اور اب استثنا کی بات

اے وحید مراد
وکیل آئینی اور قانونی دلائل دے اور بولتا ہی چلا جائے تو سیاسی فائدے کیلئے عدالتوں میں بیٹھے رہنماﺅں کے پاس پہلو بدلنے کے سوا کوئی کام نہیں رہ جاتا، سو یہی کچھ آج پورا دن عمران خان اور سراج الحق اور ان کی جماعتوں کے دیگر رہنما کرتے رہے۔ شیخ رشید اس معاملے میں بھی تیز نکلے، وکیل کے دلائل کی طوالت سے بے پروا سرد موسم میں گرم ہواﺅں والے کمرہ عدالت میں اپنی نیند پوری کرتے رہے۔
سراج الحق، شیخ رشید، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور عمران خان کی اکتاہٹ اور بے زاری سے ان کی پچھلی نشستوں پر بیٹھے ن لیگ کے نہال ہاشمی، تنویر چودھری اور مریم اورنگزیب لطف اندوز ہوتے رہے۔ تحریک انصاف کے ‘ترجمان چودھری’ کے پاس عدالت میں کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تو وزیراعظم کے وکیل کے دلائل کا مذق اڑانے کیلئے کبھی شیخ رشید کے کان میں کچھ بولتے اور کبھی چارنشستیں دور بیٹھے عمران خان کے گھٹنوں میں آکر بیٹھتے اور کھسر پھسر کرتے۔
مخدوم علی خان نے پہلے جعلی ڈگری، پھر اثاثے چھپانے اور بعد ازاں دہری شہریت پر نااہل قراردیے گئے اراکین اسمبلی کے مقدمات کے فیصلوں کے حوالے دیے۔ کہا، ایسے اراکین جنہوں نے اثاثے چھپائے اور غلط بیانی کے مرتکب ہوئے ان کے خلاف پہلے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے دیے پھر سپریم کورٹ نے نااہل کیا۔ جعلی ڈگری پر ایک رکن اسمبلی کو ریٹرننگ افسر نے نااہل کیا اور اس نے فیصلے کے خلاف اپیل ہی نہیں کی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا دہری شہریت والوں کو سپریم کورٹ نے براہ راست نااہل کیا پہلے سے کسی عدالت کا فیصلہ موجود نہیں تھا۔ مخدوم علی خان نے کہا دہری شہریت معاملے پر آئین بالکل واضح ہے، آرٹیکل تریسٹھ ون سی کہتاہے دہری شہریت رکھنے والا رکن پارلیمان بننے کا اہل ہی نہیں، اس لیے تشریح یا فیصلے کی ضرورت ہی نہیں۔ سپریم کورٹ نے جب دہری شہریت والے اراکین کے خلاف مقدمہ شروع کیا تو زیادہ تر نے خود ہی عدالت میں آکر تسلیم کرلیا، کئی ایسے تھے جنہوں نے الزام کے خلاف دفاع ہی نہیں کیا، کچھ مقدمات میں عدالت کے سامنے دہری شہریت کی دستاویزات رکھی گئیں اس طرح عدالت نے تسلیم شدہ حقائق پر فیصلے دیے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا اگر کوئی الزام تسلیم نہ بھی کرے تب بھی عدالت کو اختیار ہے کہ مقدمے کا فیصلہ کرے اور اہلیت طے کرے تاہم اس مقدمے میں سوال یہ ہے کہ کیا عدالت کے سامنے اتنے شواہد ہیں جن کی بنیاد پر اہلیت کا فیصلہ کیا جاسکے؟۔وکیل نے کہا عدالت کے پاس اختیار نہ ہونے کی بات نہیں کرتا، صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ عوامی مفاد کے قانون کے تحت سنے جانے والے مقد مے میں کیا عدالت ایسی دستاویزات کا خود سے جائزہ لے کر فیصلہ صادر کرسکتی ہے جن پر دوفریقوں میں تنازع ہو؟۔ آئین کے مطابق ارکان کی اہلیت او ر نااہلی کی الگ شرائط ہیں اور اس کے تحت جو شواہد ہوںگے ان کی ہیئت مختلف ہوگی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آئین کے آرٹیکل لاگو کرنے اور اہلیت جانچنے کا کوئی مروجہ طریقہ کار موجود نہیں، یہ ہرمقدمے میں مختلف ہوتاہے اور بدلتا رہتا ہے۔ وکیل نے کہا آئین میں لکھے گئے الفاظ کی تشریح عدالت کا کام ہے مگریہ تعبیر و تشریح ایک مخصوص یا محدود حد تک ہی سامنے آئے تاکہ مستقبل پر اس کے اثرات نہ ہوں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا تشریح اپنے سیاق وسباق میں ہی ہوتی ہے اور جو چیز مکمل نظام کی اسکیم میں فٹ نہ ہوں اس طرف عدالت نہیں جاسکتی۔
مخدوم علی خان نے ججوں کو سمجھانا تھا کہ کسی وزیراعظم کو نااہل کیسے کیا جاسکتاہے، اس کیلئے انہوں نے چالیس منٹ صرف سابق وزیراعظم گیلانی کی نااہلی فیصلے کے پس منظر پر روشنی ڈالنے اورحوالے دینے میں صرف کر دیے۔ عدالت کو بتایا کہ پہلے سولہ دسمبر 2009 کو سپریم کورٹ این آراو کالعدم قراردیا، حکومت نے فیصلے پر عمل نہ کیا تو دوبارہ حکم جاری کیا، پھر بھی عملدرآمد نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ نے سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے سترہ سماعتیں کیں، پھر تین جنوری 2012 کو عملدرآمد پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا گیا، دس جنوری کو وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا، چھبیس اپریل 2012 کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو سزاسنائی، معاملے پر 24مئی کو اسپیکر نے رولنگ دی جس کے خلاف درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا اور سترہ جون 2012 کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو نااہل قراردے کر ہٹایا۔ وکیل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے خلاف فیصلہ سپریم کور ٹ کے سات ججوں نے مکمل قانونی طریقہ کار اختیار کرکے دیاتھا جس کے خلاف انہوں نے اپیل بھی نہیں کی۔ اس موقع پر عدالت میں جماعت اسلامی کے وکیل نے سماعت میں مداخلت کی اور کہا کہ وزیراعظم کے وکیل یہ تمام حوالہ جات فیصلوں سمیت مہیا کریں تاکہ ساتھ ساتھ دیکھا جاسکے، جسٹس عظمت سعید کا موڈ خراب ہواتو بولے، آپ تشریف رکھیں ہمیں مقدمہ سننے دیں، آپ کو کیا فراہم کریں، آپ تو اپنا کیس تک پیش نہیں کرپائے۔
وکیل نے اہلیت اور نااہلی کی آئینی شقوں کے لاگو ہونے پر دلائل میں سابق وزیراعظم پرویزاشرف کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا اور عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر کیے گئے ریفرنس کے فیصلے کے حوالے بھی پیش کیے۔ بولے، دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے ریٹرننگ افسر نے راجا پرویزاشرف کے کاغذات نامزدگی اس اعتراض کی بنیاد پرمسترد کردیے تھے کہ ان کے خلاف رینٹل پاور کا فیصلہ موجود ہے تاہم ہائی کورٹ نے اپیل سن کرانہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کاغذات نامزدگی کے بعد الیکشن کی تاریخ کے درمیان وقت کم ہوتاہے اور اس دوران مقدمہ سن کر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اس لیے عدالتیں الیکشن لڑنے کی اجازت دیتی ہیں تاکہ اگر کامیاب ہو بھی گیا تو متعلقہ فورم موجود ہیں وہاں سے فیصلہ آجائے گا۔ مخدوم علی خان نے اس کے بعد رخ کیا سیتاوائٹ کیس فیصلے کی بنیاد پر عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر کیے جانے والے ریفرنس کا۔ کہنے لگے، فیصلہ دوہزار سات کا ہے، اسپیکر نے عمران خان کے خلاف ریفرنس مسترد کیے تو شیرافگن نیازی اور ایم کیو ایم کے فاروق ستارنے الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیے، یہ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت اہلیت کا مقدمہ تھا، عمران خان کے خلاف لاس اینجلس کی عدالت نے فیصلہ دیا تھاجس پر درخواست گزار ان کی نااہلی چاہتے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے قابل سماعت نہ ہونے کی بنیادپر یہ ریفرنس خارج کیے۔ مخدوم علی خان بولے کہ یہ حوالہ اس لیے دیاکہ اہلیت اور نااہلی مختلف ہیں، اہلیت کاغذات نامزدگی کے وقت چیلنج کی جاسکتی ہے۔ وکیل نے کہا سپریم کورٹ کے سامنے درخواست گزار ایک تقریر کی بنیاد پر وزیراعظم کی نااہلی چاہتے ہیں۔
یہاں سے وزیراعظم کے وکیل نے ٹریک بدلا اور آئین و قانون کے تحت اراکین پارلیمنٹ کو حاصل استثنا اور استحقاق کی طرف چلے گئے۔ پہلے کہا وزیراعظم نے کوئی غلط بیانی کی اور نہ جھوٹ بولا۔ جسٹس اعجاز افضل نے پوچھا شریف بچوں کے انٹرویوز کے بارے میں کیا کہیں گے جہاں موقف مختلف ہے؟۔ بولے، وزیراعظم کو عدالت صرف ان کی تقریر میں کہی گئی بات سے پرکھے گی، بچوں نے جو انٹرویوز دیے عدالت ان کو الگ سے دیکھے۔ پھر بولے، آرٹیکل چھیاسٹھ کے تحت اراکین پارلیمان کی اسمبلی سینٹ میں کی گئی تقاریرکوبنیاد بناکر ان کے خلاف کسی عدالت میں کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا مگر وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہاتھا ان کو کسی آئینی وقانونی استثنا کی ضرورت نہیں۔ وکیل نے جواب دیا مگر آئین نے تمام اراکین کی تقاریرکو عدالتی کارروائی سے مبرا قراردیا ہے تو کیاکریں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا استثنا وزیراعظم کو آرٹیکل 248 کے تحت حاصل ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کیا وزیراعظم کی تقریر صرف ذاتی دفاع نہیں تھا؟ کیا یہ ایک الگ معاملے میں ان کی جانب سے سپورٹ کا حصہ نہیں تھا؟ اس پر بھی عدالت کی معاونت کریں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا اگر ہم اس کو دوحصوں میں لیں تو بات کچھ یوں ہوگی کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ہوسکتا ہے غلط ہو، مگر چونکہ پارلیمان میں کہی گئی بات کو استحقاق حاصل ہے اس لیے کہوں گا۔ یہ جملہ سن کر بوریت کے شکار حاضرین نے قہقہہ لگایا اور عدالت میں سوئے ہوئے کچھ لوگ ہڑبڑا گئے۔ وکیل تو وکیل ہی ہوتا ہے مخدوم علی خان بولے ، جناب عدالت نے قانون کو بھی دیکھنا ہوتاہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کیا غلط بیانی کرنے والے کو بھی پارلیمان میں ہونے کی وجہ سے استثنا اور استحقاق ہوگا، کیا آئین کا باسٹھ ون ایف بھی اسی آئین کا حصہ نہیں جو کچھ کہتاہے۔ وکیل نے کہا وزیراعظم نے کوئی غلط بیانی نہیں کی اوراگر فرض کرلیاجائے انہوں نے جھوٹ بولا ہے تب بھی پارلیمان کی کارروائی عدالت میں مقدمے بازی سے مستثنا ہے۔ اگر عدالت میں باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی مانگی جائے گی تو آرٹیکل چھیاسٹھ کا استثنا بھی آئے گا۔
اس کے بعد بات اظہار رائے کی آزادی کی جانب چلی گی۔ جسٹس گلزار احمد نے آرٹیکل انیس کا ذکر چھیڑ دیا اور مخدوم علی خان نے دنیا بھر سے آزادی اظہار کے حق میں دلائل لانا شروع کردیے۔ کہا گیا کہ پارلیمان کے استحقاق اور استثنا سے زیادہ اہم اظہار رائے کی آزادی ہوگی جو ہرشہری کا بنیادی حق ہے اور وزیراعظم بھی پہلے ایک شہری ہی ہیں بعد میں رکن پارلیمنٹ ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل نے آج پھر قانون شہادت کی جانب جانے کی کوشش کی، بولے کیا اس تقریر کا قانون شہادت کی دفعہ 151 کے تحت غلط بیانی میں جائزہ لیا جاسکتا ہے؟۔ دوسری جانب پارلیمان کا استحقاق بھی ہے۔ اس سے قبل جسٹس عظمت سعید نے بھی سوال اٹھایا تھا کہ اخباری خبر کی بنیاد پر کسی کو فوجداری مقدمے میں سزا کیسے سنائی جاسکتی ہے؟۔
آج کی عدالتی کارروائی سے یہ نکلا کہ شریف اتنے بھی شریف نہیں کہ سب کچھ ایسے ہی چھوڑ کر چلتے بنیں۔ آئین وقانون کے مطابق حاصل استثنا کی جانب چلے گئے ہیں اور اب عدالت کیلئے آسان نہیں کہ فیصلہ دے کر چلتی بنے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے