حتمی نشانہ وزیراعظم ہیں

نصرت جاوید

بدھ کی شام سے میں شدید غصے میں مبتلا ہوں۔”جواب آں غزل“ لکھنے سے مگر کنی کترارہا ہوں۔ جو بات دل میں اُبل رہی ہے اسے پوری طرح بیان کئے بغیر چین نہیں آئے گا۔سچ اگر پورا لکھ ڈالا تو بہت سے لوگ ناراض ہوجائیں گے۔ ان لوگوں کے پاس ریاستِ پاکستان کے عطا کردہ بے پناہ اختیارات ہیں۔ وہ اُنگلی کے ایک اشارے سے مختلف ناموں کے ساتھ یکساں فقروں اور الفاظ کے ساتھ سوشل میڈیاکے ذریعے آپ کو دُنیا کے بدترین کردار کے طورپر پیش کرنے کی سہولتوں سے مالا مال ہیں۔ مجھے جھوٹی تہمتوں سے ہرگز خوف نہیں آتا۔ اپنے غصے سے البتہ بہت ڈرتا ہوں۔ دل میں کوئی بات سما جائے تو اسے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر چین نہیں آتا۔ بہتر یہی ہے کہ عمر کے اس حصے میں ایسے معرکوں سے اجتناب برتا جائے۔
ہوا یہ تھا کہ ہاتھ میں ریموٹ پکڑ کر اپنے چینلوں کی مختلف سکرینیں دیکھ رہا تھا۔ ان سکرینوں پر امریکی سیاست کے ماہر مشہور ہوئے لوگوں کا ہجوم تھا۔ وہ مجھ ایسے جاہلوں کو سمجھارہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کیسے جیت گیا۔ اس کی جیت دنیا کے لئے بدبختی لائے گی۔ وغیرہ وغیرہ۔
منگل کی رات تک ان ماہرین کی اکثریت کئی دنوں سے مجھ ایسے جاہلوں کو یقین دلا رہی تھی کہ ٹرمپ محض شوشا ہے۔ امریکی اشرافیہ کی اصل نمائندہ ہیلری کلنٹن ہے۔ اس اشرافیہ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اوبامہ کی صورت ایک سیاہ فام امریکی کو دوبار صدر منتخب کروانے کے بعد اب کی بار ایک عورت کو وائٹ ہاﺅس بھیج کر ”تاریخ“بنائی جائے۔ہیلری کی صدارت پاکستان کے لئے ویسے بھی بہتر ہوگی۔ وہ ہمیں خوب جانتی ہے۔ اسے ہماری ریاست کی ترجیحات کا بخوبی علم ہے۔ وہ ان ترجیحات کا احترام کرتے ہوئے ہمارے حکمرانوں سے اپنے ملک کے مفادات کے لئے مدد کی طلب گار رہے گی۔
امریکی سیاست کے اپنے تئیں ماہر کہلاتے ان افراد کے بچگانہ خیالات سے کہیں زیادہ تکلیف میرے کانوں کو امریکہ کی چند مشہور ریاستوں،شہروں اور مقامات کے غلط تلفظ سے ہورہی تھی۔ انگریزی جو امریکہ میں بولی جاتی ہے،”خالص“ وہ بھی نہیں۔ برطانیہ والے اسے امریکن کہتے ہیں۔ انہیں اس ”امریکن“ کے تلفظ ہی پر نہیں بلکہ گرائمر پر بھی شدید اعتراضات ہیں۔پاکستانیوں کے لئے قطعی ضروری نہیں کہ وہ ”امریکن“ زبان ویسے ہی بولیں جیسے وہاں کے باسی بولتے ہیں۔ خود کو امریکی سیاست کا ماہر کہتے افراد کو مگر ہیلری کا نام تو صحیح طور پر ادا کرنا چاہیے۔ دیگر حماقتوں کا ذکر کیا کروں۔
سُر سے ہٹاگانا اور جانے پہچانے الفاظ کا غلط تلفظ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ دِق ہوکر ریموٹ کے بٹن گھماتا رہا۔ اچانک ایک نسبتاََ غیر معروف چینل کی سکرین پر ایک بقراط بنے حکیم نمودار ہوئے۔ اس حکیم کے بارے میں اینکر حضرات کو گمان یہ ہے کہ وہ ”ان“ کے پیغام بر ہیں۔ان صاحب کے خیالات کو لہذا بہت احترام سے سناجاتا ہے۔ وہ صاحب راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کی طرح ون آن ون گفتگو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بدھ کی شب وہ بیان کر رہے تھے کہ سفارت کاروں کے بھیس میں جاسوسی کرنے والے راء کے ایجنٹوں کی نشاندہی کیوں کرممکن ہوئی۔
