ججوں کے جھکاﺅ پر اندازے

صورتحال دلچسپ ہو جاتی ہے اور پھر دلچسپ ترین سے گزرتے ہوئے تھکانے کی جانب مڑتی ہے تو جج ثبوت مانگ لیتے ہیں ۔ بات گھوم پھر کے وہیں آجاتی ہے اور کوہلو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں سفر طے کرنے والے وکیل وہی بات کہہ دیتے ہیں کہ ثبوت ہوتے تو عدالت سے درخواست کیوں کرتے۔؟
پانچ ججوں میں سے پہلے دو بولتے تھے، پھر تین سے چار کا سفر شروع ہوا، پانچواں جج زیادہ نہیں بولتا مگر عدالت میں آٹھ برس تک مقدمات سننے کی خواری کے بعد سمجھ آ رہی ہے کہ معاملہ کہاں جا رہا ہے۔ فوجداری قانون کے ماہر جسٹس آصف کھوسہ ایڈونچر کے شوقین جج ہیں اس لیے شریف خاندان کو خیر کی دعائیں کرنی چاہئیں، مگران کیلئے اچھی خبر بھی ہے ۔ وہ یہ کہ میرے ’ہم کالج‘ جسٹس اعجاز افضل سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے بنچ کا حصہ ہیں ۔ ایسی بامحاورہ انگریزی ڈکٹیٹ کرنے والا باکمال جج عرصہ بعد عدالت کو میسر آیا ہے۔ کریمنل لاء کے ایسے ایسے نکات سامنے لاتے ہیں کہ وکیل دنگ رہ جائے۔ قانون سے ہٹ کر ادھر ادھر کی بات ہی نہیں کرتے، قانون کی کتاب سے چیزیں نکالتے ہیں اور فیصلہ لکھ دیتے ہیں۔
آج کی سماعت میں جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ سچ تلاش کر رہے ہیں، ہم بے اختیار نہیں، دوسرے فریق سے کہہ سکتے ہیں کہ اپنا ریکارڈ پیش کرو۔ تحریک انصا ف کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ آف شور کمپنی میں مریم نواز کا پتہ سرور پیلس جدہ لکھا گیا ہے اور یہ 2005 کی دستاویز ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے سوال کیا کہ حدیبیہ پیپرز ملز میں ڈائریکٹرز عباس شریف اور شہباز شریف تھے، کل آپ نے کہا تھا وہی فلیٹوں کے مالک تھے، اب مریم نواز فلیٹوں کی مالک کیسے بن گئیں؟ کیا آپ بتاسکتے ہیں مریم نواز کو جائیداد کیسے اور کب منتقل ہوئی۔ نعیم بخاری نے کہا سب جانتے ہیں جائیداد 1993 میں نیسکول کمپنی کے نام خریدی گئی اور یہ ثابت کرنا ان کا کام ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا آپ کے پاس کچھ ہے جو ثابت کرسکیں، وکیل نے کہا دستاویزات حاصل کرنے کی پوری کوشش کی مگر ریکارڈ تک رسائی میں ناکام رہے، موزیک فونسیکا کے دستاویزات سے ثابت ہے مریم نواز ہی اصل مالک ہے، چونکہ اس کے پاس رقم نہیں تھی تو فلیٹس بے نامی خریدے گئے، رقم نوازشریف نے فراہم کی، فلیٹس 1993 سے 1996 کے دوران خریدے گئے، دبئی میں لگائی گئی اسٹیل مل بھی بے نامی تھی۔ وکیل نے کہا 2011 میں وزیراعظم نے مریم کو تین کروڑ ستر لاکھ تحفے میں دیے جبکہ 2013 میں بھی تین کروڑ کا تحفہ دیا، حسن نواز نے مریم کو 2012 میں دو کروڑ 89 لاکھ قرض دیا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا اس طرح مریم کے والد کے زیرکفالت ہونے کا معاملہ واضح نہیں ہوتا۔ وکیل نے کہا مریم نواز اپنی دستاویزات سے پوزیشن واضح کرے۔ مریم اور حسین نواز کے درمیان ٹرسٹ ڈیڈ جھوٹ ہے، وہی اصل مالک ہیں، دستاویزات عدالت کے سامنے ہیں۔
سماعت کے دوران تین جج ایک دوسرے پر بھی جملوں کی چاند ماری کرتے رہے ہرچند کہ وہ وکیل کو سامنے رکھ کر ہی بات کرتے۔ جسٹس عظمت سعید نے وکیل سے کہا جس چیز پر آپ انحصار کر رہے ہیں یہ برطانوی اخبار میں شائع ای میل ہے پانامہ کی دستاویز نہیں ۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا قانون شہادت کے تحت بار ثبوت جواب دہندہ کے سر ہے، اور عدالت بھی تحقیقات کیلئے کہہ سکتی ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا ہم شواہد ریکارڈ نہیں کر رہے سوال پوچھ رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا صرف دستاویزات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرسکتے، قانون کی کتاب کے مطابق چلتے ہیں، دوسرے فریق کو سنیں گے تب درخواست گزار کی دستاویزات کی اہمیت کا پتہ چلے گا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کوئی دستاویز موجود نہیں کہ فلیٹس 2006 سے قبل شریف خاندان کی ملکیت تھے۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا دستاویزات فراہم کرنا شریف خاندان کے ذمے ہے، انہوں نے غیر قانونی طریقے سے فلیٹس خریدے اور منی لانڈرنگ کی گئی۔ تحریک انصاف کے وکیل نے کہا پیر کے روز دلائل میں تین نکات پر بات کروں گا، وزیراعظم نوازشریف کی ٹیکس چوری، چیئرمین نیب کی نااہلی اور اسحاق ڈار کی منی لانڈرنگ کے بیان حلفی کی تفصیل بیان کرکے دلائل سمیٹ لوں گا۔ وکیل نے کہا سپریم کورٹ نااہل چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹائے، جسٹس عظمت نے کہا یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے وہاں ریفرنس دائر کریں۔
جسٹس عظمت سعید کارپوریٹ قانون کے ماہر ہیں اور سماعت کے دوران چٹکلے چھوڑتے اور چٹکیاں کاٹتے ہیں، سوال مگر کام کا کرتے ہیں۔ بہت زیادہ بولنے کیلئے بدنامی کی حد تک مشہور ہیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق وزیراعظم گیلانی کے مقدمے میں خلیل جبران کی نظم میں ترمیم کرکے ’قوم کی غم خواری‘ کی تھی، اس مقدمے میں بھی معاملہ کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتا ۔ میرے گرائیں جسٹس اعجاز افضل کم گو ہیں اور آواز بھی مشکل سے سامعین تک پہنچتی ہے مگر رجحان قانون کے گرد گھومنے کا ہی رکھتے ہیں۔ رہ گئے جسٹس گلزار احمد تو خاموشی کے ساتھ اکثریت کی جانب چلے جائیں گے۔ سپریم کورٹ میں گزشتہ برس آنے والے جسٹس اعجازالاحسن کے سوالات سے لگتاہے جسٹس کھوسہ کے شوق کا ساتھ نہیں دے پائیں گے۔
کھیل ابھی جاری ہے، سیاسی جماعتیں بیان بازی کریں گی، وکیل اورجج قانون سے کھیلیں گے اور ہم الفاظ سے کھیلتے ہوئے آپ تک تفصیلات پہنچانا جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین