تضادا ت و بیانات

پانامہ لیکس کی تحقیقات اس وقت سب سے بڑا موضوع ہے۔ اس معاملے پر ملک میں سیاسی اور عدالتی محاذ گرم ہے، تحریک انصاف کہہ رہی ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں نے لندن اپارٹمنٹس کی ملکیت اورآف شور کمپنیوںکے بارے میں جھوٹ بولا۔ درخواست گزاروں کا مقدمہ یہ بھی ہے کہ شریف خاندان کے بیانات میں تضاد اور صاف نظر آرہا ہے ۔ دوسری جانب نواز شریف اور ان کے بچوں نے سر دست تحریک انصاف کے تمام تر سنگین الزامات کو جھوٹ،بے بنیاد اور نا قابل قبول قرار ددیاہے ۔ دونوں میں کون سچا ہے کون جھوٹا، یہ فیصلہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔
واصف علی واصف ایک جگہ لکھتے ہیں ًایک دوست نے دوسرے دوست سے سوال کیا کہ تم نے پہلا جھوٹ کب بولا،سوال پر دوسرے دوست نے جواب دیا کہ جب اس نے یہ اعلان کیا تھا وہ ہمیشہ سچ بولے گا،واصف علی واصف لکھتے ہیں کہ سچ اور جھوٹ ہماری زندگی میں اس قدر شیروشکر ہوگئے ہیں کہ ان کی پہچان کرنا آسان نہیں رہا ۔ حضرت واصف نے اپنی کتاب میں دو دوستوں کے درمیان جس واقعہ کا ذکر کیا ہے ،اس طرح کا اعلان اکتوبر 2011 میں لاہور کے منٹو پارک میں لاکھوں کے مجمعے کے سامنے عمران خان نے بھی کیا تھا ۔ عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمیشہ سچ بولیں گے۔
بات چل رہی تھی پانامہ سے برپا ہنگامے کی،اپریل 2016 میں میڈیا میں پانامہ پیپرز کے ذریعے دوسرے ممالک کے علاوہ ہمارے ملک کے سینکڑوں بااثر،با اختیار،سیاسی و غیر سیاسی شخصیات کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا ،جس میں ملک کے وزیر اعظم کے بچوں حسین نواز اور مریم نواز کا نام بھی شامل تھا۔ پانامہ لیکس سے سیاسی و قانونی حلقوں میں زلزلہ آیا۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظمنے اسی تنازعے کی وجہ سے مستعفی ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھی اپنے والد کی آف شور کمپنی کے بارے میں پارلیمنٹ میں وضاحت دینا پڑی۔
پانامہ پیپرز کے انکشاف کے بعد وزیر اعظم نوازشریف اور ان کے خاندان کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہہ دیا کہ آف شور کمپنیاں بنایا غیر قانونی ہے ،انہوں نے نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دولت لوٹ کر لندن میں مہنگے فلاٹس خریدنے پر وزیر اعظم قوم کو جواب دیں۔ نواز شریف سے آف شور کمپنیوں پر جواب دہی سیاسی،سماجی اورقانونی حلقوں کا مشترکہ مطالبہ بن گیا ۔ وزیر اعظم نے 5 اور 22 اپریل کو پانامہ لیکس کے معاملے پر قوم سے خطاب میں لندن کی جائیدادوں پر وضاحت پیش کیں اور تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا جو اپوزیشن نے مسترد کر دیا۔
اپوزیشن کے مطالبے پر نواز شریف نے قومی اسمبلی میں اپنے اثاثوں پر تفصیلی خطاب کیا ۔ اسی دورانجن پانامہ پیپرز پر شریف خاندان پر تنقید ہو رہی تھی اور وضاحت مانگی جا رہی تھی نیا انکشاف سامنے آیا ۔ صحافیوں کے کنسورشیم نے خبر دی کہ عمران خان اور جہانگیر ترین بھی آف شور کمپنیاں بنانے والوں میں شامل ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہہ دیا کہ انکی بنائی آف شور کمپنی قانونی تھی جوبرطانیہ میں ٹیکس بچانے اور ذاتی فلیٹ خریدنے کے لیے بنائی گئی تھی۔
قطع نظر نظر تمام باتوں کے، ہر باشعور یہ سمجھتا ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کے قوم اور قومی اسمبلی کے تینوں خطابات میں متعدد تضاد ہیں۔ حسین نواز،حسن نواز اور مریم نواز کے برطانیہ کی جائیدادوں کے بارے میںبیانات میں بھی فرق ہے،محترمہ کلثوم نواز کا بیان الگ داستاں بیان کرتا ہے،شریف فیملی کی جانب سے عدالت عظمی میں قطری شہزادے کے خط کے ساتھ جو موقف پیش کیا گیا ہے اس سے شریف فیملی کے بیانات پر شک و شبہات مزیدبڑھ گئے ہیں۔
تحریک انصاف جو پانامہ پیپرز کے معاملے پر عدالت عظمی سے رجوع کر چکی ہے ،الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد فراہم کرنا اس کی ذمہ داری میں بھی شامل ہے۔ تحریک انصاف اگر اپنی اس ذمہ داری میں ناکام بھی ہوتی تو عدالت کی زمہ داری ہے کہ حکمران جماعت سے ان کے بیانات میں موجود سقم پر جواب طلبی ضرور کرے تا کہ سچ اور جھوٹ عوام پر واضح ہو جائے ۔ نواز شریف نے قومی اسمبلی کے بیان میں دوبئی مل کی قیمت فروخت 33 ملین درہم بتائی جبکہ وزیر اعظم کے بیٹے حسین نواز نے 25 فیصد حصص کی قیمت 12 ملین درہم بتائی ہے ۔ نواز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا کہ دوبئی مل کا پیسہ جدہ کی فیکٹری کے قیام میں بنیادی سرمایہ تھا،حسین نواز کا کہتے ہیں کہ دوبئی مل کے پیسے سے قطر میں سرمایہ کاری کی جس کے منافع سے میں لندن کے فلیٹس ملے،شریف خاندان اپنے مختلف بیانات میں تسلیم کر چکا ہے کہ دوبئی، قطر، جدہ سے سرمایہ کی منتقلی مروجہ طریقہ کار کے مطابق ہو ئی،اگر ایسا ہی ہے تو تمام رقم کی ایک ملک سے دوسرے میں منتقلی کا بنک ریکارڈ بھی موجود ہو نا چاہیے۔
ان تمام سوالات کے باوجود تحریک انصاف کو بھی ثبوتوں کی فراہمی سے بری الذمہ قرارنہیں دیا جا سکتا ،عمران خان اپنے جلسوں میں پانامہ پیپرز کے ثبوت لہراتے رہے ہیں،اب شواہد کی تلاش میں شیخ رشیدکے ہمراہ برطانیہ پہنچ چکے ہیں،وہاں پہنچتے ہی انہوں نے بیان داغ دیا کہ سپریم کورٹ کوثبوت فراہمی ذمہ داری نہیں ۔ عمران خان سے بھی سوال ہونا چاہیے کیا ان کی ذمہ داری صرف الزامات عائد کرنے کی حد تک ہے،جیسا کہ عام انتخابات 2013 میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے تھے،جلسے جلوسوں میں عمران خان نے دھاندلی کے ثبوتوں کو لوگوں کو لہرا کر دکھایا،لیکن جب جوڈیشل کمیشن بنا تو تمام شواہد ٹھس ہو گئے، عمران خان نے 35 پنکچرز کے بیان کو بھی سیاسی قرار دے دیا ،دلچسپ بات یہ ہے کہ ثبوتوں کی تلاش میں برطانیہ پہنچے عمران خان کہہ رہے ہیں کہ عدالت کو ٹھوس دستاویز کی فراہمی ان کی ذمہ داری نہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کہہ رہے کہ تحریک انصاف کے پاس پانامہ پیپرز کی کمی نہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انہوں نے الزام لگایا ہے تو ٹھوس دستاویز کی فراہمی ،جس کا مطالبہ عدلیہ بار بار کر رہی ہے ان کی بنیادی ذمہ داری ہے ،وہ اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرینگے تو وہی ہو گا جو انتخابی دھاندلی انکوائری کمیشن میں ہوا۔ ثبوت نہ دینے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات پر ملی رسوائی دوبارہ تحریک انصاف کو مقدر بن سکتی ہے۔ اس صورت میں عمران خان کو ایک بار پھر کہنا پڑ سکتا ہے کہ پانامہ لیکس پر ان کے بیانات سیاسی تھے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو اپنے بیانات کو سیاسی کہنے سے پہلے خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اکتوبر 2011 کو منٹو پارک میں عوام سے وہ کیا وعدہ کر چکے ہیں؟۔ کیا وہ وعدہ وفا ہوا، ریحام خان بھی اپنے ایک بیان میں انکشاف کر چکی ہیں کہ ان کاعمران خان سے نکاح 8 جنوری 2015 کو نہیں بلکہ 31 اکتوبر 2014 کو ہوا تھا،واضح رہے کہ عمران خان اکتوبر 2014 میں ریحام خان سے نکاح کی سختی سے تردید کر تے رہے ہیں، متضاد اور غلط بیانات پر نواز شریف کی نا اہلی کا سوال اٹھتا ہے تو عمران خان بھی عوامی نمائندے ہیں ۔ یاد رہے قانون کا اطلاق تو سب پر برابر ہوتاہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے