جٹ شناسی !

میرے جگری یاروں میں سے ایک "جٹ” ہیں، انہوں نے کل کال کرکے آج شام چائے پر بلایا۔ عرض کیا۔
 
"گاڑی ہے نہیں اور ٹیکسی کا یارا نہیں”
 
فرمانے لگے۔
 
"کوئی بات نہیں میں لینے بھی آجاؤں گا اور واپس چھوڑ بھی دوں گا”
 
میں نے سوچا گڈ ! ویری گڈ ! اس کا تو مطلب ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی ایسے ہی ہوں گے۔ چلو اس چائے پر جٹوں کو ذرا تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ آج شام لینے آگئے۔ ان کے ڈارائنگ روم میں بیٹھ کر میں نے پہلا سوال داغا۔
 
"میں ایک وقت میں صرف تین جگری یار رکھتا ہوں، ان میں سے ایک جٹ ہے تو اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ جٹ بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ تم یہ بتاؤ کہ جٹوں کے بارے میں پنجاب کی دیگر اقوام کی کیا رائے ہے ؟”
 
میرا یار بڑا ہی صاف گو واقع ہوا ہے فرمایا۔
 
"ایک بار ایک جٹ نے یہی سوال پنجاب میں ایک دوسری قوم کے نمائندے سے پوچھا تو اس نے جواب دیا، تم جٹ بھوکے ہوتے ہو تو ہمیں لوٹ لیتے ہو اور پیٹ بھرا ہو تو ہمیں مارنے لگتے ہو، تم جٹوں سے ہم کسی بھی حال میں محفوظ نہیں !”
 
میں سوچنے لگا، یار ! میاں صاحب تو گئے کام سے ! اگر ناراض رکھیں گے تب بھی خیر نہیں اور خوش رکھیں گے تب بھی امن نہیں ! پھر یکا یک خیال آیا کہ میرے اس یار نے تو کبھی نہ مجھے لوٹا اور نہ ہی مارا، امید رکھنی چاہئے کہ باجوہ صاحب بھی ایسے ہی ہوں گے۔ میں نے اگلا سوال داغتے ہوئے پوچھا۔
 
"تم جٹ لڑاکے ہوتے ہو یا صلح جو؟”
 
فرمایا۔
 
"اس حد تک لڑاکے ہوتے ہیں کہ اکثر پرائی لڑائی میں کود پڑتے ہیں۔ ان دونوں کی صلح ہو جاتی ہے اور ہم مفت میں ایک نیا دشمن بنا بیٹھتے ہیں”
 
او تیری خیر ! اس کا تو مطلب ہوا کہ باجوہ صاحب میاں صاحب اور خان صاحب کی لڑائی میں ضرور کودیں گے۔ بس اللہ کرے یہ خان صاحب کو ہی دشمن بنا بیٹھیں۔ میں نے تیسرا سوال داغا۔
 
"تم جٹوں کی جنگی حکمت عملی کیا ہوتی ہے ؟”
 
فرمایا۔
 
"ہم جٹ فصل دیکھ کر جنگی حکمتِ عملی بناتے ہیں”
 
میں نے حیرت میں ڈوبتے ہوئے پوچھا۔
 
"وہ کیسے ؟ ؟ ؟”
 
فرمانے لگے۔
 
"ہم دیکھتے ہیں کہ اس سال دشمن کی فصل اچھی ہو رہی ہے یا بری ؟ اگر اچھی ہو رہی ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ اس سال ضرور ہم پر حملہ کرے گا۔ چنانچہ ہم اس کی فصل کا کباڑا کرنا واجب سمجھ لیتے ہیں تاکہ یہ حملے کے لائق ہی نہ رہے”
 
واؤ ! زبردست کیا بہت ہی زبردست ! سنا ہے آج کل بھارت کی فصل (معیشت) بہت اچھی ہو رہی ہے !

متعلقہ مضامین