پانامہ پیپرز تک سب ٹھیک

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
معاملہ آگے بڑھ رہا ہے۔ سب اپنے طریقے سے کھیل رہے ہیں۔ صحافی، سیاست دان، وکیل اور اب جج بھی اس کھیل میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ فیصلہ سامنے ہے مگر خوش سب کو کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے یہ بھی آنکھ و دماغ رکھنے والے سمجھ چکے ہیں۔ آج کی عدالتی کارروائی پڑھیے۔
پانچ رکنی بنچ کے سامنے اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسحاق ڈار کو پہلے معافی ملی پھر اعترافی بیان ریکارڈ کرایا، منی لانڈرنگ کا الزام پچیس سال پرانا ہے، معافی مل چکی اور مقدمہ بھی ختم ہو چکا ہے، اب صرف کسی کے الزام کی بنیاد پر اسحاق ڈار کو نااہل نہیں کیا جاسکتا۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا معاملہ 1992 سے شروع ہوا مگر 2014تک زندہ رہا جب ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا۔ وکیل بولے 25 برسوں میں لاہور اور اسلام آباد اور ہائیکورٹ میں تیرہ مختلف ججوں نے اس مقدمے کے مختلف حصوں کو سن کر فیصلے دیے، ہائیکورٹ کے پانچ ججوں نے ایک موقع پر ایف آئی اے کی جانب سے بیرونی اکاﺅنٹس کی پڑتال کو بھی اس کے اختیارات سے باہر قرار دیا تھا۔ وکیل نے کہا لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ ریفرنس پر اپیل کو قانون کے مطابق سنا اور مقدمے کو ختم کیا۔جسٹس گلزا ر احمد نے کہا کیامنی لانڈرنگ کا مقدمہ میرٹ پر سنا گیا؟۔ وکیل نے کہا معافی ملنے کے بعد اسحاق ڈار ملزم نہیں رہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا ریکارڈ سے نظر آتاہے اسحاق ڈار کا اعترافی بیان لینے کے بعد مجسٹریٹ اس کی تصدیق کیلئے نیب عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ وکیل نے کہا اس وقت نیب قانون میں بیان کی تصدیق کیلئے مجسٹریٹ کے پیش ہونے کی شق نہیں تھی، قانون کے مطابق اعترافی بیان کے بعد ڈار ملزم کی بجائے وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کیا اسحاق ڈار کے بیان کو دیگر ملزمان کے خلاف واقعاتی شہادت کے طور پر لیا گیا؟۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ریکارڈ سے معلوم ہوتاہے اسحاق ڈار چیئرمین نیب کے سامنے پیش ہوئے، معافی کی درخواست کی اور معافی ملنے کے بعد بطور آزاد شہری اعترافی بیان دیا۔ وکیل نے کہا اسحاق ڈار بیان دینے کے بعد بھی سترہ ماہ حراست میں رہے، صرف اتنی سہولت ملی کہ اٹک قلعے سے دوسری جگہ منتقل کیاگیا۔ جسٹس کھوسہ نے پوچھا کیا اسحاق ڈار نے اس پر حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست دائر کی؟ وکیل نے کہا لاہور ہائیکورٹ سمیت دو عدالتوں میں ایسی درخواستیں دائر کیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا قانون کے مطابق جب اسحاق ڈار گواہ بن گئے تو پھر ان کے بیان کو انہی کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا، تاہم دیگر ملزمان کے خلاف استعمال میں لایا جاسکتاہے۔ وکیل نے کہا اسحاق ڈار پندرہ اکتوبر کو گرفتار کیے گئے اور اگلے سال 25اپریل کو اعترافی بیان دیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا اسحاق ڈار کو معافی مل چکی، کیس ختم ہوگیا، بری ہوچکے ہیں۔وکیل نے کہا اسحاق ڈار کااعترافی بیان تشدد اور حراست کا نتیجہ تھا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا اگر مگر چونکہ چنانچہ چھوڑیں بس اسحاق ڈار کو معافی مل چکی ہے، قانونی پوزیشن یہی ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کیا اسحاق ڈار آج بھی اپنے اعترافی بیان پر قائم ہیں؟ پھر خود ہی اپنے سوال کی قانونی حیثیت کو دیکھتے ہوئے ہنس پڑے۔ وکیل نے دوبارہ کہانی چھیڑنے کی کوشش کی تو جسٹس عظمت بولے آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جس کسی کو اعترافی بیان کی حقیقت معلوم کرنا ہے چند دن اٹک قلعے میں زیرحراست گزار لے۔ اس پر عدالت میں ہر طرف ہنسی پھوٹ پڑی۔ وکیل بولے یہ زندگی کے حقائق ہیں، یہاں خواجہ آصف موجود ہیں ان سے پوچھا جاسکتاہے، رانا ثناءاللہ کو بلائیں جن کو الٹا لٹکا کر سر ،مونچھیں اور بھنویں منڈوائی گئیں۔ وکیل نے کہا درخواست گزار عمران خان بھی اپنے ٹی وی انٹرویو میں تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرانے کی مذمت کرچکے ہیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کسی کے کہنے کی بات نہیں، یہ قانون ہے کہ تشدد کے ذریعے اعتراف جرم نہیں کرایا جاسکتا۔
وکیل شاہد حامد اپنے دلائل کومزید وزنی بنانے کیلئے بولے حدیبیہ پیپرز مل منی لانڈرنگ میں ریاست کے خزانے کے پیسے کا الزام نہیں تھا، سٹی بنک کے اکاﺅنٹس کی رقم تھی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اس کا مطلب ہے بنکوں میں رکھی عوام کی رقم کا نقصان مسئلہ نہیں۔ اس پر عدالت قہقہوں سے گونج اٹھی۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا معافی مل جانے کے بعد اب اس معاملے پر اسحاق ڈار کی نااہلی نہیں مانگی جاسکتی۔
وکیل شاہدحامد نے اپنے دلائل مکمل کیے تو نیب کے پراسیکیوٹرجنرل وقاص قدیر ڈار نے عدالت میں اسحاق ڈار منی لانڈرنگ کیس کاریکارڈ پیش کیا۔ ریکارڈ کے مطابق اسحاق ڈار نے 20اپریل 2000 کو چیئرمین نیب سے ملاقات میں اعترافی بیان دینے اور معافی کیلئے درخواست دی، جس کے بعد 25اپریل کو اعترافی بیان حلفی دیا ۔جسٹس آصف کھوسہ نے پوچھا نیب نے ہائی کورٹ کے مقدمہ ختم کرنے کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں اپیل کیوں دائر نہیں کی تھی؟۔ نیب کے وکیل نے کہا ہائی کورٹ کے تین ججوں نے ریفرنس ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، مشاورت کے بعد نیب نے فیصلہ کیا کہ اپیل دائر نہ کی جائے۔ عدالت نے نیب سے مشاور ت کا ریکارڈ طلب کرلیا۔
عدالت میں حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کے تین رخ یا حصے ہیں،ایک تقاریراور بیانات کا،اس حصے میں کہا جا رہا ہے کہ حسین کے بیان کو درست قراردیاجائے اور اس بنیاد پر وزیراعظم کی تقریر کو غلط مان کران کے خلاف نااہلی کی استدعا کی گئی ہے۔ وکیل نے کہا دوسرے حصے میں دستاویزات اور حسین کے تحائف کو شامل کیا گیاہے۔ تیسرے حصے میں پچاس سالہ کاروبار کا ریکارڈ مانگا جارہاہے اور میاں شریف کے معاملات میں حسین کو گواہ یا مالی مفاد حاصل کرنے والے ملزم کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا درخواست گزار نے حسین کے خلاف عدالت سے کوئی فیصلہ نہیں مانگا۔ وکیل بولے بیرون ملک جائیداد واپس مانگنے کی استدعا حسین نواز کے خلاف ہے کیونکہ لندن فلیٹ اسی کی ملکیت ہیں۔وکیل نے کہا درخواست گزار نے لوٹی گئی رقم اور بیرون ملک جائیداد کی تحقیقات کیلئے بھی عدالت سے استدعا کی ہے ان کے اپنے موقف میں تضاد ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا درخواست میں لوٹی رقم اور منی لانڈرنگ کا ذکرہے اس کو ثابت نہیں کیا گیا، اس کا مطلب ہے پہلے رقم کی لوٹ ثابت ہوگی پھر اس کی لانڈرنگ ہوگی۔ وکیل نے کہا عوامی مفاد کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے پاس وسیع اختیارات ہیں مگر دوسرے اداروں کا کام اپنے ذمے نہیں لے سکتی۔وکیل سلمان اسلم نے کہا دبئی فیکٹری 1972میں لگائی گئی تھی اور یہ میاں شریف کی سرمایہ کاری تھی اس لیے تمام ریکارڈ دستیاب نہیں اور یہ حسین نواز کی ذمہ داری بھی نہیں۔بار ثبوت درخواست گزار اور استغاثہ کے سرہوتا ہے، ملزم کے ذمے کچھ مقدمات میں معمولی دمے داری پڑتی ہے ۔
ججوں نے کہا پہلے دبئی فیکٹری سے شروع کریں۔جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا دبئی فیکٹری لگانے کیلئے حاصل قرض کا ریکارڈ دکھاسکتے ہیں کہ کس طرح حاصل کیا گیا؟۔ وکیل بولے یہ 45 برس پرانی بات ہے ریکارڈ میرے پاس بھی دستیاب نہیں۔جسٹس اعجازافضل نے کہا وزیراعظم کے وکیل نے بوجھ آپ پر ڈالا تھا، اب آپ کے پاس بھی جواب نہیں۔وکیل نے کہا قرض لے کر فیکٹری لگانے معاملے پر درخواست گزار کو بھی اعتراض نہیں، ان کا الزام صرف یہ ہے کہ فیکٹری بیچنے سے تمام رقم بنک کو واپس چلی گئی ہمیں کچھ نہیں ملا جبکہ ہمارا موقف ہے کہ اس سے بار ہ ملین درہم حاصل ہوئے۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا فیکٹری کے ذمے 36 ملین درہم واجب الادا تھے، جسٹس گلزار نے کہا کمپنی خسارے میں تھی تو بارہ ملین کیسے حاصل ہوئے۔ وکیل بولے ریکارڈ موجود ہے جس کے مطابق فیکٹری کے 75فیصد حصص 1978 میں فروخت کیے گئے اور اس میں سے اکیس ملین درہم بنک کو قرض واپس کیاگیا اس طرح صرف پندرہ ملین درہم واجب الادا قرض رہ گیا تھا۔جب 1980 میں فیکٹری کے باقی  25 فیصد حصص بھی فروخت کیے گئے تو بارہ ملین درہم ملے۔ میاں شریف یا طارق شفیع نے پندرہ ملین کا قرض کیسے ادا کیا اس حوالے سے درخواست گزار کے پاس بھی افواہیں ہیں اور میرے پاس بھی معلومات نہیں۔وکیل نے کہا ننانوے کے مارشل لاءکے دوران شریف خاندان کا بہت سا ریکارڈ ضائع کیاگیا،اس کیلئے مختلف عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کیں۔
جسٹس کھوسہ بولے یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ دبئی فیکٹری کی فروخت سے بارہ ملین ملے مگر اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ فیکٹری لگانے کیلئے قرض کیسے ملا تھا، کیا چیز بطور ضمانت رکھی گئی تھی؟۔ وکیل نے کہا یہ بات طے ہے کہ 1972 میں دبئی فیکٹری لگانے کیلئے پیسہ پاکستان سے نہیں گیاتھا، اگر کسی کے پاس اس حوالے سے حقائق ہیں تو عدالت میں لائے۔جسٹس کھوسہ بولے یہ سٹوری کئی بارسن لی ہے، آپ نے کوئی نئی بات نہیں بتائی۔ وکیل نے کہا صرف ریکارڈ دکھارہاہوں، بات وہی پرانی ہے، معاہدے عدالت کے سامنے پیش کیے ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن بولے ریکارڈ ساتھ ساتھ سامنے آ رہا ہے جیسے جیسے مقدمہ آگے بڑھ رہاہے۔ وکیل نے کہا عدالت میں معاملہ لندن کے چار فلیٹوں کاتھا بعد میں دبئی فیکٹری پر بات شروع کردی گئی تو ہم نے ریکارڈ لایا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا دبئی، جدہ اور لندن کا ذکر وزیراعظم نے چھیڑا تھا اس لیے معاملہ اس طرف بھی گیا۔
جسٹس عظمت نے کہا چلیں اب فیکٹری بیچنے سے ملنے والے بارہ ملین پر بات کرتے ہیں۔ طارق شفیع کے پہلے بیان حلفی میں ذکر نہیں کہ فیکٹری کے ذمے قرض کیسے ادا ہوا ، بار ہ ملین کس طرح ملے۔وکیل بولے طارق شفیع کے دوسرے بیان حلفی میں لکھا ہے کہ انہوں نے میاں شریف کیلئے بار ہ ملین درہم فیکٹری بیچنے سے حاصل کیے اور یہ رقم قسطوں میں تھی، ہر قسط دو ملین درہم کی تھی اور دبئی کے اندر ہی قطر کے شیخ کے حوالے کی گئی۔ جسٹس عظمت سعید کرسی پر آگے بڑھے اور بولے کیا یہ درہم اونٹوں کی پیٹھ پر لاد کر لے گئے تھے۔ عدالت میں بیٹھے تحریک انصاف کے رہنماﺅں کے چہروں پر خوشی کے سائے لہرائے تو وکیل نے کہا نقد رقم کے ذریعے کاروبار دنیا بھر میں ہوتا ہے، نقد رقم ملنے کا مطلب غلط کام نہیں ہوتا، دوسری جانب سے ابھی تک کوئی ایسے ثبوت و شواہد نہیں آئے کہ جن سے کوئی بات ثابت ہو۔ جسٹس عظمت نے کہا جن سوالات کے جواب نہیں آئے ان کا مطلب کیا لیاجائے؟۔ وکیل نے کہا جوریکارڈ دستیاب نہیں اور جواب ممکن نہیں اس کا مطلب غلط نہیں لیا جاسکتا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا وزیراعظم کا تقریر میں کہنا تھا تمام ریکارڈ موجود ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ بولے وزیراعظم کے الفاظ تھے کہ ثبوتوں کاانبار ہے۔ وکیل نے کہا حسین نواز کا اس بیان سے تعلق نہیں، مجھ سے ان کے بارے میں پوچھیں۔ جسٹس عظمت سعید بولے وزیراعظم کے وکیل نے کہا تھا حسین کے وکیل بتائیں گے، آپ کہہ رہے ہیں مجھ سے متعلق نہیں، اس کا مطلب ہے پیچھے کوئی نہیں رہ گیا۔ عدالت میں کافی دیر تک قہقہے گونجتے رہے۔
جسٹس گلزار نے وکیل کی توجہ دلاتے ہوئے کہا چونکہ تمام کاروبار اور جائیداد بارہ ملین سے حاصل کی گئی جو دبئی فیکٹری بیچنے سے ملے تھے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کیسے ملے؟ اور کہاں گئے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا فیکٹری لگانے کیلئے بنک سے رجوع کرکے قرض لیا مگر فیکٹری بیچنے کے بعد ملنے والے بارہ ملین بنک سے ذریعے منتقل نہ کیے گئے۔ وکیل نے کہا یہ 45 سال پرانا معاملہ ہے اس لیے واضح نہیں۔
عدالت کا وقت ختم ہوا، جج اٹھنے لگے، تمام افراد بھی دروازے کی جانب بڑھے تو جسٹس آصف کھوسہ جاتے جاتے بولے، وکیل صاحب، آپ کی بات درست ہے سب کچھ پرانا ہے اور سب کچھ ہی ٹھیک تھا مگر اس وقت تک جب تک پانامہ پیپرز منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ہنستے مسکراتے، قہقہے لگاتے سیاسی اکابرین اور وکیل و صحافی دروازے سے باہر نکلنے لگے۔

متعلقہ مضامین