میں خود کو پاکستان کے قومی سلامتی سے جڑے مفادات کا ہرگز ”ماما“ نہیں سمجھتا۔ جاسوسی،ویسے بھی ایک انتہائی مشکل شعبہ ہے۔ اس کی باریکیاں سمجھنے کے لئے بہت مہارت اور تجربہ درکار ہے۔ محض ایک عام رپورٹر ہوتے ہوئے البتہ میں یہ بات جبلی طورپر جانتا ہوں کہ دشمن ملکوں کے جاسوسوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ہمارے ادارے جو تکنیک استعمال کرتے ہیںاسے کسی صورت ٹی وی جیسے میڈیم پر بیان کرنے کی قطعاََ ضرورت نہیں ہوتی۔ ہماری ریاست کے چند دائمی اداروں کے ہمارے ٹی وی سکرینوں پر ”ترجمان“ سمجھے جانے والے خواتین وحضرات مگر ”بخشی ہوئی“مخلوق ہیں۔ یہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور ان کے کہے کو گرفت میں لانے کی کوئی جرا¿ت نہیں کرسکتا۔
چودھری نثار علی خان نے بھی حال ہی میں بہت آنیوں اور جانیوں کے بعد نام نہاد ”ڈان لیکس“ کے ذمہ داروں کا سراغ لگانے کے لئے جو کمیٹی بنائی ہے، اس کا مقصد بھی اس ”بخشی ہوئی“مخلوق میں سے چند افراد کی نشاندہی کرنا ہرگز نہیں ہے۔ اصل ہدف وزیر اعظم ہیں۔ ان پر ہاتھ ڈالنے میں رکاوٹ ہے تو ان کے چند بااعتماد افسروں اور وزیروں کی قربانی درکار ہے ۔ یہ قربانی نہ بھی ہو تو واضح اشاروں کنایوں میں ”مودی کے یار“ کے چند کارندوں کو ”غدار“ کہہ کر بدنام ضرور کیا جاسکتا ہے۔
میری شدید خواہش تھی کہ جوپروگرام میں نے دیکھا ہے اس کے بارے میں ایماندارانہ تجزیہ لکھ ڈالوں۔ خود پر مگر قابو پالیا ہے۔ نظرانداز کرنا اس لئے بھی ضروری سمجھا کہ ان دنوں قومی سلامتی سے جڑے مفادات کے تحفظ کے نام پر جو جنگ ہمارے میڈیا میں بہت شور غوغا کے ساتھ برپا ہے،حتمی نشانہ اس کا پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم ہیں۔
موصوف کے بارے میں میری ٹھوس اطلاعات یہ ہیں کہ اس تمام تر شورو غوغا کے باوجود وہ ان دنوں انگریزی زبان والے Chillہیں۔ بدھ کے روز خصوصی طیارے پر اپنے وزیر دفاع کے ہمراہ سرگودھا تشریف لے گئے تھے۔ پاک فضائیہ نے انہیں تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ نواز شریف کے خلاف قومی سلامتی کے حوالے سے برپا تمام تر شور کے باوجود اس وزیر اعظم کی ”حساس معاملات“پر بریفنگ اب بھی جاری ہے تو ان کے دربار سے بہت دور بیٹھے مجھ بدنصیب کو ”تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ توں“والا رویہ اختیار کر لینا چاہیے۔ مجھے یہ رویہ اختیار کرنے میں لیکن دقت صرف اس وجہ سے ہورہی ہے کہ بہت ہوشیاری سے میڈیا پر قابض ہوئے چند افراد کے ذریعے ماحول ایسا بنایا جارہا ہے جو رپورٹرز کو مجبور کرے کہ وہ ایسی خبریں ڈھونڈنے کی جرات نہ کریں جنہیں فراہم کرنا صحافت کے بنیادی اصولوں کے مطابق ان کا فرض ہے۔ کالم نگار چند معاملات کے بارے میں اپنی آزادانہ رائے کے اظہار سے باز رہیں۔ جو کچھ انہیں بتایا جائے بغیر کوئی سوال اٹھائے آگے بڑھادیں۔
سنا ہے ہمارے ہاں کونسل آف نیوزپیپرز ایڈیٹرز نامی کوئی تنظیم ہے۔ CPNEاس کا رُعب دار مخفف ہے۔ دو ٹکے کا رپورٹر ہوتے ہوئے میری اس تنظیم سے التجا ہے کہ میں جس گیم کی طرف اشارہ کررہا ہوں، اسے جانچنے کی کوشش کرے۔
میرے ملک کی سلامتی مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اس موضوع پر چند”ترجمانوں“ کی اجارہ داری،جوباقاعدہ حیثیت میں ترجمان تسلیم بھی نہیں کئے جاتے۔سرجھکائے مان لینا بھی میرے لئے ممکن نہیں ہے۔ چند سوالات اٹھانا ہم صحافیوں کا حق نہیں فرض ہے۔ صحافی اس فرض سے خود غرضی کی لت میں مبتلا ہوکر غافل ہوجائیں گے تو بہت نقصان ہوگا۔ ٹھوس مثالیں دے کرایسے نقصانات کی تفصیلات بتانا شروع کردوں تو محض اپنا خون جلاﺅں گا۔ اسی لئے تھوڑے لکھے کو کافی شمار کرنے پر مجبور ہو رہا ہوں۔

Courtesy Daily Nawai waqt

متعلقہ مضامین