بیانات، خط، تضادات اور دلائل

عمران خان کے ہاتھ میں آج بھی تسبیح تھی اور کچھ بے چین بھی نظر آئے۔ بار بار اٹھ کر اپنے وکیل کے پیچھے کھڑا ہوتے۔ جج بھی یہ معاملہ دیکھ کر زیرلب مسکراتے اور کبھی کبھار ماحول کو خوشگوار کرنے کیلئے کوئی جملہ اچھال دیتے۔
پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے پانچ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس آصف کھوسہ عموما میڈیا سے غیر متاثر نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دوسرے ججوں کی طرح وہ بھی خبروں میں رہنے کا گر جانتے ہیں۔ اسی لیے مقدمے کی سماعت کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں ایسا کیس نہیں آیا، کسی بھی رخ کو تشنہ نہیں چھوڑیں گے، ہرایک فریق کو پوری طرح سننا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دوسرے دن بھی دلائل جاری رکھے۔ انہوں نے قطر کے شیخ کے خط کو جھوٹ قراردیا، وکیل نے کہاکہ یا تو وزیراعظم غلط بیانی کر رہے ہیں یا پھر ان کے بچوں کا جواب جھوٹ ہے، وزیراعظم کی تقاریر اور شریف خاندان کے عدالت میں دیے گئے جواب میں کہیں قطر کے کاروبار کا ذکر نہیں ہے۔ وزیراعظم کے دولت کے گوشواروں میں بھی ایسے کسی کاروبار کی بات نہیں، قطر کے شیخ کے خط میں کاروبار کی تفصیل درج ہے نہ رقم منتقلی کے طریقے کار کا۔ وکیل نے کہاکہ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ لندن میں فلیٹس خریدے گئے اور یہ 1993سے 1996کے عرصے میں لیے گئے، کونسی جائیداد فروخت کرکے لیے گئے علم نہیں، ہوا میں باتیں کی گئی ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ خط میں کہا گیا ہے کہ سرٹیفیکیٹ قطر میں رکھے گئے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ دونوں فریق لندن جائیداد خریدے جانے پر متفق ہیں صرف تفصیل اور دستاویزات موجود نہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ حسین نواز نے کہاتھاکہ ریکارڈ موجودہے، شیخ کا خط بھی یہی کہہ رہا ہے۔ وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ خط کی حیثیت کاغذ کے ٹکرے سے زیادہ نہیں، عدالت اسے مسترد کردے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ یہ خط آپ کے مقدمے کو مضبوط کررہاہے، اس کو مسترد کردیں تو بیانات میں تضاد بھی ختم ہوجائے گا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اس خط کے ذریعے ایک فریق اپنے موقف کو دلیل و ثبوت فراہم کر رہا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا ایک جانب آپ کہہ رہے خط اور شریف خاندان کے موقف میں تضاد ہے، دوسری جانب خط کو مسترد کرنے کی استدعا کر رہے ہیں، کیا اپنے پاﺅں پر کلہاڑا نہیں مار رہے؟۔ نعیم بخاری نے کہا خط کو ہٹا دیں تو فلیٹوں کی ملکیت واضح ہے، ہمیں ان کی خریداری کی تاریخ اور رقم بھی معلوم ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا یہ خود بخود نہیں ہوگا، آپ کو دستاویزات دکھانا ہونگی۔
جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ اہم سوال یہ ہے کہ لندن فلیٹس شریف خاندان سے منسلک کرنے کیلئے کیا دستاویزات ہیں؟۔ وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ بیگم کلثوم نواز نے سولہ برس قبل گارجین اخبار سے بات کرتے ہوئے ملکیت تسلیم کی تھی، حسن نواز نے نومبر 1999 میں ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ لندن فلیٹ میں کرایے پر رہتے ہیں اور وہ طالب علم ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ اگر وہ اس انٹرویو سے انکار نہیں کرتے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس بیٹے کی کوئی آمدن نہیں تھی۔ وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ مریم نواز نے نومبر2011 کو ٹی وی انٹریو میں کہاتھاکہ لندن میں اس کی کوئی جائیداد نہیں اور وہ والد کے ساتھ رہتی ہیں، حسین نواز نے مارچ 2016 میں انٹرویو میں کہا لندن جائیداد ہماری ہے، حسن نواز وہاں 21برس سے کاروبار کررہاہے اور اس کو رقم میں نے دی تھی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا جس کی جائیداد لندن میں ہے وہ جدہ میں رہتاہے، جبکہ چھوٹے بھائی نے سولہ برس قبل انٹرویو میں کہاتھا وہ طالب علم ہے۔ وکیل نے کہا نومبر 2009 میں نوازشریف نے انٹرویو میں کہاتھا مشرف نے ہمیں بالکل فارغ کر دیا، جائیداد خاندان کی ملکیت ہے۔ رات کو نیوز شو دیکھنے کے شوقین جج جسٹس آصف کھوسہ نے کہاان کے سیکرٹری ہارون پاشا نے ٹی وی پر کہاتھا تمام ریکارڈ وکیلوں کو فراہم کر دیا ہے، اس کا متن بھی منگوا لیں۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا لندن عدالت میں جب فلیٹس ضمانت پر رکھوائے گئے ملکیت عباس شریف، میاں شریف اور شہباز شریف کی تھی، پھر 34ملین ڈالر ادا کیے مگر ذرائع نہیں بتائے، تہہ درتہہ چھپائی جائیدادوں کا سراغ لگانا مشکل کام ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ہمارے پاس تفصیل نہیں کہ حسن نواز کب تک طالب علم تھے اور کب کاروبار شروع کیا۔ نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں مریم نواز کے وزیراعظم کے زیرکفالت ہونے پر بات کی تو جسٹس آصف کھوسہ نے پوچھا کس کو جھوٹا ثابت کرکے نااہل کرنا چاہتے ہیں، باپ یا بچوں کو؟ نعیم بخاری نے کہاسب کو جھوٹا ثابت کررہاہوں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا عوامی نمائندگی کے قانون کے تناظر میں دلائل دیں، عدالت سے کس کی نااہلی کا فیصلہ چاہتے ہیں؟۔ وکیل نے جواب دیا وزیراعظم، اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کو نااہل قراردلوانا چاہتا ہوں۔ وکیل نے کہا وزیراعظم نے بچوں سے 74کروڑ کے تحائف لیے اور ٹیکس نہ دیا، ٹیکس گوشوارے میں مریم نواز اپنے والد کے زیر کفالت ہے، اور مکمل طور پر زیرکفالت ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ معاشی زیرکفالت ہونا ہی اہم ہے۔ وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ جذباتی زیرکفالت بھی ہو۔ جس پر ن لیگ کی خواتین کے ہنسنے کی آواز عمران خان کے کانوں تو پہنچی تو انہوں نے اچانک مڑ کردیکھا اور پھر واپس اپنی توجہ کی رخ تبدیل کر لیا۔ اس موقع پر عمران خان نے اپنے وکیل سے سرگوشی کی تو جسٹس آصف کھوسہ نے وکیل سے کہا، عدالت کو موکل کی ہدایات سے آگاہ کر دیں۔ نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا مجھے ہدایت ہے مریم نواز کے آف شور کمپنیوں اور لندن جائیداد کا اصل مالک ہونے کی بات کروں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کیا وزیراعظم کے کاغذات نامزدگی کو کسی نے الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا تھا؟۔ وکیل نے کہا ایسا نہیں ہوا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا ایک جانب کہتے ہیں مریم مکمل طور پر والد کے زیرکفالت ہے، دوسری طرف کہتے ہیں وہ انتہائی مہنگی جائیداد کی مالک ہے، خود اپنی دلیل کو رد کر رہے ہیں۔
وکیل نعیم بخاری نے اپنی دلیل پر اصرار کرتے ہوئے انگریزی ڈکشنری سے زیرکفالت ہونے کی تشریح کی تو جسٹس اعجاز افضل نے جواب میں شعر پڑھ دیا
کسی نظر میں مجھے بے وفا ٹھہرنا ہے
کسی نظر میں مجھے باوفا بھی ہونا ہے
جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ مریم نواز کے زیرکفالت ہونے کے معاملے کو کھڑکی سے باہر پھینک دیں۔ نعیم بخاری نے کہا، چلیں وہ فارغ ہوگئی۔ جسٹس عظمت نے کہا، وہ نہیں آپ فارغ ہوگئے، جس پر عدالت میں قہقہے گونجتے سنائی دیے۔ اس جملے کاپوری عدالت نے لطف لیا مگر مجھ سے آگے کرسیوں پر بیٹھی وزراء مریم اورنگزیب، انوشے رحمان اور قومی اسمبلی کی رکن مائزہ حمید کی خوشی دیدنی تھی۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا، جج صاحب نے یہ جملہ ازراہ مذاق کہاہے، سنجیدہ نہ لیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے