سے گھر جاکر سکون کریں، اور اگر ایسا کرنے میں ناکام ہوئے تو مشکل میں پڑجائیں گے۔ ایک موقع پر جب بہت زیادہ اور غیرضروری طورپربولنے کیلئے مشہور جسٹس عظمت سعید نے مشکل قانونی اصطلاحات کا استعمال کرکے مسئلے کو حل کرنے کے گر بتانا شروع کیے تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ یہ تمام اختیارات ہائیکورٹ کے پاس ہیں، سپریم کور ٹ میں ایسی درخواستیں براہ راست نہیں آسکتیں اور نہ سپریم کورٹ براہ راست ان قوانین کے تحت فیصلے کرسکتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی سمجھایا کہ سپریم کورٹ کیسے اور کیوں اس کیس کو سن کر فیصلہ کرسکتی ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے سابق وزیراعظم یوسف گیلانی کے خلاف فیصلے کاحوالہ دیا اور کہاکہ فیصلے سے نہیں اس کے اثرات سے وزیراعظم نااہل ہوگئے تھے۔ جسٹس آصف نے کہاکہ شاید کمیشن بنانے کی ضرورت ہی نہ پڑے، عدالت میں ہی دستاویزات دکھادیں کہ کمپنیاں بنانے کیلئے رقم کیسے اور کہاں سے لائی گئی۔ پھر کہاکہ ہوسکتاہے کہ دوسری صورت میں ہم میں سے کسی کو پانامہ جانا پڑے، جس پر عدالت میں قہقہہ لگاتو انہوں نے مذاق میں کہاکہ بے فکررہیں، ہم میں سے کوئی تفتیش کیلئے پانامہ نہیں جائے گا۔
وکیل طارق اسد نے کہاکہ انہوں نے اپنی درخواست میں چارسو لوگوں کا ذکر کیاہے جن کے نام پانامہ پیپرز میں آئے ہیں ان میں سے 260 کی پاکستان کے اداروں نے نشاندہی بھی کردی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا تفتیش کرنا عدالت کا کام ہے؟ چارسولوگوں کے خلاف تفتیش کیلئے 20سالہ منصوبہ بناناہوگا، عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں۔ جہاں تک حاکم وقت کی پوزیشن ہے وہ مختلف ہوتی ہے، حضرت عمر سے بھی ایک عام آدمی نے کرتے کے کپڑے کا سوال کیاتھا اورانہوں نے اسے مطمئن کیاتھا۔ یہاں بھی وزیراعظم نے خود کو پیش کیا ہے تویہ ہمارے لیے ٹیسٹ کیس ہے، ادارے اپنا کام نہیں کررہے جس کی وجہ سے کڑوی گولی نگل رہے ہیں۔ وکیل طارق اسد نے کہاکہ وزیراعظم کا احتساب ضروری ہے مگر باقی لوگوں کو بھی نہ چھوڑا جائے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ درجہ بندی کرنا پڑتی ہے، تفتیش کرنا ہمارا کام نہیں مگر یہ بھی کررہے ہیں، عدالتی کارروائی سے کسی کا استحقاق مجروح نہیں کررہے، مگر کوئی خوش فہمی میں نہ رہے کہ ہم یہاں بادشاہ بیٹھے ہیں اور کچھ بھی حکم دے سکتے ہیں، ہم صرف آئین و قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرسکتے ہیں، پانامہ پیپرز میں جج کانام آنے پر صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہی کارروائی کرسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہمیں ملک کو بحران اور افراتفری سے بچانے دیں، ماضی قریب میں عدالت کی وجہ سے چیزیں کچھ بہتر ہوئی ہیں۔
عدالت کے سامنے شریف خاندان کے وکیل سلمان اسلم نے مریم، حسین اور حسن نواز کامشترکہ جواب جمع کرایا۔ ساری ذمہ داری حسین نواز نے اٹھالی ہے کہ نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کے مالک وہ ہیں جن کی لندن میں جائیداد ہے، فلیٹ سولہ اے اب نہیں رہا کیونکہ فلیٹ سولہ میں ہی ضم کیا جاچکاہے۔ مریم نواز کمپنیوں کی ٹرسٹی ہیں جن کو مالی فائدہ نہیں ہوتا۔ میرے سامنے پڑے جواب کے صفحہ چھ کا تیسرا پیراگراف بہت دلچسپ ہے۔ حسین نواز کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے ابا حضور نوازشریف کو 19لاکھ چودہ ہزار ڈالرز تحفے میں دیے۔ اسی پیراگراف میں آگے لکھاہے کہ نوازشریف نے مریم اور حسن کو تین کروڑ سترہ لاکھ روپے اور پھر ایک کروڑ چورانوے لاکھ روپے تحفے میں دیے۔ عدالت میں جب وکیل سلمان اسلم نے جواب پڑھتے ہوئے کہاکہ مریم نواز اپنے والد کے زیرکفالت نہیں رہیں تو جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ کبھی تو رہی ہونگی۔ جس پر شریف خاندان کے وکیل نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ جی، جب بچی تھی تو ظاہری بات ہے رہی ہونگی۔ حسن نواز نے اپنے جواب میں بتایا ہے کہ وہ بائیس برس سے بیرون ملک کاروبار کررہے ہیں جبکہ حسین نواز نے کہاہے کہ وہ سولہ برس سے بیرون ملک بزنس چلارہے ہیں، دونوں بھائی نے خود کو غیر رہائشی پاکستانی کہاہے۔ وکیل کے طنز سے تنگ آنے جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ آپ دستاویزات دیں، کیا چھپارہے ہیں؟۔ وکیل سلمان اسلم نے کہاکہ ہم ہردستاویز عدالت کے سامنے پیش کرینگے، اڑتالیس گھنٹے میں 6افراد کے جواب دینے تھے۔ جواب کے مطابق میاںمحمدشریف نے 1980میں جدہ اسٹیل مل لگائی جس کو بیچ کرحاصل کیے جانے والے سرمائے سے2006میں لندن میں جائیداد خریدی گئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اب ثابت کرناہوگا کہ یہ جائیداد قانونی طریقے سے بنائی گئی، اگر ناکام ہوگئے تو پھر دوسرے فریق کو یہ ثابت کرناہوگاکہ وزیراعظم کا ان سے کیا تعلق ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ جب اثانے آمدن سے زیادہ ہونے کاالزام ہوتو قانون کے مطابق مالک کو ثابت کرناہوتاہے۔عدالت نے دستاویزات کے بارے میں پوچھا تو شریف خاندان کے وکیل نے کہاکہ پندرہ یوم کی مہلت دیں جمع کرادیں گے۔ وکیل سلمان اسلم نے عدالت سے استدعاکہ پانامہ پیپرز میں جن ارکان اسمبلی کے نام آئے ہیں ان سب کا احتساب ہوناچاہیے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے مذاق میں کہاکہ اس کے بعد ایسا نہ ہوکہ تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ خالی ہوجائے۔ وکیل نے کہا کہ سب کے ساتھ ایک جیساسلوک ہوناچاہیے، وزیراعظم بھی رکن اسمبلی ہی ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ کی حس مزاح پھر جاگی اور کہاکہ یہی وقت ہے جس کسی کو اعتراض کرناہے کرلے جس طرح شادی کے وقت جوڑے سے پوچھتے ہیں، بعد میں پھر ہنسی خوشی بھگتنا پڑتاہے۔
شیخ رشید سامنے آئے اور دلائل دینے کی اجازت طلب کی تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ شیخ صاحب، آپ نے تو ایل ایل بی کیاہواہے۔ شیخ رشید بولے کہ کبھی وکالت نہیں کی، خوشی ہے کہ آپ کے سامنے پیش ہورہاہوں۔ اس کے بعد بولے کہ پوری دنیا کی نظریں عدالت پر ہیں، نوازشریف پیسے چھپانے کے عادی ہیں، کہتے ہیں کہ بیٹی کو دوکروڑ روپے تحفے میں دیے۔ تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے عدالت سے شکایت کی کہ حکومت ٹی وی پر اشتہارات چلارہی ہے، روکاجائے۔ جس پر چیف جسٹس بولے کہ آپ نے ہماری دکھتی رگ چھیڑ دی ہے، کئی محترم قانون دان تو ہم سے پہلے ٹی وی پر اس کیس کا فیصلہ بھی دے چکے ہیں، یہ بات ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں، پھر چیف جسٹس نے ٹی وی اینکروں کو مخاطب کرکے شعر پڑھا کہ
آپ اپنی اداﺅں پہ ذرا غور کریں
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ عدالت کے احاطے میں پریس کانفرنس کی جاتی ہے حالانکہ پورا ملک پڑا ہوا ہے ، اس دن تو شیخ صاحب نے بچا لیا وگرنہ لڑائی بھی ہونے لگی تھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ مہذب معاشرے میں میڈیا کیلئے عدالتی حکم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے بعد عدالت نے ہدایت کی کہ جن جائیدادوں کی ملکیت تسلیم کی گئی ہے ان کی خریداری کی دستاویزات پیش کی جائیں۔

متعلقہ مضامین