پاکستان

لندن فلیٹس کتنے میں خریدے گئے، چیف جسٹس

نومبر 17, 2016 6 min

لندن فلیٹس کتنے میں خریدے گئے، چیف جسٹس

Reading Time: 6 minutes
پنامہ کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سماعت کی ہے جس کی لمحہ بلمحہ روئداد پیش خدمت ہے۔
میں نے ایک نئی درخواست جمع کروائی ہے ۔طارق اسد
جناب طارق اسد اگر ھم روزانہ کی بنیاد پر نئی درخواستیں وصول کریں گے تو کیس ختم نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس
اگر ایسے چلتا رہا تو مرکزی کیس کا فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔ چیف جسٹس
ہر سماعت پر پانچ سات متفرق درخواستیں آجاتی ییں ۔ چیف جسٹس
سب سے پہلی درخواست میں نے ہی دائر کی تھی۔ طارق اسد
تمام کرپٹ افراد کا احتساب ہونا چاہیئے۔ طارق اسد
ہمیں عدالت سے توقعات ہیں ۔ طارق اسد
توقعات عورتیں کرتی ہیں طارق اسد صاحب۔ جسٹس عظمت
میری اطلاع کے مطابق نیب اور دیگر اداروں نے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی ۔ وکیل جماعت اسلامی اسد منظور بٹ
نیب اور ایف آئی اے نے خود کو فارغ کر دیا ہے۔ چیف جسٹس
کیا نیب اور ایف آئی اے صرف تنخواہیں لینے کے لئے بنائے گئے ہیں ۔ چیف جسٹس
جب کام کرنے کی باری آئی تو ادارے کہتے ہیں کہ معاملہ ھمارے دائرہ کار میں نہئں۔ چیف جسٹس
ایسا لگتا ہے کہ کرپشن کے خلاف نہیں ایک مخصوص شخص کے خلاف درخواست ہے ۔ طارق اسد
درخواست اس وقت حاکم وقت کے خلاف آئی ہے ابتدا انہی سے کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ چیف جسٹس
آپ ھمیں احتساب کی ابتدا تو کرنے دیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ
کیا بنچ میں سے کسی نے کہا کہ ایک کے بعد کسی کا احتساب نہیں ہوگا۔ جسٹس کھوسہ
شاید ھم اس معاملے پر دو مختلف آرڈر جاری کریں جسٹس عظمت سعید
پانامہ لیکس کا اشو آئی سی آئی جے تین اپریل کو سامنے لایا ۔ حامد خان
وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کا نام پانام لیکس میں آیا۔ حامد خان
آئس لینڈ کے وزیر اعظم پانامہ لیکس میں نام آنے پر مستعفی ہوئے۔ حامد خان
نواز شریف نے پانامہ لیکس پر تین بار خطاب کیا عدالت ان تقاریر کا جائزہ لے۔ حامد خان
دوسری طرف سے اعتراض نہ کرنے تک وزیر اعظم کے خطابات پر انحصار کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس
پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نواز شریف کا 5 اپریل کو قومی اسیمبلی سے کئے گئے خطاب کا متن پڑھ کر سنا یا
نواز شریف نے اس خطاب میں لگائے الزامات کو مسترد کیا اور کاروبار سمیت جائیداد کی تفصیل بتائی تھی۔ حامد خان
کس طریقے زوالفقار علی بھٹو سے لے مشرف تک کس طرح ان کے کاروبار اور زات کو نقصان پہنچایا گیا۔ خطاب
پاکستان پیپلز پارٹی نے ھمیشہ ھماری معاشی ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ خطاب کا متن
ھماری کارخانوں کی تمام چمنیاں بند کی گئی ہیں۔۔ خطاب کا متن
نواز شریف کے خطاب میں 18 ماہ میں چھہ فئکٹریاں بنانے کی بات کی گئی جو اھمیت کا حامل ہے ۔ حامد خان
جدہ کی فئکٹریاں فروخت کرکے بیٹوں حسن اور حسین نے کاروبار شروع کیا اور خطاب کا یہ متن عدالت کے لئے اھم ہے۔ حامد خان
کرپشن کرنے والے نہ اپنے نام پر کمہپنیاں بناتے ہیں اور نہ ہی اثاثے۔ وزیر اعظم کے خطاب میں یہ بیاں ھمارے موقف کی تائید کرتا ہے۔۔ حامد خان
وزیر اعظم کے پہلے خطاب میں لندن کی جائیدادوں اور دوبئی سرمایہ کاری کا زکر نہیں ۔ حامد خان
سعودی اثاثے کب بھیجے گئے اور کب لندن میں فلیٹس خریدے گئے اس بارے میں نواز شریف نے جطاب میں حقائق چھپائے ۔ حامد خان
تقریر کے مطابق وزیر اعظم نے جدہ سٹیل مل فروخت کرکے بچوں کو کاروبار کا کہا ۔ جسٹس کھوسہ
وزیر اعظم نے تقریر میں کہاکہ فئکٹریاں بیچ کر بچون کو کاروبار کروایا گیا۔ جسٹس کھوسہ
اس خطاب میں لندن کے فلیٹس کا زکر نہیں۔ جسٹس کھوسہ
حامد خان صاحب کیا وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کے وقت عزیز ھم وطنو کے الفاظ کہے تھے۔ جسٹس کھوسہ
یہ الفاظ فوجی آمر کہتے تھے اس لئے شاید انہوں نے احتیاطا نہیں کہا۔ حامد خان
اس بات پر کمرہ عدالت میں قہقہے
تقریر میں ہے کہ والد نے مکہ میں کارخانہ لگایا جس کے لئے سعودی بنکوں سے قرضہ لیا۔ جس کا تقریر میں زکر نہیں۔ جسٹس کھوسہ
مجھہ پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ بائیس سال پرانے ہیں۔ نواز شریف نے یہ بات اپنی تقریر میں کہی۔حامد خان
وزیر اعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ اگر کمیشن نے قصور وار ٹھرایا تو گھر چلا جائونگا۔ حامد خان
لگتا ہے وزیر اعظم نے یہ عہد خود سے کیا ہے قوم سے نہیں ۔ جسٹس کھوسہ
جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے کونج اٹھا
وزیر اعظم کے تقریر کا یہ حصہ بہت اھم ہے جب انہوں نے کہا ھم سے سب چھین لیا گیا۔ حامد خان
وزیر اعظم نے کہا کہ ھماری جیب میں ایک دمڑی بھی نہیں تھی۔ حامد خان
جو پانامہ لیکس میں الزمات لگائے گئے وہ بائیس سال پرانے ہیں ۔ کیا ملک کسی ادارے نے تحقیقات کیں۔ جسٹس کھوسہ
نواز شریف واضع کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں نے ان پر لگائے گئے الزامات مسترد کئے ۔ جسٹس کھوسہ
کیا ماضی میں وزیر اعظم پر لگائے الزمات کی تحقیقات اور نتائج سامنے ائے۔ جسٹس کھوسہ
کیا ایک بھی الزام پر دوبارہ تحقیق ہوئی تو دوھرا ٹرائل ہوگا ۔ جسٹس عظمت سعید
تقریروں سے تسلی ہوتی تو آپ یہاں نہ ہوتے ۔ جسٹس عظمت
سیاسی خطابات پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں جسٹس عظمت
یہ ایک سیاسی بیان ہے ۔ جسٹس عظمت
اگر وزیر اعظم نے قوم سے خطاب سے میں غلط بیانی کی تو نتائج بھگتنا ہونگے۔ جسٹس اعجاز الحسن
وزیر اعظم نے قومی اسیمبلی کوخطاب میں بتایا کہ 2005 میں جدہ والی فئکٹری فروخت ہوئی۔جس کے دستاویز موجود ہیں ۔ حامد خان
ھم نے اب تک وہ دستاویزات نہیں دیکھیں اور نہ ہی منظر عام پر آئیں۔ حامد خان
وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ یہ وہ زرائع ہیں جس سے لندن کے فلیٹس خریدے۔ حامد خان
وزیراعظم نے نہیں بتایا کہ دوبئی اور جدہ کی سٹیل ملیں فروخت کیں وہ لگائی کب تھیں۔ حامد خان
اس نکتے سے کہانی تبدیل ہورہی ہے ۔ جسٹس عظمت
زرا اس تقریر کو اور آگے پڑھیں کہانی پہر بدلے گی۔ جسٹس عظمت سعید
دوبئی پراپرٹی کی فروخت اور جدہ فئکٹری کی خریداری میں اکیس سال کا گیپ ہے۔ حامد خان
یہ نہیں بتایا گیا کہ دوبئی کی پراپرٹی کیسے خریدی اور کہاں سے پئسہ دوبئی منتقل ہوا۔ حامد خان
جب بھٹو کی جانب سے صنعتوں کو قومیانے کے بعد رقم کہاں سے آئی کہ ازسر نو شریف فیملی صنعتی ریاست کیسے زندہ ہوگئی۔ حامد خان
دستاویز میں جوں 2005 میں سٹیل مل بیچنے کی تاریخ تو ہے لیکنے خریدنے کی تاریخ نہیں۔ حامد خان
نواز شریف نے کہا ہے کہ دوبیٹے بیرون ملک ہیں جہاں کاروبار کرتے ہیں ۔۔لیکن ان کے کاروبار کی تفصیل نہیں دی۔ حامد خان
آپ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ کیس آگے نہ چلیں۔ جسٹس عظمت کا حامد خان سے مکالمہ
کیا وزیر اعظم کے بیانات پر ھم حتمی نتیجہ اخز کر سکتے ہیں ۔ جسٹس عظمت
کسی شخص کی پوری زندگی کی سکروٹنی نہیں کر سکتے ۔ جسٹس کھوسہ
ٹھوس ثبوت دین کہ کیا وزیر اعظم نے لندن میں بلیک منی کے زریعے فلیٹس خریدے۔ چیف جسٹس
خیال کریں کی ٹرائل کورٹ میں شق کا فائدہ ملزم کو جات ہے چیف جسٹس
یہ ٹرائل کورٹ جیسا ٹرائل نہیں کہ شق کا فائدہ ملزم کو چلا جائے۔ حامد خان
ھم اس کئے کہہ رہے ہیں کہ ٹھوس دستاویزات دیں جس سے کمیشن تشکیل دین۔ چیف جسٹس
جو کمیشن بنانا ہے اس کو یہ ثابت کرنے دیں۔ چیف جسٹس
دونوں فریق کہتے ہیں کہ لندن فلیٹس آف شور کمپنیوں کے تحت خریدے گئے۔ جسٹس شیخ عظمت
دوسری طرف سے کھلم کھلا موقف آیا ہے کہ فلیٹس حسین نواز کہ ہیں۔ جسٹس عظمت سعید
وزیراعظم کی فیملی کی جانب سے کہا گیاہے گلف میں گلف سٹیل مل بنائی ۔ قرضے لئے۔ قطری فیملی کے ساتھ سرمایہ کاری کی ۔ جسٹس شیخ عظمت
جوائنٹ بزنس وینچر کے تحت لندن کے فلیٹس خریدے گئے۔ جس کی ٹرسٹی مریم نواز ہے۔۔جسٹس عظمت سعید
اگر وزیر اعظم کے بچوں کا موقف ثابت ہو جاتا ہے تو آپ کو دعوی فارغ ہوگیا ۔۔حامد خان صاحب۔۔ جسٹس عظمت
اب یہ آپ کا کام ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے دستاویزات دیکھیں اور ثابت کریں کے ان کا دعوی جھوٹا ہے ۔ جسٹس عظمت
نواز شریف اور ان کے بچوں کے بیانات دیئے گئے ہیں۔لیکن ھمیں بتائیں کہ منی ٹریل میں کیا تضاد ہے۔ جسٹس اعجاز الحسن
کم از کم میری تو سمجھ نہیں آتا کہ اس معاملے کی تحقیقات کیسے کرینگے۔ چیف جسٹس
جب فلیٹس خریدے گئے تو ان کی مالیت کیا تھی۔ چیف جسٹس
حامد خان صاحب اگر آپ دستاویزات دیکھیں گے تو انہی سے پتہ چلے گا۔ کہ کوئی فنانشل اشو اٹھا تھا ۔ جسٹس عظمت سعید
جو دستاویزات جمع کرائی گئی ہیں ان سے فلیٹس کی قیمتوں کا اندازہ نہیں ہوتا۔ جسٹس عظمت
ھمارے وزیر اعظم پر الزام ہے اس کو درست یا غلط تو ثابت کرنا چاھیئے۔ جسٹس کھوسہ
شھباز شریف ۔ حسین نواز اور نواز شریف ان فلئٹس کو کیسے ثابت کرتے ہیں جسٹس عظمت
جس پراپرٹی کی بنیاد پر کاروائی کروانا چاھتے ہیں وہ کس کی ملکیت ہے اور اس کی ویلیو کیا ہے۔۔ چیف جسٹس
میں یہاں ظفر علی شاہ کیس کا حوالہ دینانچاھتا ہوں ۔ نعیم بخاری
اگر آپ ظفر علی شاہ کیس کا حوالہ دے رہے ہیں تو پہر ھمیں فل کورٹ تشکیل دینا ہوگا۔۔ چیف جسٹس
 لندن فلیٹس کتنے میں خریدے گئے، چیف جسٹس
کیا تحریک انصاف کا تمام انحصار متضاد بیانات پر ہے؟ چیف جسٹس
کیا مفروضے کے تحت مان لیں کہ لندن فلیٹس 1999 سے قبل خریدے گئے؟ چیف جسٹس
اب سماعت تیس اور یکم دسمبر کو بھی ہوگی
Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے