پوسٹ ماڈرنزم انارکی ہے !

امریکی الیکشن نے پوری دنیا کے ہوش گم کر رکھے ہیں۔ امریکی ایک دوسرے کو حیرت سے تکے جا رہے ہیں اور ساری دنیا مل کر امریکیوں کو گھور رہی ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ "سسٹم” جسے جتانا چاہتا تھا وہ شکست فاش سے دوچار ہوئی۔ پورے امریکہ ہی نہیں پوری دنیا کا میڈیا جس کی شکست کا سامان تیار کرتا رہا وہ سب کو شکست دے گیا۔ جس امریکہ کو 8 نومبر تک یہ فکر کھائے جاتی تھی کہ انتہاء پسندی کو کیسے ختم کیا جائے اب وہاں انتہاء پسندی کا راج چلے گا اور لبرلزم کے شیئرز کاغذ کے پرزوں کے سوا کچھ نہیں رہے۔ صرف چوبیس گھنٹے قبل جس امریکہ کا سیاسی مذہب "برداشت” تھا اب وہ نسل پرستی کی راہ پر چل نکلا۔ اب انسان نہیں "گورا انسان” وہاں فرسٹ گریڈ سٹیزن ہوگا اور جو گورا نہیں وہ اپنے گھر کا غیر ضروری سامان ابھی سے بیچنا شروع کردے۔ جس امریکہ کو 8 نومبر تک یہ فکر کھائے جاتی تھی کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار انتہاء پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اس امریکہ میں نیوکلیئر فٹبال (ایٹمی ہتھیاروں کے کوڈ والا بریف کیس) 20 جنوری 2017ء کو ایک انتہاء پسند کے سپرد ہوگا۔ یورپ میں پہلے ہی نسل پرستی کی ہوائیں چل رہی ہیں جو اب آندھی کی شکل اختیار کر جائیں گی اور اگلے پانچ سے دس سال میں وہاں بھی نسل پرستوں کا راج ہوگا۔ ایسے میں تھرڈ ورلڈ کیسے اس سے بچ پائے گا ؟ وہاں تو خون کی ندیاں بہنے کے پورے پورے امکانات ہیں۔

وہ لوگ ابھی زندہ ہیں جو پچاس ساٹھ برس قبل ہر گورے سے سنتے تھے کہ اس کا گورا رنگ، اس کی نیلی آنکھیں، اس کے گولڈن بال اور اس کی علمی ترقی اس کے عظیم انسان ہونے کی دلیل ہے۔ پھر ترقی کے اس عمل کو تیز کرنے اور محکوم قوموں کو ان کے قابل افراد سے محروم کرنے کے لئے "انسانیت ایک مذہب” کا نعرہ دے کر ایمیگریشن پالیسی متعارف کرائی گئی۔ ترقی پذیر ممالک جو نسل ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے وہ برین ڈرین کے سیلاب میں بہہ بہہ کر ان ترقی یافتہ ملکوں میں جا پہنچتی۔ اور نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ قابل طالب علم کو دور طالب علمی میں ہی سکالر شپ پروگرامز کے تحت اپنی قوم سے چھین لیا جاتا۔ اور پھر ان قوموں سے پوچھا جاتا کہ تم ترقی میں پیچھے کیوں ہو ؟ تمہارا انسانی ترقی میں حصہ کیوں نہیں ہے ؟ اب آج کی تاریخ میں ڈونلڈ ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ ہمارے ہسپتالوں سے لے سائنس ریسرچ سینٹرز تک اور کمیونٹی سینٹرز سے لے کر اہم سرکاری عہدوں تک ہر جگہ ایمیگرنٹس بیٹھے ہیں جبکہ انسانوں میں سب سے عظیم یعنی گوری چمڑی، نیلی آنکھ اور گولڈن بال والا انسان بے روزگاری سے ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ ترقی کا عمل تمام شد ! اب ایمیگرنٹس بھاڑ میں جانے کی تیاری کریں تاکہ عظیم انسان کے فاقے ختم ہوں۔ برطانیہ میں یہ گورا انسان پہلے ہی خود کو یورپ سے کاٹنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ فرانس اور جرمنی اس پر بھی ناخوش تھے۔ فرانس اور جرمنی ٹرمپ کو بھی کل ہی آنکھیں دکھا چکے۔ ہٹلر پر نسل پرستی کا الزام لگانے والے خود ہٹلر کی راہ پر چل نکلے تو جرمنی کا غصہ تو بنتا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں اگر کوئی خوش ہے تو وہ ویلادیمیر پیوٹن ہے کہ جانتا ہے کہ اس کے حریف بدترین انتشار کے دروازے پر دستک دے چکے اور دروازہ کسی بھی لمحے کھلنے کو ہے۔ لیکن بات اتنی چھوٹی سی نہیں ! بات بہت بڑی ہے ! نہیں ! نہیں ! بات بڑی نہیں بلکہ بہت ہی زیادہ بڑی ہے ! بات وہ ہے جو استاذ احمد جاوید نے کہی تھی "پوسٹ ماڈرنزم انارکی ہے !”

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے