بھرپور تفریح اور مزید دلائل

آج جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف کی مدد کیلئے ان کے سینئر ساتھی شیخ احسن الدین بھی آئے، عدالت کی خصوصی اجازت سے انہوں نے بھی دلائل دیے مگر نتیجہ وہی نکلا ۔ توفیق آصف اور شیخ احسن سابق چیف جسٹس کے آگے پیچھے ہوتے ہیں اس لیے ہم یہی سمجھے کہ افتخار چودھری کے ابتدائی بلے بازوں کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے ایسے ایسے باﺅنسر مارے کہ درجنوں بار چکرائے اور کئی بار گرے۔
توفیق آصف نے ابتدا ہی غلط طریقے سے کی اور آ بیل مجھے مار کے مصداق ظفرعلی شاہ کیس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ججوں نے اس معاملے میں اعتراض کرکے مجھ سے زیادتی کی، خالد انور ہی اس مقدمے میں نواز شریف کے وکیل تھے جب مشرف نے ان کی حکومت ختم کی تھی، حالانکہ میرا موقف درست تھا۔ باقی ججوں نے تو سر پکڑ لیا مگر جسٹس عظمت سعید جلال میں آگئے، بولے آپ نے نہ صرف دلائل میں غلط بیانی کی بلکہ درخواست میں بھی غلط لکھا ہے، اس عدالت میں غلطی کی گنجائش نہیں، اب اس کے اثرات فیصلے میں دیکھ لیں گے۔ وکیل بولے ثابت کروں گا کہ نوازشریف کی وکالت خالدانور نے ہی کی تھی۔ جسٹس گلزار نے کہا آگے چلیں، کہاں پھنس گئے ہیں۔ وکیل نے ظفر علی شاہ کیس فیصلے میں سے خالد انور کے دلائل پڑھنا شروع کیے اور بولے ثابت ہوگیا نواز شریف کے وکیل تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا جس درخواست پر یہ فیصلہ آیا تھا اس میں خالد انور ان کے وکیل نہیں تھے۔ وکیل بولے خالد انور بہت سے مقدمات میں نواز شریف کی وکالت کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ ان کی وکالت کی۔ عدالت میں بیٹھے لوگ دلائل سے محظوظ ہوتے رہے۔ جسٹس عظمت نے کہا وکیل صاحب، آپ نے وکالت کے بنیادی اصولوں کو اڑا کر رکھ دیا ہے۔ عموما خاموش رہنے والے جسٹس اعجاز افضل کو بھی تنگ آکر جگت سوجھی، بولے اس وقت اگر وکیل سلمان اکرم اپنی نشست سے اٹھ کر آئیں اور کہیں کہ جماعت اسلامی کی درخواست میں واپس لیتا ہوں تو کیا ہوگا؟۔ جسٹس عظمت کی رگ ظرافت پھڑکی اور بولے، جو اصول توفیق آصف نے طے کیا ہے اس کے تحت بالکل درست ہوگا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا وکیل وہی ہوتا ہے جس کے پاس موکل کا وکالت نامہ ہوتا ہے۔ توفیق آصف مگر پھر بھی نہ مانے اور بولتے رہے کہ خالد انور کے تمام دلائل نواز شریف کے حق میں تھے۔
وکیل صاحب مشکل سے کنٹرول میں آئے اور دوسرے نکتے کی جانب بڑھے مگر آخر کار بات وہیں پر آگئی۔ بولے ظفر علی شاہ فیصلے میں لندن فلیٹ شریف خاندان کے ثابت ہوئے، نواز شریف اور ان کے بھائی لندن میں التوفیق کمپنی کے ڈائریکٹرز تھے۔ جج بولے، یہ مشرف حکومت کے وکیل کے دلائل تھے، فیصلہ پڑھ کر بتائیں کہاں لکھا ہے، فیصلے میں الفاظ ہیں کہ ’کرپشن کے الزامات‘ ہیں۔ وکیل نے کہا فیصلے میں لکھا ہے کہ نواز حکومت شخصی تھی اس لیے ختم کی گئی۔ جسٹس عظمت سعید طنز کرتے ہوئے بولے اور اس کے بعد پھر مشرف کی جمہوریت آگئی۔ وکیل صاحب اپنی روانی میں تھے بولے نواز حکومت ختم کرکے تو اس عدالت نے قوم پر بہت بڑا احسان کیاتھا۔ جج صاحب اسی طنزیہ انداز میں گویا ہوئے، جی بالکل ایسا ہی ہے۔ پھر بولے، وکیل صاحب، نہ آپ نے فائل دیکھی نہ آپ نے فیصلہ پڑھا ہے، آپ نے ہمیں بے بس کردیاہے، بالکل ہی آپ نے مذاق بنا دیا ہے، کچھ تو پڑھ لیا ہوتا۔ وکیل صاحب نے معاون کو اشارہ کیا کہ دوسری کتاب فراہم کی جائے اور ججوں سے مخاطب ہو کربولے، پانچ منٹ دیں درست کرلیتا ہوں۔ جسٹس عظمت نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور کہا پڑھیں جو آپ کا دل کرتا ہے۔
توفیق آصف نے کہا لندن فلیٹس عدالتی فیصلے سے منسلک کر کے گروی رکھے گئے تھے۔ جج بولے یہ بات کہیں لکھی ہوئی دکھا دیں۔ جسٹس گلزار نے کہا آپ ہم سے وہ پڑھانا چاہ رہے ہیں جو کہیں لکھا ہی نہیں ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا ہم اس مسئلے پر آپ کے دلائل سمجھ چکے آگے چلیں۔ جسٹس گلزار بولے یہ کتاب بند کر دیں اب۔ جسٹس عظمت نے کہا اپنے موکل کو جتنا نقصان پہنچانا تھا پہنچا چکے۔ جسٹس کھوسہ بولے جج صاحب نے یہ بات مزاق میں کی ہے۔ تو فیق آصف نے کہا مجھے اس مذاق کی بھاری قیمت اور وضاحت دینا پڑتی ہے۔ جسٹس عظمت بولے ہو سکتا ہے مذاق نہ ہو فیصلہ کا انتظار کریں۔
وکیل نے کہا لندن عدالت فیصلے کے وقت چونکہ نوازشریف جیل میں تھے اس لیے وہاں کسی اور نے ادائیگی کرکے لندن فلیٹس والے کاغدات واپس لے لیے تھے۔ جسٹس عظمت بولے یہ دلائل نوازشریف کے وکیل نے دینے تھے آپ نے دیدیے۔ اس موقع پر پورے کمرہ عدالت میں دیر تک قہقہے گونجتے رہے جس میں تحریک انصاف کے رہنماﺅں کی آوازیں نمایاں تھیں۔ ججوں نے کہا آپ کے دلائل سمجھ ِمیں آگئے، دوسرے نکتے پر جائیں۔
وکیل نے دبئی کی گلف اسٹیل مل رخ کیا تو جج بولے اس پر پہلے دلائل دے چکے ہیں۔ وکیل نے کہا مجھے عدالت نے وقت دیا ہے اب سن بھی لیں۔ جسٹس عظمت بولے آپ گیارہ سال بحث کرلیں مگر ایک ہی بات نہ دہرائیں۔ وکیل بولے دبئی مل پر سنجیدہ نوعیت کے شکوک ہیں۔ جج نے کہا شک کا فائدہ کس کو جاتا ہے؟۔ وکیل بولے ہم نے ثبوت دینے کا اپنا حق ادا کر دیا ہے، اب وزیراعظم خود کو صاف کرے اور عدالت ان کو بلا کر پوچھے، یہ انا اور ذات کا مسئلہ نہیں، وزیراعظم کو عدالت آنا چاہیے، مجھے نوازشریف پرجرح کا موقع بھی ملنا چاہیے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا موقع آنے دیں جس جس کی ضرورت ہوئی بلائیں گے اور ہو سکتا ہے وکیلوں کو سن کر کسی کو بلانا ہی نہ پڑے۔ وکیل بولے جماعت اسلامی کرپشن کے خاتمے کیلئے عدالت کی معاونت کر رہی ہے۔
عدالت میں جماعت اسلامی کے دوسرے وکیل شیخ احسن کا وقت شروع ہوا تو بولے، پہلے عدالت کی جانب سے ثبوت وتفتیش کے مقدمے (انکیوزی ٹوریل) کی تشریح کیلئے فلسفہ قانون کی بات کروں گا اور اس کیلئے یہ (بڑی سی) ڈکشنری ہے۔ وکیل صاحب کچھ دیر پنجابی لہجے میں انگریزی بولتے رہے، جسٹس عظمت نے روک کر کہا، یہ تشریح اسپین سے نکلی جہاں مسلمانوں کی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں اور یہودیوں کی تلاش کرکے ان سے اعتراف جرم کرائے گئے، وکیل صاحب، اس طرف نہ جائیں ہمارے ہاتھ پیر پھول جائیں گے، آپ کیا چاہتے ہیں لوگوں پر تشدد کرکے ان سے اعتراف جرم کرائیں؟۔
وکیل نے عدالت سے سامنے لائے گئے مواد کو قانون شہاد ت کے ذریعے پرکھنے کی استدعا کی تو جسٹس اعجاز نے پوچھا طریقہ کار بھی بتا دیں۔ وکیل بولے وہ عدالت خود اختیارکرے۔ وکیل نے ایک بار پھر ڈکشنری کا سہارالیتے ہوئے زیرکفالت (ڈی پنڈنٹ) کی تشریح کی کوشش کی اورکہا ایسا شخص جو دوسرے سے سہارا حاصل کرے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا مطلب توفیق آصف آپ کے زیرکفالت ہیں۔ جس پر عدالت میں قہقہے ابل پڑے۔
وکیل نے وزیراعظم کی تقریر کے بار ے میں کہا کہ عدالت یا تو مکمل مانے گی یا مکمل طور پر مسترد کرے گی۔ کہا ہر چیز کا کھرا نوازشریف کی طرف جاتاہے۔ قطرکے خط کو طوطا مینا کی کہانی کہتے ہوئے شعر پڑھا۔
خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو ہیں عاشق تمہارے نام کے
جسٹس عظمت نے کہا اس عمر میں یہ شعر نہیں جڑتا، جس پر ہنسی پھوٹ پڑی اور عدالت میں وقفہ ہوگیا۔
وقفے کے بعد عدالت نے جماعت اسلامی کی پہلی درخواست کے علاوہ طارق اسد کی درخواست کو بھی مقدمے سے الگ کر دیا کیونکہ ان میں کی گئی استدعا موجودہ درخواستوں سے الگ ہے۔
عدالت میں وکیل شاہد حامد نے کہا مریم، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کی جانب سے پیش ہو رہا ہوں۔ تحریک انصاف کے وکیل نے اعتراض کیا کہ ہمارے دلائل مکمل ہونے کے بعد مریم کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا ہے اور ہمیں نقل بھی نہیں ملی۔ عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل کو مریم کے جواب کی نقل فراہم کی اور کہا تشریف رکھیے۔ وکیل بولے مریم نواز کے معاملے میں مخدوم علی کے تمام دلائل اپناتا ہوں۔ جسٹس اعجاز نے کہامخدوم علی کے ذمے بہت سے جواب رہ گئے تھے کیا ان کا جواب آپ بھی نہیں دیں گے۔ وکیل نے عدالت میں مریم نوازکا بیان پڑھ کر سنایا، فوج کے کپتان سے انیس سو بانوے میں شادی ہوئی ،شوہر ٹیکس دیتے ہیں، تین بچے ہیں، تحفے والد نے محبت اور انس کی وجہ سے دیے، تحفے دیتے وقت ماں اور بھائیوں کی مکمل رضامندی حاصل تھی، شادی کے بعد سے والد کے زیر کفالت نہیں رہی، کبھی لندن کے فلیٹس کی مالک نہیں رہی ۔ جج نے پوچھا اس بیان پر کسی کے دستخط نہیں قانونی پوزیشن کیا ہوگی؟۔ وکیل بولے، میرے پاس مریم کا وکالت نامہ ہے ابھی دستخط کرکے جمع کرا دیتا ہوں۔ جسٹس کھوسہ نے کہا عدالت کے سامنے مریم نواز کے کل چار جواب آئے ہیں۔ وکیل نے اس کے بعد ان تمام دستاویزات کی فہرست گنوائی جو مریم نواز، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے ہیں۔ اس کے بعد وکیل نے درخواست گزاروں کے الزامات پڑھے، بولے درخواست گزاروں کے الزام مریم پر نہیں والد پر ہیں، الزام ہے کہ وزیراعظم نے مریم کے اثاثوں کی مالیت ظاہر نہیں کی،الزام والد پر ہے منسلک مجھ سے کیا جا رہا ہے، الزام ہے کہ مریم کے والد کے تحفے کو کیپٹن صفدر نے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کیا۔ وکیل نے کہا جماعت اسلامی اور شیخ رشید کی درخواستوں میں صرف وزیراعظم فریق ہیں مریم کا ذکر نہیں۔ تحریک انصاف کی درخواست میں مریم کے خلاف عدالت سے فیصلہ ہی نہیں مانگا گیا۔ مریم نواز کی زرعی آمد ن ہے،دو سال میں گھر کے ایک کروڑ بیس لاکھ کے اخراجات برداشت کیے، جاتی عمرہ میں کل 384 کنال زمین ہے جس میں سے 364 کنال نوازشریف کی والدہ کے نام ہے اور یہ زمین میاں شریف نے خریدی تھی۔ جسٹس اعجاز نے پوچھا کیا ہی کہنا چاہتے ہیں کہ مریم اپنے والد نہیں بلکہ دادی کے زیرکفالت ہیں؟۔وکیل بولے ایسا نہیں ہے۔ وکیل نے کہا تحریک انصاف کی درخواست کیپٹن صفدر کے خلاف صرف ٹیکس ریٹرن میں مریم کی جائیداد ظاہر نہ کرنے کی حد تک ہے اس پر دفاع کروں گا، کیپٹن صفدر کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس سپریم کورٹ اس مقدمے میں کیسے لایا جاسکتاہے؟۔ اس پر بھی دلائل ہوں گے کہ عدالت ایک عام شخص کے خلاف عوامی مفاد کے قانون کے تحت مقدمہ کیسے سن سکتی ہے؟ مریم کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں۔
(دلائل جاری ہیں اور دیکھتے رہیں کہ شریفوں کے پاس کہنے کو اور کتنا کچھ ہے۔ اور قانون میں ان کی پکڑ کیلئے کوئی گنجائش ہے یا نہیں)۔

متعلقہ مضامین