بے بسی !

اے عزیز ! جان سے پیارے عزیز ! میں تقدیر سے نصیب پر مناظرہ کر سکتا ہوں۔ میں زمانے کے گریباں کے بٹن گن سکتا ہوں۔ میں اس میں کھڑے انسان کی نگاہوں کے رستے اپنے لفظوں سے داخل ہو کر، اس کے دل و دماغ پر دستک ہی نہیں دے سکتا بلکہ لات مار کر اس کی دہلیز کو لرزا سکتا ہوں۔ میں فکر سے اس کی اوسط عمر پوچھ کر اسے اپنی ہی فکر میں مبتلا کر سکتا ہوں۔ میں ضمیر کو اس کے خمیر کے سوالات میں الجھا کر پریشان کر سکتا ہوں۔ میں نفس کو اس کی نفسانیت کے پیچ و خم میں مبتلا کرکے محو حیرت کر سکتا ہوں۔ میں دل سے یہ کہہ کر اس کا انکسار چھین سکتا ہوں کہ کون کافر ہے جو تیری دھڑکن کا طلب گار ہو۔ میں دماغ کو کومے کا حوالہ دے کر اس کی عیاری کو تگنی کا ناچ نچا سکتا ہوں۔ میں حافظے کو ایک پھونک سے اس کی کل متاع سے محروم کر سکتا ہوں۔ میں لا شعور کا گریبان پکڑ کر اسے ہکا بکا کر سکتا ہوں۔ میں شعور کی ذہنی اور وجودی دونوں حیثیتوں کو گول گول گھما سکتا ہوں۔ میں عقل کو فقط ایک آیتِ لاریب سے محو تماشائے لبِ بام کر سکتا ہوں۔ میں جنوں اور خرد کو سرور کے جام پلا کر عشق کی میز پر بٹھا سکتا ہوں مگر ! مگر اے عزیز ! میں اس عہد کے مسلماں کے دل و دماغ کے بیچ کے فاصلے کو نہیں پاٹ سکتا کہ یہ اپنے مقام تبدیل کر چکے۔ دل سینوں کے بجائے کھوپڑیوں میں دھڑک رہا ہے اور دماغ ٹخنوں پر پہنچ کر تحت الثریٰ کا پتہ پوچھ رہا ہے۔ میرے عزیز ! میری بے بسی سردیوں کی وہ شام بن چکی جو ٹھنڈ سے ٹھٹر رہی ہے اور کہیں بھی کچھ کر گزرنے کی حرارت ڈھونڈے سے نہیں ملتی جو اسے گرما سکے۔ چہار سو ویرانی کا یہ عالم ہے کہ وہ ساقی بھی دور دور تک نظر نہیں آتا جس کا جام بیرون نہ سہی اندرون ہی گرما دے اور جناب شیخ فتویٰ لہرائیں تو یہ کہہ کر جان چھرا لوں ؎

خطا میری نہ تھی زاہد ! غلط فہمی تھی ساقی کی
وہ بھر کر جام لے آیا، میں کہتا رہ گیا ، "لا،لا”

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے