اپنے ہی دلائل کا مذاق

مقدمہ تو سپریم کورٹ میں آج بھی پانامہ پیپرز کا تھا اور دلائل بھی تحریک انصاف کے وکیل دے رہے تھے مگر سماعت کے دوران رحمان ملک چھائے رہے۔ کہتے ہیں ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں، یہی کچھ وکیل نعیم بخاری کے ساتھ ہوا مگر وہ انتہائی جہاں دیدہ اور بذلہ سنج شخص ہیں اس لیے ججوں کی جانب سے آنے والی مسکراہٹو ں اور طنزیہ جملوں کو اپنے جوابی وار سے برابر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ایک موقع پر تو انہوں نے حالات کے رخ کو بھانپتے ہوئے خود ہی اپنے دلائل کی بنیاد پر ہل چلاکر عدالت میں قہقہے بکھیر دیے۔ جس رحمان ملک کی اسحاق ڈار منی لانڈرنگ کیس میں رپورٹ کونعیم بخاری شروع میں سب سے اہم دستاویز قرار دے رہے تھے سماعت کے اختتام پر جب ان کو مریم نواز اور حسین کے درمیان لندن کے فلیٹوں کی ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی کہنے کیلئے دلیل کی ضرورت پڑی تو اسے بھی رحمان ملک کی رپورٹ کے برابرقرار دیا جس پر جج بھی قہقہے روک نہ سکے۔
جسٹس آصف کھوسہ کے ساتھ وہی ہوا جس کا ان کو خدشہ تھا۔ گزشتہ روز صادق وامین معاملے پر ازراہ مذاق دیے گئے ریمارکس کو سیاق وسباق سے ہٹ کر جماعت اسلامی نے اپنے حق میں استعمال کیا تو آج ان کو اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے سماعت کے آغاز میں ہی کہا ان کو اپنی آبزرویشن پر ندامت ہے، ان کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔
وکیل نعیم بخاری نے دلائل کا آغاز رحمان ملک کی رپورٹ سے کیا ۔ کہا رحمن ملک جب ایف آئی اے میں تھے انہوں نے اسحاق ڈار منی لانڈرنگ کیس میں رپورٹ تیار کی تھی، اس رپورٹ میں منی ٹریل کا سراغ ملتاہے، یہ اعترافی بیان ہے۔ اس پر ججوں کے مسکراہٹ پھیل گئی تو نعیم بخاری نے پوچھا آپ میرے ساتھ ہنس رہے ہیں یا مجھ پر ہنس رہے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا یہ رپورٹ خود ایف آئی اے مسترد کرچکی ہے، جسٹس اعجازافضل نے کہا اعترافی بیان کا جائزہ احتساب عدالت لے سکتی ہے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کسی پولیس افسر کی رائے ثبوت نہیں ہوتی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا رحمان ملک کی رپورٹ محض الزامات ہیں۔ وکیل نے کہا عدالت سے حقائق اور میرٹ پر معاملہ دیکھنے کی استدعا کرتاہوں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا جن دستاویزات کی بنیاد پر رپورٹ تیارہوئی ہمارے سامنے نہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آپ کہتے ہیں تفتیش بھی ہم کریں، ٹرائل کورٹ کا کردار بھی ادا کریں، ہم مقدمہ آرٹیکل 184 تین کے تحت سن رہے ہیں جس کا دائرہ کار محدود ہے۔ نعیم بخاری نے اپنی دلیل پرزور دیاتو جسٹس عظمت سعید نے رہانہ گیا اورپوچھا، بخاری صاحب، آپ اپنے دوست رحمان ملک کو جرح کیلئے کب بلا رہے ہیں؟۔
عدالت عظمی کے پانچ رکنی بنچ کے سامنے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا دوہزار پانچ تک حسن نواز نے کمپنیوں میں دو ملین پاﺅنڈ کی سرمایہ کاری کی، اگر وزیراعظم کی جون 2005 میں دبئی مل بیچنے سے بیٹوں کے کاروبار کی بات مانی جائے تو حقائق بالکل برعکس ہیں۔ وکیل نے کہا وزیراعظم نے قطر میں سرمایہ کاری کی بات نہیں کی تھی، عدالت قطری شیخ کا خط مسترد کردے تو حسین نواز کا جھوٹ بے نقاب ہوجائے گا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا دبئی، قطر اور جدہ میں کی گئی سرمایہ کاری خاندان کی تھی، وزیراعظم کی جانب سے پیش کی گئی تصاویر میں ان کے والد دبئی میں موجود ہیں۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا حسین اور مریم کے درمیان لندن فلیٹوں کی ٹرسٹ ڈیڈ کو دس سال انتہائی خفیہ رکھا گیا، یہ بھی رحمان ملک کی رپورٹ کی طرح کی دستاویز ہے۔ نعیم بخاری کے اپنے ہی پرانے دلائل کا مذاق اڑانے پر عدالت میں قہقہہ ابل پڑا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا ٹرسٹ ڈیڈ کے بنائے جانے پر اگر شک کیا جاتاہے تو دیگر دستاویزات پر بھی یہی اصول لاگو ہو سکتا ہے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا تمام کاروبار میاں شریف کا تھا پھر ان کے بیٹوں کو ذمہ دار کیسے قرار دیاجاسکتاہے؟۔ وکیل نے کہا دبئی مل میں شہباز شریف کاحصہ تھا۔ جسٹس عظمت سعیدنے کہا جن دستاویزات پر انحصار ہے کیا ان کی تصدیق کیے بغیر فیصلہ دے سکتے ہیں؟۔ کیا دنیا میں کہیں صرف پانامہ پیپرز کودیکھ کر کسی کے خلاف فیصلہ ہواہے؟۔ نعیم بخاری نے مسکرا کر کہا آپ ایسا فیصلہ دے سکتے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا جس طرح پانامہ پیپرز کے مصدقہ ہونے پر سوال اٹھ سکتے ہیں قطری خط کا بھی یہی معاملہ ہوسکتا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا آج تک پانامہ پیپرز کی تردیدنہیں کی گئی۔ جسٹس اعجاز افضل کہا جس طرح قطری شیخ کے خط کو مسترد کرنے کی استدعا کی گئی، دوسرا فریق پانامہ پیپرز کو مسترد کرنے کا کہہ سکتاہے، شواہد ریکارڈ کیے بغیر کسی دستاویز کی اصلیت نہیں جانچ سکتے۔ نعیم بخاری نے کہا بنیاد مقدمہ وزیراعظم کی غلط بیانی کاہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا تمام دستاویزات اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد ہی جائزہ لیا جاسکتاہے، وزیراعظم کی اسمبلی میں تقر یر کو کسی فوجداری مقدمے سے منسلک نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم کی تقریر اور پانامہ پیپرز الگ معاملات ہیں، کیا صرف تقریر کی بنیاد پر نااہلی کے فیصلے کرسکتے ہیں؟ اس طرح کی خطرناک مثال قائم نہیں کریں گے۔
وکیل نعیم بخاری نے کہا دبئی مل کی فروخت سے حاصل شدہ رقم اور وزیراعظم کی تقریر کاجائزہ لیاجائے تو تضاد بیانی سامنے آجاتی ہے۔ نعیم بخاری نے ایک بار پھر دبئی مل کے سرمائے اور اس کی فروخت کی رقم کی تفصیلات بیان کرنا شروع کیں تو ججوں کی بے زاری صاف نظر آنے لگی۔ دبئی مل کے سرمائے کے اعداد وشمار ایسے پیچیدہ ہیں کہ بظاہر نہ ججوں کو سمجھ آئے ہیں اور نہ رپورٹروں کو۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کیا یہ معاملہ آپ کیلئے آسان بنادوں؟۔ وکیل نعیم بخاری نے ہنس کر کہا آپ رہنے دیں،سماعت کے دوران آپ کی جملے بازی نے مجھے بری طرح زخمی کیاہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اگر آپ معاملے کو آسای سے سمجھانا چاہتے ہیں تو دبئی مل کی فروخت سے ملنے والی رقم کو متنازع نہ بنائیں، کہہ دیں کہ بارہ ملین درہم ملے تھے تاکہ دوسرا فریق بتائے کہ یہ رقم کیسے اور کہاں لگائی گئی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ یہ دلیل واپس نہیں لوں گاکہ دبئی مل کی فروخت سے ایک پھوٹی کوڑی بھی شریف خاندان کو نہیں ملی۔ میرے دلائل کا خلاصہ یہ ہے، وزیراعظم صادق وامین نہیں رہے اور مریم ہمیشہ وزیراعظم کے زیرکفالت رہیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کیا یہ سوچ کرتقریر کی جاتی ہے کہ اس کی بنیاد پر صادق وامین کا فیصلہ ہوگا؟۔ نعیم بخاری نے کہا وزیراعظم کا خطاب قوم سے تھااوروہ لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے۔ مریم نواز کے وکیل شاہد حامد نے کہا حدیبیہ پیپرملز کیس ہائیکورٹ نے ختم کیا تھا اور تمام ڈائریکٹرز کو بری کیا گیا تھا۔
کیس میں سب سے اہم سوالات یہ تھے کہ کیا شواہد دیکھے بغیر کسی بھی دستاویز کو درست مانا جاسکتاہے۔ اہم ریماکس جسٹس اعجاز افضل کے تھے جنہوں نے کہا کہ کیا وزیراعظم کی تقریر کی بنیاد پر ان کے صادق وامین ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے، ایسی خطرناک مثال قائم نہیں کریں گے، کسی بھی دستاویز پر شواہد ریکارڈ کیے بغیر اس کو درست تسلیم کرکے فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button