روز بپا ہوتا ہے روز محشر کا سماں

راول پنڈی کی اس مشہور فوڈ مارکیٹ میں دکانوں کے تھڑوں یا فٹ پاتھوں پر خوب رش لگا ہوا تھا۔ چھوٹی میزوں کے اطراف میں رکھی کرسیوں پر ہر زبان و نسل کے افراد موجود تھے۔ سیاست سے سماج اور فلم سے کھیل تک ہر موضوع پر بات ہو رہی تھی۔ کچھ نوجوان اپنے موبائل فون سے کھیل کر آرڈر دینے کے بعد سروس حاصل کرنے کے درمیان کا وقفہ انجوائے کر رہے تھے۔ ہم نے بھی نومبر کی اس خنک شام دودھ جلیبی کا آرڈر کیا اور بیٹھے آنے جانے والوں کو دیکھ کر وقت گزارنے لگے۔ ویٹر آرڈر لے کر آیا، گرم دھوپ میں شامل جلیبی کے پیالے سے اڑتی بھاپ نے منہ لگانے سے پہلے ہی ذائقہ زبان پر پھیلا دیا تھا۔ ابھی ہم دوستوں نے چمچ ہونٹوں تک نہیں لائے تھے کہ لگا جیسے جنگ چھڑ گئی ہو۔
پہلے پہل تو اچانک افراتفری ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اتنا پتہ چلا کہ ایک موٹرسائیکل سوار آیا اور نعرہ لگایا کہ بھاگو، وہ آ رہے ہیں۔ اس کے بعد جیسے کہ پرسکون ماحول میں کسی نے پارہ بھر دیا ہو، دکاندار اور ویٹر ایسے پھرتی سے گھومے کہ لکی ایرانی سرکس والے دیکھتے تو اپنا میلہ بھول جاتے۔ کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں جب دشمن کی فوج حملہ کرتی تھی تو مخبر یا جاسوس گھوڑوں پر اس کی اطلاع دیتے کہ تیاری کرو، فوج آرہی ہے ۔ مگر یہاں ایک موٹرسائیکل پر سوار نے طبل جنگ بجنے کی افواہ اڑائی اور پورا منظر ہی بدل دیا۔
ایک دوکاندار ادھربھاگ رہا ہے تو دوسرا ادھر منہ کیے سامان اٹھائے سرپٹ دوڑے چلا جارہا ہے۔ ویٹر وہ غلام بن کے دوڑ رہے تھے جن کے محل پر آسمان ٹوٹنے والا ہو، ہر ایک چیزیں سمیٹ رہا تھا۔گاہکوں کو اٹھائے بغیر ان کے سامنے سے میزیں کھنچی جارہی تھیں، پھر ہمارے نیچے سے کرسیاں کھینچنے کیلئے آگے بڑھے تو بتایا کہ بھائی، دودھ جلیبی پر ہاتھ کو صاف کرلینے دو۔ دکانداروں نے منت سماجت شروع کردی۔ ہم نے بتایا کہ صحافی ہیں یار، کیاہوگیا۔ ویٹر بولے سر، وہ آپ کو کچھ نہیں کہیں گے،ہماری کرسیاں لے کرچلے جائیں گے۔ پیٹ اور زبان پر جبر کیا،بادل نخواستہ اٹھے اور ایک منٹ میں کرسیاں اورمیز بند ہوتے دکانوں کے شٹرز کے پیچھے چھپ گئیں۔ جیسے ہی شٹر ڈاﺅن ہوئے میونسپل کمیٹی کی تجاوزات کے خلاف کارروائی کرنے والے کارکن نمودار ہوئے جن کے ہمرا ڈنڈا بردار فورس اور پولیس اہلکار بھی تھے۔ ان کے پیچھے ایک ٹرک تھا جس میں ریڑھیاں اور اٹھایا گیا سامان رکھا گیا تھا۔ ڈنڈا برداروں نے پوری مارکیٹ میں جہاں دیکھا، ٹھیلے والوں کو بھگایا اوردکانوں کوسرکاری حدود کے مطابق پیچھے دھکیلا ۔ ہم دس پندرہ منٹ یہ کام دیکھنے کیلئے رک گئے۔ جیسے ہی بلدیہ کا ٹرک اور اہلکار واپس روانہ ہوئے۔ بند شٹروں کے دھانے کھلے اور کرسیاں ، میزیں واپس فٹ پاٹھ پر آ گئے۔ اور کچھ دیر بعد فوڈ مارکیٹ کی رونقیں بحال ہوگئیں اور پیدل چلنے والوں اور گاڑی پارک کرنے والوں کیلئے مشکلات کے دروازے کھل گئے۔
ہم نے ریڑھی بانوں اورچھابڑی والوں سے بات کی تو ان کا موقف تھا کہ ان (بلدیہ اہلکاروں) کوپیسے وقت پر دیتے ہیں پھر بھی یہ لوگ ایسا کرتے ہیں تاکہ ادارے کو بھی خوش رکھ سکیں۔ ایک ریڑھی کے کئی ہزار مہینے کے لیتے ہیں، رشوت بھی لیتے ہیں اور آپریشن کے نام پر ہمارا سامان بھی لے جاتے ہیں، پھر رشوت اور جرمانہ دے کر واپس لاتے ہیں۔ ریڑھی بان کی بھی درست تھی مگر دوسری جانب یہ مسئلہ بھی سامنے ہے کہ انہی ریڑھی والوں کی وجہ سے راول پنڈی کی تنگ سڑکوں پر ٹریفک جام اور پیدل چلنے والے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔
تجاوزات پاکستان کے ہر بڑے شہر کا مسئلہ ہے، اسلام آباد جیسے منصوبہ بندی سے بسائے گئے دارالحکومت میں بھی وفاقی ترقیاتی ادارے کے اہلکار شہر کے اہم چوراہوں اور مارکیٹوں کے فٹ پاٹھ اور تھڑے باقاعدہ بولی لگا کر ریڑھی والوں کو فروخت کرتے ہیں۔معلوم نہیں یہ مسئلہ کب اور کون ختم کرے گا۔ ایسے کب اور کون کرے گا کہ غریب ریڑھی بان کی روزی روٹی کا چکر بھی چلتا رہے اور سڑک پر گاڑی اور فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والا بھی متاثر نہ ہو۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے