آف شور پاکستان

اے وحید مراد
وزیراعظم کے وکیل نے دلائل کے آغاز میں گزشتہ روز کی جائیدادوں کی رجسٹری کاحوالہ دیا اور کہا مریم نواز کے وکیل عدالت کو تمام تفصیلات اور جائیدادوں کی خریداری سے دستاویزات کے ساتھ آگاہ کرکے مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا مریم نواز نے زمین خریدنے کیلئے والد کو اڑھائی کروڑ روپے ادا کیے، درخواست گزار کہتاہے کہ مریم والد کے زیرکفالت ہے، جو دو کروڑ کی جائیداد خرید سکتاہے وہ زیرکفالت کیسے ہوسکتاہے؟۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا ٹیکس قوانین سول سرونٹس کے زیرکفالت افراد کے متعلق بتاتے ہیں، عوامی نمائندگی کے قانون میں اس حوالے سے الگ تشریح موجود نہیں۔ وکیل بولے مریم نواز کے زیرکفالت ہونے نہ ہونے پر ان کے وکیل عدالت کو بتائیں گے کہ وہ مالی طور پر مکمل خود مختار ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا جب مریم کو جائیداد خریدنے کیلئے رقم بھی دوسروں نے فراہم کی تو کیا وہ زیرکفالت تصور نہیں ہوگی؟۔ وکیل نے کہا مریم کے پاس اس کے علاوہ بھی رقم موجود تھی۔
مخدوم علی خان نے بے نامی جائیداد پر بھی دلائل دینے اور عدالتی فیصلے پڑھنے چاہے مگر ججوں نے کہا اس مقدمے پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ خریدار اور بیچنے والے میں کوئی تنازع نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا اگر کوئی شخص اپنے بھائی کے نام پر جائیداد خریدتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھائی اس کے زیرکفالت ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا قانون صرف یہ کہتاہے کہ جائیداد ظاہر کرنا ضروری ہے۔
عدالت میں اس کے بعد’رٹ آف کووارنٹو‘ پر طویل بحث ہوئی۔ بہت سے لوگوں کی طرح اس کا کچھ حصہ میرے بھی سر کے اوپر سے گزر گیا۔ ایک اور صحافی نے وقفے کے دوران غلطی سے ایک وکیل سے اس کے بارے میں پوچھنا چاہا تو اس نے کہا یہ بھی وزیراعظم نوازشریف کے کاروبار کا ایک حصہ ہے۔ ماشاءاللہ
کووارنٹو کی بحث میں وزیراعظم کے وکیل کے دلائل کا زور اس بات پر تھا کہ سپریم کورٹ عوامی مفاد کے مقدمے میں اس طرح کے اختیارات استعمال نہیں کرسکتی۔ جبکہ جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ہمیں 20 کروڑ لوگوں کے بنیادی حقوق کو بھی دیکھنا ہے اگر کوورانٹو کی رٹ کی بات کرتے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ جواب دہندہ یعنی وزیراعظم کے بھی بنیادی حقوق ہیں اور لوگوں کے حقوق کے ساتھ ان کا حق بھی منسلک ہے۔ جسٹس اعجاز افضل اپنے ساتھی جج آصف کھوسہ سے بالکل الٹ سمت میں قانونی رائے رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ایسی درخواست کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا جو کووارنٹو کی رٹ میں آتی ہو۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا وزیراعظم نے قومی مفاد کے تحت اس مقدمے کو سنے جانے پراعتراض نہیں کیا، اس کیس سے پوری قوم کا تعلق ہے اور چونکہ وزیراعظم فریق ہیں اس لیے درخواست گزار سپریم کورٹ براہ راست بھی آسکتاہے۔ اب بتائیں کیا سپریم کورٹ سن سکتی ہے یا نہیں ؟۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا یہ الیکشن کا تنازع نہیں ہے کہ رٹ پٹیشن میں جاتے، یہ معاملہ کسی شخص کے ایک عہدے پر رہنے کو چیلنج کرنے کا ہے۔ سپریم کورٹ عوامی مفاد کے آرٹیکل کے تحت ہر رکن اسمبلی کے خلاف کیس سن سکتی ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا وزیراعظم کا معاملہ ہے تو رکن اسمبلی سے بڑھ کرہے اس لیے عوامی اہمیت کا کیس ہے۔ جسٹس عظمت سعید بولے حقائق تسلیم کرلیے جائیں تو عدالت فیصلہ دیتی ہے ، متنازع ہوں تو انکوائری کی جاتی ہے، اسی لیے دونوں اطراف سے ایسے حقائق مانگ رہے ہیں جو کم متنازع ہوں اور جس پر ہم قانون کا اطلاق کرسکیں مگر ابھی تک ان کے حصول میں ناکام ہیں۔
عمران خان کے وکیل نے نوازشریف کے کرپشن کے ’ثبوت‘ کے طور پر ریمنڈ بیکر کی کتاب ’کیپٹل ازم‘ کے حوالے اور اقتباس پیش کیے تھے تو مخدوم علی خان نے پوری کتا ب ہی آج عدالت کو پیش کردی جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ہم پانچ ہیں اور کتاب ایک، ساتھی ججوں کی اجازت سے کتاب میں ہی رکھ لیتاہوں۔ وکیل نے کہا دیگر ججوں کو بھی بعد میں فراہم کردوں گا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا جسٹس کھوسہ کو پڑھ لینے دیں ہم ان سے پوچھ لیں گے کہ کیا پڑھا۔ وکیل نے کہا عدالت یا تو پوری کتاب کو مانے گی یا پھر کسی بھی حصے کو تسلیم نہیں کرے گی۔ جسٹس آصف کھوسہ اور جسٹس اعجاز نے ان سے اتفاق کیا۔
وزیراعظم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریاست پاکستان کی بھی دو آف شور کمپنیاں ہیں، روز ویلٹ ہوٹل نیویارک اور سکرائب ہوٹل پیرس آف شور کمپنیوں کے ذریعے رجسٹرڈ ہیں، پاکستان نے دونوں ہوٹل ٹیکس سے بچنے کیلئے آف شور بنائے، جسٹس آصف کھوسہ نے برجستہ کہا کہ کیا آپ آف شور کمپنیوں کا دفاع کر رہے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ عدالت کو پس منظر بتا رہا ہوں، ٹیکس چھپانا غیر قانونی، ٹیکس سے بچنا قانونی ہے، جسٹس عظمت سعید نے مذاق کیا کہ ٹیکس بچانا ہر کسی کا حق ہے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ آف شور کمپنی بنانا جرم نہیں، ٹیکس چھپانا جرم ہے ۔
وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ عوامی مفاد کے آرٹیکل 184 تین کے تحت سنے جانے والے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیارات محدود ہیں عدالت نے ان کو دیکھنا ہوگا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا اعوامی مفاد کے مقدمات میں دیے گئے فیصلوں میں عدالت عظمی نے اپنی زیادہ سے زیادہ حدود کا تعین کیا ہے۔وکیل نے عدالت کے سامنے آئین و قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے دیے اور بتایا کہ عوامی مفاد کے کیس میں چار مختلف ایسی حدود قائم کی ہیں عدالت جن سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔جسٹس گلزار احمد نے کہا اگر سپریم کورٹ ان تمام حدود کو ختم کردے تو آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟۔ وکیل نے جواب دیا قانون کی حدود میں کھڑا ہوجاﺅں گا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آپ کے پاس آئین بھی ہیں جس کی حدود کا سہارا لے سکتے ہیں۔ مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کے مری بروری کیس کاحوالہ د ے کر کہا کہ عدالت نے اختیار سماعت کے بغیر مقدمہ سنے جانے پر اپنا فیصلہ دیا تھا اس کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیے مری بروری کیس بہت پرانا ہوگیا، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکاہے۔ وکیل نے سپریم کورٹ کے نصرت بھٹو کیس اور ولی خان کیس کاحوالہ دیا جن میں عدالت نے اخباری خبروں پر فیصلے دیے تھے تو جسٹس عظمت سعید نے کہا آپ ججوں کو شرمندہ کرنا چاہتے ہیں۔ مخدوم علی خان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھ کردیگر مقدمات کے فیصلوں کے حوالے پیش کرتاہوں ۔ جسٹس آصف کھوسہ نے انگریزی محاورے کا سہارا لیتے ہوئے کہا پرانی کتابوں کے حوالے دے کر نئے اور بہتر مقدمے ہارے جاتے ہیں۔ وکیل مخدوم علی خان نے ایک مقدمہ جب الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ میں زیرالتواء ہوتو سپریم کورٹ اس کو سن کر فیصلے دے گی اس معاملے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کی نااہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں ریفرنس اور لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اس مقدمے کے کئی رخ ہیں، ایک پہلو یہ ہے کہ کیا آئینی مقدمے میں فوجداری کارروئی اور نااہلی مانگی جاسکتی ہے؟۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا صدر اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت اٹھاون ٹو بی کے تحت ختم کی تھی تو ہائیکورٹ میں مقدمہ زیرالتوا ہونے کے باوجود سپریم کورٹ نے کیس سنا تھا۔ وکیل مخدوم علی خان نے کہا عدالت انتظامی حکم پر اپیل نہیں سن سکتی سپریم کورٹ نے اس کیس میں صرف یہ دیکھا تھا کہ صدر نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے متعلقہ مواد سامنے ہونے کی شرط پوری کی تھی یا نہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کیا اس مقدمے میں بھی ہم ایسے ہی مواد کا جائزہ نہیں لے رہے جس طرح سپریم کورٹ نے 1993 میں نواز شریف کیس اٹھاون ٹو بی حکومت خاتمے کا فیصلہ دیا تھا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا اس مقدمے میں ہمارے پاس فیصلے تک پہنچنے کیلئے بنیاد کیا ہوگی؟کیا مفروضے پر ایسا فیصلہ دیں گے جس کے اثرات و نتائج ہوں گے؟۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا سپریم کورٹ قراردے چکی ہے کہ صرف مثبت شواہد کی بنیاد پر ہی نااہلی کی جاسکتی ہے، ہم عارضی شواہد کو بنیاد بناکر وقتی نااہلی کے فیصلے کی طرف نہیں جاسکتے۔ وکیل نے کہا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نااہلی کیلئے پہلے سزا کا تعین کرنے والی عدالت کا ذکر کیاہے، وہ عدالت کون سی ہوگی اس کی ابھی تک سپریم کورٹ نے تشریح نہیں کی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کیا سپریم کورٹ وہ ’عدالت‘ نہیں ہوسکتی ؟ اس سے زیادہ بااختیار عدالت اور کون سی ہوسکتی ہے؟۔ وکیل مخدوم علی خان نے سرتسلیم خم کرتے ہوئے کہا مانتا ہوں کہ سپریم کورٹ بڑی عدالت ہے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز افضل نے ایسی بات کردی کہ تمام جج اور وکیل خا موش ہوگئے ۔ جسٹس اعجاز نے کہا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جس عدالت ( کورٹ آف لاء) کا ذکر کیا ہے اس میں کورٹ کی ’سی‘ چھوٹی ہے یا بڑے حرف میں لکھی ہے، اسی سے تعین ہوگا کہ کون سی عدالت ہوگی ۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا اس مقدمے میں نیب اور ایف بی آر کے چیئرمین کے خلاف بھی سنگین الزامات ہیں ان کو بھی سننا ہوگا۔ وزیراعظم کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کرلیے، کل جماعت اسلامی کے وکیل دلائل دیں گے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے