ثبوت دیکھے بغیر

عدالتیں اب ایسا تو نہیں کر سکتیں کہ سائل درخواست لے کر آئے جس میں ملک کے وزیر اعظم  کو چور ،ڈاکو، لٹیرا وغیرہ کہا گیا ہو، عدالت ان الزامات کے ثبوت دیکھے بغیر حکومت کے سربراہ کو تختتے پر لٹکانے کا حکم دے دے، مانا کہ قانون اندھا ہوتا ہے،،اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ کاغذ کے چند صفحات پر لکھے قانون کی سطروں کو انسانی آنکھیں یا وڈیو کیمرے کی آنکھ لگا دی جائے،،قانون کی بھلے آنکھیں نہیں ہوتیں لیکن قانون میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ اپنا راستہ بناسکے، وہ راستہ کیا ہے یہ عدالت طے کرتی ہے، قانون کا اطلاق درست نہیں ہوا تو اسکا ذمہ دار قانون نہیں،،اس موضو ع پر الگ سے بحث کی جا سکتی ہے،،ہمارے عدالتی نظام میں واقعات،حالات ،الزامات کے بعد شواہد، قانون اور آئین کا جائزہ لے کر ججوں کو فیصلے کا اختیار ہوتا ہے، اب اگر قانون کو ہی آنکھی بخش کر فیصلے کرانے تھے تو پھر اس کام کے لیے ججوں کو رکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔

سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے مقدمہ میں تحریک انصاف اپنے وکلاء کی کارکردگی سے بظاہر مایوس نظر آتی ہے، تحریک انصاف کی مایوسی اپنی جگہ مگر سوال یہ ہے کہ پانامہ کے مقدمے میں وکلاء کے دلائل کمزور ہیں یا خود مقدمہ، مدعی مقدمہ وکیل کو ثبوت فراہم  نہ کرے تو کیا وکیل خود الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد کی تلاش میں نکل پڑے، عدالتی  کارروائی میں سامنے آیا کہ شریف خاندان نے عمران خان کے الزامات کو مسترد کیا اور حسین نواز نے ڈنکے کی چوٹ پر تسلیم کیا کہ لندن کے فلاٹس 2006 سے ان کی ملکیت ہیں،  شریف بچوں کا موقف ریکارڈ پر آجانے کے بعد عدالت عمران خان کے وکیل حامد خان کو کہہ رہی ہے کہ جو الزامات لگائے گئے ہیں انکے ٹھوس شواہد فراہم کیے جائیں،،جن کی روشنی میں پانامہ لیکس معاملہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے،،ایک طرف عدالت شواہد مانگ رہی ہے تو دوسری جانب حامد خان عدالت کو اخباری تراشوں اور وزیراعظم کے بیانات پڑھ کر سناتے رہے،،جس پر عدالت کو کہنا پڑا کہ اخباری تراشے ثبوت نہیں ہوتے،،نہ اخباری تراشوں پر کسی کو پھانسی پر چڑھایا جا سکتا ہے ،،اخبار پرانا ہو جائے تو ثبوت نہیں اس میں پکوڑے بکتے ہیں،عدالت بار بار کہہ رہی شواہد دیے جائیں کہ وزیر اعظم نے لندن کی جائیدادیں کالے دھن سے خریدیں ،،اس ساری صورتحال میں بے چارا وکیل کیا کرے جب اس کو مدعی عمران خان نے ایسا ثبوت دیا ہی نہیں جس کی عدالت عظمی طلب گار ہے، خیر اب پانامہ لیکس کیس میں جہاں تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کی تبدیلی کی باتیں چل نکلی ہیں تو دوسری جانب عمران خان لندن فلیٹس کی 1996 کی ملکیت کے ثبوتوں کی تلاش میں ہمراہ شیخ رشید برطانیہ کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں، ان سے کون پوچھے اگر ثبوت لانے کا کام باقی تھا تو درخواست پہلے کیوں دائر کر دی گئی،،یہ الگ بات ہے کہ برطانیہ روانگی سے قبل وی آئی پی کلچر کے مخالف عمران خان نے وی آئی پی راول لاونج کا استعمال کیا ،اللہ کامیابی نصیب کرے۔

قطع نظر اس بات کے کہ پانامہ لیکس کی عدالتی کاروائی کس کروٹ بیٹھے گی،،ناقدین کہہ رہے ہیں کہ اخباری خبروں پر از خود نوٹس لینے والی عدالت تحریک انصاف کے اخباری شواہد کو برا بھلا کیوں کہہ رہی ہے،عدالت نے ایسا کیوں کہا کہ اخبارات پرانے ہو جائیں تو اس میں پکوڑے بکتے ہیں،،تھوڑا بہت دکھ ہماری اپنی صحافی برادری کو بھی ہے ،،جن کا یہ موقف ہے کہ اخباری خبر پر حکومت نے ایگزیٹ گروپ کے خلاف کاروائیاں کیں،،یہ موقف دینے والے آدھی بات کرتے ہیں، اخباری خبر پر حکومت نے کسی کے خلاف ایکشن لیا تو اس سے عدالت کو تعلق کیا ہے ،،حکومت نے اخباری تراشے پر ایگزیٹ کے خلاف کاروائی عمل میں لائی تو اسکا حتمی نتیجہ کیا نکلا،،کیا عدالت نے ایگزیکٹ کے مالک شعیب شیخ کو پھانسی پر لٹکا دیا یا رہائی دی، کیا عدالت نے اخباری خبر پر ایگزیکٹ کو ہمیشہ کے لیے تالے لگانے کا حکم دیا یا پھر ایگزیکٹ کے دفاتر ایف آئی اے کو خالی کرنے کا کہا،،کیا عدالت نے ایگزیکٹ کا بول ٹی وی لا ئسنسن منسوخ کر دیا یا بحال کیا، جہاں تک اخباری تراشوں پر سپریم کورت کی جانب سے از خود نوٹس لینے کا معاملہ ہے تو تنقید کرنے والے بتائیں، وہ کونسی خبر ہے جس پر عدالت نے از خود نوٹس لیا ہو اور متعلقہ اداروں یا تحقیقاتی اداروں کی انکوائری رپورٹ کے بغیر احکامات جاری کیے ہوں، دانشوروں کی ایک کھیپ ایسی بھی ہے جس کا موقف ہیں کہ  الزامت کی روشنی میں عدالت کو ثبوت مانگنا غلط ہے،،عمران خان نے الزامات لگائے ہیں تو عدالت فوری طور شریف فیملی کے خلاف کو پھانسی پر لٹکا دے،،بندی ان عقل کےاندھوں سے پوچھےاگرمحض الزامات، اخباری تراشے، شریف فیملی کے بیانات میں تضاد، کتاب  سب ثبوت ہیں تو ایسے دانشوروں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سپریم کورٹ میں دو درخواستیں مسلم لیگ نون کے رہنما حنیف عباسی کی بھی پڑی ہے  جن میں عمران خان  اور جہانگیر ترین کے خلاف سنگین الزامات لگائے گئے ہیں،درخواستوں میں عمران خان اور جہانگیر ترین  کو ٹیکس چور- منی لانڈرز – جھوٹا اور ان سے آف شور کمپنیاں منسوب کی گئی ہیں، ایسے دانشور حنیف عباسی کی درخواستوں پر بھی انہی پیرامیٹرز پر  عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف فیصلہ کیوں مانگتے جن اصولوں پر شریف فیملی کے خلاف مانگ رہے ہیں۔

حققیت یہ ہے کہ ہمارے نظام عدل میں متعدد قانونی سقم اور جھول موجود ہیں، مقدمہ میں کہیں شک و شبہ ہو تو فائدہ ملزم کو ملتا ہے ،ہمارے نظروں کے سامنے سپریم کورٹ سے قتل، زنا، ڈکیٹی کے ملزم محض ناقص تفتیش، شواہد میں شک و شبہات پر بری ہو جاتے ہیں،عدلیہ جس کے ہاتھ قانون اور آئین  کی رسی میں بندھے ہیں، ہر ایسے مقدمے میں ناقص تفتیش اور کمزور پراسیکیوشن پر آبزرویشن دے دے کر تھک گئی ہے لیکن کسی متعلقہ حکام  اور حزب اقتدار کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی اور رینگے گی بھی کیوں،کیونکہ فائدہ اسی میں ہے کہ اداروں میں جمود  طاری رہے ،،چیزیں جیسے چل رہی ہیں ویسے چلتی رہے،،،سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف ریاست نے کمر بستہ ہو کر ہر ممکن زور لگایا لیکن کیا ملا،اصف زرداری پر کرپشن کے الزامات ثابت نہ ہو سکے، یہاں تو حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے خلاف ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف کرپشن کے الزامات عائد کر رہی ہے جو کی طرح بھی ریاست کے مترادف تو کیا برابر بھی نہیں۔

تحریک انصاف موجودہ دور میں پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے،جس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ الزامات کی سیاست سے بہتر ہے عوام کے بنیادی ایشوز(غربت،بے روزگاری،صحت،تعلیم،صاف پانی کی دستیابی) پر سیاست کی جائے،، سیاسی ایشوز کو عدلیہ کے قبرستان میں دفن کرنے کی کوشش میں خود کو دفن نہ کرے، تحریک انصاف کو ملک کے نظام میں کمزروریاں دکھائی دیتی ہیں اور ان کو تحریک انصاف تبدیل کرنا چاہتی تو آئینی ،قانونی اور بہتر راستہ یہی ہے کہ نظام کے اندر راہ کر اس کو بدلا جائے، ضد کو چھوڑکر یہ بھی سمجھنا جانا چاہیے کہ پاکستان کی پارلیمان کسی کی ذاتی جاگیر یا باندی نہیں،،یہ عوام کا ادارہ ہے جہاں عوام اپنے  نمائندوں کو منتخب کرکے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بھیجتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button