حب الوطنی کے نام پر بلیک میلنگ

احساس / اے وحید مراد

کوئی نئی بات نہیں۔ برسوں سے یہی ہورہاہے۔ غلطی کریں، پھر معافی مانگ لیں ۔ اور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں کہ غلطی کرتے ہیں، پھر وہی غلطی دہراتے ہیں اور معافی بھی نہیں مانگتے۔ چونکہ طاقت ور ہیں اس سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ آئین توڑیں اور ملک پر قبضہ کرلیں مگر محب وطن رہیں گے۔ کوئی دوسرا صرف سوال پوچھ لے تو غدار ٹھہرے گا۔ آٹھ اگست کو بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں دہشت گردوں نے قیامت بپا کی تو افسوس اور مذمتوں کے روایتی بیانات میں محمود خان اچکزئی نے کچھ بنیادی سوالات اٹھا دیے۔ سوالات چونکہ طاقت والوں سے متعلق تھے تو قومی اسمبلی میں عوامی نمائندگی کرکے بولنے والا سیاست دان غدار قرار دیا گیا۔
بائیس اگست کو حب الوطنی کی سدا سے تازہ کڑھی میں تازہ ترین ابال متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تقریر کے بعد آیا ہے۔ اور ہرطرف پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج اٹھے ہیں۔ اس شور میں ایک نعرہ ہمارا بھی شامل کرلیں۔ اگر حب الوطنی صرف نعرے لگانے سے ظاہر ہوتی ہے تو پھر پاکستانیوں سے زیادہ یہ ’کیفیت‘ یا نعرے باز قوم کہیں نہیں ملے گی۔ الطاف حسین نے ایم کیوایم کے عام کارکن سے لے کر عوامی نمائندگی کرنے والے اراکین اسمبلی تک کو ایسی مشکل میں ڈال دیاکہ ان کے پاس صرف نعرے لگا کر ہی خود کو محب وطن ثابت کرنے کا آپشن رہ گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر ان لوگوں سے اس ملک کے خلاف نعرے بازی کی جن کے باپ دادا نے پاکستان کے لیے ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ کیا اس کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کی سازش قرار دیا جائے گا۔کیا یہ اپنوں کا غصہ نہیں ہے؟ کیا پاکستان سب کا ہے یا صرف طاقت والوں سے حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ لینے والے ہی اس ملک کے پہلے درجے کے شہری ہیں۔ٹی وی چینلوں پر حملے ہوئے ، غلط ہوا۔ پھر ایم کیو ایم کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا گیا، کیا یہ درست طرز عمل تھا؟۔ یہی میڈیا جب دن رات بلا تعطل الطاف حسین کی تقریریں گھنٹوں نشر کرتا تھا تو کس میں ہمت تھی کہ بولتا،اچانک سب کے منہ میں زبان کیسے آ گئی ہے؟ ۔ ٹی وی چینل کے مالکان ہوں یا پھر صحافی رہنما یک دم کیوں اور کیسے جاگ جاتے ہیں؟۔
غداری کے تمغے بانٹیں اور ضرور بانٹیں۔الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کریں۔ لندن سے لاکر کراچی کے کسی چوک پر کھڑا کردیں مگر ایک اصول بنالیں۔ جس کے خلاف پہلے مقدمہ درج ہے اس کا فیصلہ پہلے کریں۔اگر پرویز مشرف غدار نہیں جس پر پاکستان کی ایک آئینی عدالت میں سنگین غداری کا مقدمہ چل رہا ہے اور اسے ملک سے ‘بھگا’ دیا گیا ہے تو پھر کسی اور کو غدار کہنا کیسے قبول کیا جاسکتا ہے؟۔ الطاف حسین کا گزشتہ دس برسوں میں سب سے بڑا سرپرست مشرف تھا، اس پر پہلے مقدمہ چلایا جائے۔ اگر ماضی کے تمام کرداروں کو خاموشی سے معاف کرکے صرف ایم کیو ایم کے کارکنوں اور رہنماﺅں کو گرفتار کر کے زبردستی ‘پاک سرزمین پارٹی’ میں شامل کرنے کیلئے دباو¿ ڈالا جائے گا تو اس سے ریاستی ادارے اور حکومت دنیا کو خود پر ہنسنے کا موقع فراہم کریں گے۔
تفریق ہوگی تو نظر بھی آئے گی۔ امتیازی سلوک ہوگا تو سب کی انگلیاں اٹھیں گی۔ کس کس کو کاٹیں گے۔ کون سی زبان خاموش کرائیں گے۔ انصاف کریں گے تو سب خوش ہوں گے۔ ہر ایک مطمئن ہوگا۔ ایسے نہیں چلے گا بھائی جیسے چلایا جارہاہے۔گورنر سندھ کا نام تو سب سے پہلے زبان پر آتا ہے مگر کیوں۔؟ عشرت العباد پر قتل کے لگ بھگ ایک درجن مقدمات درج تھے، راتوں رات ختم کر کے آرمی چیف پرویز مشرف کے حکم پر گورنر بنا دیا گیا ۔ اور اب تازہ دھلے لیڈر کو ہی دیکھ لیں۔ مصطفٰی کمال بہت ‘صاف ستھرے’ ہیں اس لیے بیرون ملک مقیم تھے ۔ کہتے ہیں پھر ایک رات کراچی کے نئے کور کمانڈر کو خواب آیا، اگلے روز مصطفٰی کمال واپس ملک آئے اور نئی سیاسی جماعت بنا دی، پھر اس جماعت میں ایم کیو ایم چھوڑ والوں کی بھرتی شروع کر دی گئی ۔ اب ڈیڑھ لاکھ ووٹ لینے والے فاروق ستار کو رینجرز اہلکار دھکے دے رہے ہیں مگر ‘پاک سرزمین’ میں شامل ہونے والے انتہائی باعزت اور باوقار سیاست دان بن گئے ہیں۔ فاروق ستار کی ویڈیو دیکھ کر خوشی کے شادیانے بجانے والے اپنی یادداشت بہتر کریںتو معلوم ہوگا کہ یہاں ایک منتخب وزیراعظم نواز شریف کو برطرف کر کے جہاز کی نشست سے ہتھکڑی میں جکڑ دیا گیا تھا۔
ایسے نہیں چلے گا بھائی ۔ لوگوں کی آنکھوں پر تو پٹی باندھی جاسکتی ہے مگر ان کے سوچنے کی صلاحیت کو سلب نہیں کیا جاسکتا، ذہنوں پر قفل نہیں ڈالے جاسکتے۔ انصاف اور برابری کا سلوک کریں، اور ان وجوہات پر غور کریں جن کی وجہ سے پشتون، بلوچ اور اب اردو بولنے والے ریاست کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ اگر سرکاری ٹی وی حملہ کرنے والے الگ سلوک کے حقدار ٹھہریں گے اور نجی چینل میں توڑ پھوڑ کرنے والے غدار ٹھہرائے جائیں گے تو سوال اٹھیں گے اور شد ت سے اٹھیں گے۔ متحدہ کے قائد کی ’ذہنی بیماری‘ نئی نہیں مگر اب وہ طاقت کی چھتری تلے نہیں اس لیے غدار قرار پائے ہیں۔ سیاسی مسائل کو سیاسی انداز سے حل کیا جائے۔ امن وامان قائم کرنے والے ادارے عام شہری اور شرپسند یا دہشت گرد میں فرق کریں۔ ریاست کے ملازم اور جرائم پیشہ گروہ کے رکن کے رویے میں فرق نظر آنا چاہیے تب ہی ریاست پر اعتماد بحال ہوگا۔ جس پر جو بھی الزام ہے عدالت میں پیش کیا جائے، ثابت کیا جائے اور سزا دی جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے