عمران خان کے خیر خواہ

پانامہ کے ہنگامے کے باعث سپریم کورٹ نگاہوں کا مرکز ہے ۔ عدالت عظمی سے زیر سماعت آئینی، قانونی، مفاد عامہ اور قومی مفاد کے مقدمات کو خبر کی شکل صورت میں ڈھالنا حد درجہ ذمہ داری کا کام ہے۔ رپورٹر کی ذرا سی بے احتیاطی،غیر ذمہ داری معاملہ کو توہین عدالت میں تبدیل کر سکتی ہے۔ جس کے ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید یا تا بر خاست عدالت کی سزا ہو سکتی ہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی سوئس حکام کو خط نہ لکھنے پر عدالت عظمی نے توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا تو انہیں بھی تا برخاست عدالت کی سزا سنائی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نگاہ مرکز بنی تو رپورٹنگ کی ذمہ داریوں میں بندھے رپورٹرز کی اہمیت بھی اپنے دفاترز میں  پہلے سے بڑھ گئی۔ پانامہ پیپرز کا مقدمہ عمران خان اور موجودہ حکمران خاندان کے درمیان ہے۔ سپریم کورٹ کے رپورٹرز کے پانامہ لیکس معاملہ پر اپنی رپورٹنگ سے عوام کو اپنی ایکسکلوسیو اور بریکنگ خبروں کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ کی صورتحال عوام کو آگاہ کر رہے ہیں۔ کیس کی آخری سماعت کے دوران چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل حامد خان نے جس انداز سے مقدمہ کو پیش کیا اس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیا آبزریویشن دی۔ تحریک انصاف کی شواہد پر مبنی دستاویز پر عدالت نے کیا کہا۔ سپریم کورٹ سے وابستہ رپورٹرز نے ہر قانونی دلیل اور دوران سماعت دلچسپ مکالموں  سے عوام کو آگاہ رکھا۔ پانامہ پیپرز کیس سماعت میں رپورٹ ہوئے ججز کے ریمارکس کی وجہ سے سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں پرانے اخبار میں پکوڑے بکنے کے چرچے بھی عام ہیں۔ خیر حامد خان پانامہ کیس میں عمران خان کی وکالت سے الگ ہو چکے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف نے پانامہ پیپرز پر پارٹی ترجمان کی نئی ٹیم تشکیل دی تو ترجمان فواد چوہدری کے بھائی فیصل چوہدری نے عدالت عظمی میں صحافتی ذمہ داریاں سر انجام دینے والے صحافیوں کی عمران خان سے ملاقات کا انتظام کیا۔ ملاقات کے پس پردہ کیا مقاصد ہو سکتے ہیں۔ کوئی تھے بھی یا نہیں یہ تو خدا جانتا ہے چونکہ فیصل چوہدری کی سپریم کورٹ رپورٹرز سے دوستی ہے تو سب ملاقات کو تیار ہو گئے۔
عمران خان سے ملاقات کے لیے مقررہ وقت پر انکی رہائش گاہ بنی گاہ پہنچے تو کپتان نے زیادہ انتظار نہیں کرایا۔ خان صاحب نے آتے ہی کہہ دیا "آج کوئی تقریر نہیں کرونگا دھرنے کے دوران اتنی تقریریں کیں کہ عادت ہو گئی، گھر مہمان  ملنے آئے تو انہیں بھی تقریر سنا دی” صحافی بھائیوں سے انفارمل گفتگو ہوگی، چاہے تو دوران ملاقات کی گفتگو کوخبر بنا سکتے ہیں، یہ کہنے کے بعد عمران خان ضرورت سے زیادہ انفارمل ہو گئے اور وہاں موجود صحافیوں سے سوال کیا مجھے یہ بتائیں آپ میں کون کون یہ سمجھتا ہے پانامہ لیکس کا مقدمہ ہم جیت چکے ہیں یا پانامہ پیپرز کا فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا، جس کا جواب ہاں میں ہاتھ کھڑا کرے۔ سوال کے بعد صحافیوں کی خاموشی اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے انداز نے خان صاحب کو مقدمہ کا فیصلہ بتا دیا ۔ پھر خان صاحب بولے میں تو اتنی جلدی ہمت نہیں ہارتا۔
عمران خان سے ملاقات تیس سے پنتیس منٹس جاری رہی۔ صحافیوں کے سوالات پر عمران خان جواب دیتے رہے۔ خاکسار نے بھی موقع کا فائدہ اٹھا کر دو سوال داغ دیے، سوال یہ تھا خان صاب سابق صدر زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات سالوں سے چلتے رہے۔ ریاست بھی آصف علی زرداری کے خلاف بد عنوانی کے اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکی، کیا بطور ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف حکمران خاندان کے خلاف اپنے الزامات کو ثابت کر پائے گی؟ ایک سیاست دان کی سیاست کا انحصار سیاسی و دیگر ایشوز پر ہو تا ہے، تحریک انصاف کا چیئرمین سیاسی ایشوز کو عدالت میں کیوں دفن کر رہا ہے۔
سوال کا ٹو دی پوائنٹ تو جواب نہ آیا لیکن عمران خان نے روایتی انداز میں کرپشن کے الزامات  کی پٹاری کھول دی کہا کہ  پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، قرض پر قرض لیا جا رہا ہے کیونکہ ملک چلانے کے لیے پیسہ نہیں ہے۔ تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے لیے ملک کے پاس وسائل نہیں۔ تھرڈ ورلڈ ممالک اور ترقیاتی یافتہ ممالک کے درمیان فرق صرف کرپشن کا ہے۔ میری طرح دوسرے صحافیوں کے سوالوں پر خان صاحب کا جواب روایتی تھا، ملاقات کے اختتام پر خان صاحب نے پانامہ لیکس کے مقدمہ کی قسمت پر ان الفاط میں تبصرہ کیا "میں( عمران خان) کیا کر سکتا ہوں۔ ہم نے اپنا کام کر دیا ہے۔عدالتی نظام ڈلیور نہ کرے تو کیا کر سکتے ہیں”۔ کپتان نے کہا سیاسی طور پر مقدمہ جیت چکے ہیں ہمارا مقصد نواز شریف کا جھوٹ ثابت کرنا تھا، وہ کر دیاعدالت جو فیصلہ دے گی قبول ہو گا۔ مقدمہ ہارے تو الیکشن کی تیاری کروں گا۔
اس تحریر کا مقصد یہ بتانا ہے وہ لیڈر جو صحافیوں سے ملاقات کے آغاز پر کہہ رہا تھا کہ وہ ہار نہیں مانے گا۔ آدھے گھنٹے کی ملاقات  کے اختتام پر کہہ رہے تھے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں، ریاستی وسائل انکے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور ایف بی آر ان کے پیچھے پڑا ہے۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ عمران خان صحافیوں کے سامنے اپنی لیگل پوزیشن پر قلیل وقت میں سرنڈر کر گئے، لیکن جب چیئرمین تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کے معاملہ کو  پارٹی کے سامنے رکھا تھا تو پارٹی اراکین اپنے چیئرمین کو اس بات پر قائل کیوں نہ کر پائے کہ سیاسی ایشو کو عدالت لیجانا مفید نہ ہو گا۔ ہمارے نظام انصاف میں موجود سقم کی وجہ سے بڑے بڑے مگرمچھوں کے خلاف بد عنوانی کے الزامات ماضی  میں بھی عدالتوں میں ثابت نہیں ہو سکے۔
اب عمران خان عدالتی فیصلہ خلاف آنے پر 2018 کے انتخابات کی تیاری کی بات کر رہے ہیں۔ عام انتخابات 2013 میں دھاندلی کے الزامات پر حکومت وقت کو کپتان کے سوچ و بچار سے عاری انداز سیاست کی وجہ سے کلین چٹ مل چکی ہے، جس پر عدالت عظمی کے تین ججوں کے کمیشن کا ٹھپہ لگا ہے ۔ کپتان دھاندلی کے حوالے سے پنتیس پنچرز کے اپنے بیان کو سیاسی قراردے چکے ہیں، انتخابات میں دھاندلی، اردو بازار سے بیلٹ پیپرز چھپوانے کے تمام الزامات  کمیشن نے رد کر دیے تھے، وہ اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے بطور گواہ بھی کمیشن میں پیش نہیں ہو ئے تھے۔ اس سیاسی شکست کے بعد عمران خان کے پاس پانامہ پیپرز ایشو تھا جس پر وہ سیاست کر سکتے لیکن لگتا ہے کہ خان صاحب اس معاملہ پر بھی حکومت کو کلین چٹ دلوا کر رہیں گے۔ الزام لگانے کے بعد کپتان یہ بھی کہتے ہیں کہ ثبوت دینا ان کا کام نہیں۔ خان صاحب کے پاس ثبوت نہیں تو انہیں الزامات کو اتنی بلندی پر نہیں لیجانا چاہیے جہاں سے گرنے پر رسوانی یقینی ہو۔ موجود ہ صورتحال مین اپوزیشن لیڈر کا بیان درست ہے کہ نواز شریف کا سب سے بڑا خیر خواہ عمران خان ہے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ کپتان اگر خوابوں اور خوشامدیوں سے نکل حقیقت پر مبنی سیاست کریں تو سیاسی اور قانونی پوزیشن بہتر ہو سکتی ہے، کپتان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انکی ہاں میں ہاں ملانے والے اور ہر وقت واہ واہ کا راگ لگانے والے انکے خیر خواہ نہیں مفادی ٹولے ہیں، عمران خان کے خیر خواہ صرف وہ ہو سکتا ہے جو کسی بھی غلط فیصلے پر کپتان سے اختلاف کرے اور درست فیصلہ پر قائل کرے۔ انتخابی دھاندلی، پانامہ لیکس کے ایشوز نہ بھی رہے تو عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ آج بھی زندہ ہے، اکثریت کا مسئلہ صحت، تعلیم، روزگار ہے۔ جن پر دیانت داری اور ایمانداری سے فوکس کر نے میں دائمی سیاسی کامیابی ہے۔

متعلقہ مضامین