کالم

آم والا عدالت میں

فروری 8, 2017 5 min

آم والا عدالت میں

Reading Time: 5 minutes

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
صبح سپریم کورٹ میں داخل ہونے لگا تو پارکنگ میں بول ٹی وی کی دو سیٹلائٹ وین کھڑی تھیں اور مرکزی دروازے پر جیو ٹی وی کے بنائے گئے ’معروف مذہبی اسکالر‘ عامرلیاقت درجن سے زائد افراد کے ساتھ راستہ روکے ہوئے تھے۔ بعد میں معلوم ہواکہ دراصل ’مذہبی اسکالر‘ کا راستہ پولیس اہلکاروں نے روکا ہواتھا۔ سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سیکرٹری وکیل اور دو صحافیوں نے ان افراد کو ’چھڑایا‘ اور عدالت عظمی کے احاطے میں لے گئے۔ سپریم کورٹ کی دوسری منزل پر صحافیوں کیلئے مختص کمرے میں یہ تمام لوگ بیٹھے اور گپ شپ کرتے رہے۔
مقدمہ بول ٹی وی کے پروگرام پر پابندی کے بعد سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے پیمرا چیئرمین کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس کا تھا۔ سپریم کورٹ میں پاکستان الیکٹرانک ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین کی اپیل جسٹس امیرہانی مسلم کے تین رکنی بنچ میں لگی تھی۔ سماعت ساڑھے گیارہ بجے شروع ہونا تھی اس لیے بہت سے وکیل اور کچھ صحافیوں ’بول والوں‘ کے آگے پیچھے ہوتے دیکھے گئے۔ (پاپی پیٹ کیلئے عزت و غیرت کے معیار مختلف ہوجاتے ہیں، اچھی نوکری کا حصول ہی بہت سے لوگوں کی زندگیوں کا مرکزی نکتہ ہے)۔
مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تو عدالت نے میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے وکیل کو ہدایت کی کہ پیمرا کے نوٹس اور ہائیکورٹ کے حکم سمیت تمام پس منظر سے آگاہ کیا جائے۔ وکیل نے بتایا کہ اتھارٹی نے اپنے قانون کے سیکشن 27 کے تحت بول ٹی وی کے ایک مخصوص پروگرام کو بند کرنے کا حکم 26 جنوری کو جاری کیا، جس کو ٹی وی اینکر نے 27 جنوری کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کرکے پیمرا کے پروگرام روکنے کے حکم کو معطل کرا دیا، اسی طرح توہین عدالت کی درخواست دائر کرکے چیئرمین پیمرا کو ہائیکورٹ سے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس بھی جاری کرایا، یہ پیمرا انتظامیہ کے خلاف تیسری توہین عدالت کی درخواست تھی جو بول ٹی وی نے دائر کی۔ جسٹس امیرہانی نے کہا پیمرا ریگولیٹری اتھارٹی ہے وہ حکم جاری کرسکتی ہے، مگر کیا پروگرام بند کرنے سے قبل شوکاز نوٹس جاری کیا گیاتھا؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا اور اس کی وجہ معاملے کی فوری نوعیت تھی کیونکہ پیمرا کے پاس ایک ہزار کے لگ بھگ شکایات دو جنوری سے چوبیس جنوری کے درمیان آئی تھیں اور سب میں کہا گیاتھا کہ پروگرام کے ذریعے مختلف لوگوں کے خلاف نفرت پھیلائی جارہی ہے ان کو زندگیوں کو خطر ہ تھا ۔ پیمرا نے اپنے قانون کے سیکشن سات کو استعمال کرتے ہوئے پروگرام پرپابندی لگائی اور شوکاز نوٹس بھی ساتھ ہی جاری کر دیا۔
عدالت کے پوچھنے پر پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ اتھارٹی نے بول ٹی وی کے خلاف پہلا حکم لائسنس معاملے پر دیا تھا کیونکہ ٹی وی انتظامیہ کا سیکورٹی کلیرنس سرٹیفیکیٹ وزارت داخلہ نے واپس لے لیاتھا، اتھارٹی نے ٹی وی چینل کو سیکورٹی کلیرنس لینے کیلئے نوٹس جاری کیا مگر سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرلیا گیا اور چینل کی نشریات جاری رہیں۔ چینل انتظامیہ نے پیمرا کے نوٹس کا جواب نہیں دیا۔ جسٹس امیرہانی نے کہا کہ چینل انتظامیہ کیلئے سیکورٹی کلیرنس لینا تو لازمی ہے۔ بول ٹی وی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا نے بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ کے سامنے سیکورٹی کلیرنس پر اپنا حکم واپس لے لیاتھا۔ جسٹس امیرہانی نے کہا ٹی وی انتظامیہ نے ہائی کورٹ سے پہلی اپیل میں جو مانگا تھادوسری اپیل میں ترمیم کیے بغیر فیصلہ کیسے حاصل کرلیا؟۔ اور ہائی کورٹ کس قانون کے تحت دھڑا دھڑ توہین عدالت کے نوٹس جاری کررہی ہے؟ یہ کیسے ہوسکتاہے؟۔اگر ہائی کورٹ اس طرح احکامات معطل کرکے توہین عدالت کے نوٹس جاری کرے گی تو ایسی صورتحال میں ریگولیٹری اتھارٹی اپنا اختیار کیسے استعمال کرے گی؟۔ ہائی کورٹ یہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ پیمرا کا حکم غیر قانونی ہے۔ جسٹس امیرہانی نے ٹی وی چینل کے وکیل سے پوچھا کہ پیمرا کے نوٹس کا جواب دینے کی بجائے ہائیکورٹ کیوں چلے گا؟پیمرا نے جب نوٹس جاری کیا تو ہائی کورٹ سے توہین عدالت کے نوٹس جاری کرانا تو دباﺅ ڈالنے کا حربہ ہے۔ بول کے وکیل نے کہا اس وقت حالات ایسے تھے کہ ہمیں ایسا کرنا پڑا۔ جسٹس امیرہانی نے کہا قانون یہ نہیں ہے کہ اظہار وجوہ کے نوٹس کے خلاف حکم امتناعی لیں بلکہ اتھارٹی کو جواب دیں، کیا خود تسلیم کریں گے یاہم حکم جاری کریں؟۔ وکیل نے کہا سپریم کورٹ اپنے حکم میں لکھ دے تاکہ ہم اس کے مطابق عمل کریں۔ جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ مان لیں کہ آپ نے قانون کے مطابق عمل نہیں کیا۔ بول کے وکیل نے کہا کہ پیمرا نے ہمیں اس دوران چھ سات مزید نوٹس جاری کردیے ہیں ۔ جسٹس مظہرعالم نے کہا آپ مسلسل وہی پروگرام چلارہے ہیں اس لیے نوٹس جاری ہورہے ہیں۔
عامرلیاقت نے عدالت میں کھڑے ہوکر کہا کہ ’میں کچھ کہنا چاہتاہوںکیونکہ اس کیس میں براہ راست متاثر ہوں، فیصلہ عدالت کرے گی مگر دوسرے فریق نے باہر جاکر میرے خلاف بات کرنی ہے کہ عامر لیاقت نفرت پھیلاتاہے، نفرت میں نہیں یہ لوگ پھیلاتے ہیں ان لوگوں نے کہا ہے کہ پاکستان 65 کی جنگ ہار گیاتھا، ان لوگوں نے پاک فوج کو گالیاں دیں، پوری دنیا کے اخبارات ان لوگوں کی وجہ سے مجھے گالیاں دے رہے ہیں کہ میں نے نفرت پھیلائی، عدالت ان لوگوں کو باہر جاکر میرے خلاف بات کرنے سے روکے، یہ آرٹیکل 19 کے خلاف ہے کہ میں بول کران کاجواب نہیں دے سکتا‘۔
جسٹس امیرہانی نے کہا اس اپیل میں عدالت نفرت انگیز مواد کو نہیں دیکھ رہی، سب لوگ قانون کے مطابق چلیں، ہم کسی کو عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرنے سے نہیں روک سکتے۔ اسی دوران جبران ناصر نامی شخص نے عدالت میں عامر لیاقت کے جواب میں بولنے کی کوشش کی تو جسٹس امیرہانی نے کہا، بس بھائی، اب کوئی نہ بولے۔ پیمرا نے شکایات پر کارروائی ہے وہاں جاکر اپنا موقف پیش کریں۔
سپریم کورٹ نے پیمرا کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے ریگولیٹری اتھارٹی کو جاری کیے گئے توہین عدالت کے تمام نوٹس ختم کردیے۔ عدالت نے بول ٹی وی کو حکم دیاکہ لائسنس سیکورٹی کلیرنس کا معاملہ پیمرا حکام کو جواب دے کر طے کرے، پروگرام پر پابندی کے پیمرا کے نوٹس کا جواب دے اور اپیل میں ہائی کورٹ سے قانون کے مطابق رجوع کرے، ہائی کورٹ دونوں فریقوں کو سن کر فیصلہ دے۔
سپریم کور ٹ کے باہر بول ٹی وی کے وکیل نے میڈیا کے کیمروں کے سامنے گفتگو میں عدالتی حکم کے مطابق عمل کرنے کی بات کی تو عامرلیاقت سے صحافی مطیع اللہ جان نے پوچھا ، آپ کی اس فسادی تربیت میں جنگ/جیو گروپ کا کتنا کردار ہے؟۔ عامرلیاقت نے جواب دیاکہ پہلے میں یزید کے ساتھ تھا اب حسین کے لشکر میں ہوں۔ میرا عامر لیاقت سے سوال تھا، سپریم کورٹ نے کہہ دیاہے کہ جب تک ہائی کورٹ فیصلہ نہیں دیتی’ ایسا نہیں چلے گا‘ تو اب کیاکریں گے؟۔ عامر لیاقت نے کہاکہ دیکھیں میرا پروگرام کتنا مشہور ہے ہر زبان پر ایسا نہیں چلے گا، آتاہے۔ اب ہمارے پاس بہت سے آپشن ہیں پیمرا بھی جاسکتے ہیں اور ہائی کورٹ سے بھی قانون کے مطابق رجوع کیا جاسکتا ہے۔ یہ کہہ کر عامرلیاقت درجن بھرافراد کے جھرمٹ میں کیمروں کے سامنے سے ہٹ کر جانے لگے تو رپورٹر سجاد حیدر نے آواز لگائی’ آم کھائے گا آم‘ ۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے