شریک جرم پولیس

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
نومبر 2015 کا واقعہ ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر جی تیرہ سے اٹھائیس سالہ لڑکی لاپتہ ہوئی تو اس کی والدہ نے تھانہ گولڑہ میں اغوا کا مقدمہ درج کرایا۔ مقدمے میں شیرعلی نامی شخص کو ملزم نامزد کیا گیا جو ملٹی نیشنل کمپنی کا ملازم ہے۔ مدعی خاتون نے بتایا کہ اس کی بیٹی ایک نجی اسکول میں انتظامی افسر تھی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے لڑکی کو قتل کرکے نعش چارسدہ میں پھینک دی ہے۔ ملزم نے دیگر دو ساتھیوں شاہ فیصل اور محمد ایوب کو بھی شریک جرم بتایا جنہوں نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ ملزم کے مطابق لڑکی سے اس کے تعلقات تھے اور جب اس نے شادی کیلئے زور دینا شروع کیاتو اس کی پہلی شادی خطرے میں پڑگئی جس پر لڑکی کو چارسدہ بلایا اور پھر ساتھیوں کی مدد سے قتل کیا۔
مقدمہ چلا اورپھر ہائیکورٹ نے مرکزی ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیدیا۔ مرکزی ملزم رہا ہوا تو ساتھی ملزمان کی بھی ضمانت ہوگئی۔ مدعی خاتون نے ہائیکورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی تاکہ ضمانت منسوخ کرکے ملزمان کو سزا دلوائی جاسکے۔
جسٹس امیرہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ضمانت منسوخی کی درخواست سنی تو اسلام آباد پولیس کی ’اعلی تفتیش ‘ کے راز کھل گئے۔ تھانہ گولڑہ کے تفتیشی سے سپریم کورٹ کے ججوں نے تین سوال کیے تو عدالت میں موجود ہرشخص کو اس کی اہلیت کا پتہ چل گیا۔ معلوم ہوا کہ تفتیش نے ملزم کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیان پر واقعاتی شواہد اکھٹے ہی نہیں کیے، جائے وقوعہ سے ملنے والے سامان کا فرانزک لیبارٹری میں تجزیہ ہی نہیں کرایا۔ ججوں نے تفتیش افسر سے سوال کیا کہ مقتولہ کی قبر کشائی کرکے ڈی این اے کیوں نہ کرایا گیا تاکہ ملزمان کے خلاف مقدمہ مضبوط ہو جاتا۔ تفتیشی بولا کہ مقتولہ لڑکی کے باپ اور ماں میں قبرکشائی کرکے ڈی این اے کرانے پر اختلاف تھا۔ جسٹس امیرہانی نے تفتیشی کے ڈی ایس پی ادریس راٹھور کو طلب کرکے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ تو اس نے بھی یہی کہانی سنائی۔ ججوں نے پوچھا کہ وہ قانون بتا دیں جس میں لکھا ہے کہ قبرکشائی اور ڈی این اے کیلئے مقتول کے والد اور والدہ میں اختلاف پر پولیس تفتیش روک دے؟۔ عدالت نے پولیس حکام سے پوچھا کہ ایف آئی اے کے بعد وہ ضمنی دکھا دیں جس میں مقتولہ کے والد کا یہ بیان ریکارڈ کیا گیا ہو کہ وہ قبرکشائی اور ڈی این اے کیلئے راضی نہیں۔ پولیس اہلکار ضمنی کا بیان دکھانے میں ناکام رہے تو جسٹس امیرہانی نے کہا کہ اگر پولیس اسی طرح تفتیش کی اہلیت رکھتی ہے تو پھر تباہی ہے۔
عدالت نے لڑکی کے والد کو طلب کرکے حلف لیا اور پھر بیان ریکارڈ کرنا شروع کیا۔ پولیس کی کارکردگی کے مزید ثبوت سامنے آنے لگے تو ڈی ایس پی راٹھور نے کہا کہ مقتولہ کے والد نے ملزم پارٹی سے 80 ہزار روپے لیے اور بیان دیا، لڑکی کے والد نے کہا کہ ڈی ایس پی جھوٹ بول رہاہے۔ جسٹس امیرہانی نے کہا کہ مقتولہ کا والد حلفیہ بیان دے رہا ہے۔ کیا ڈی ایس پی حلف اٹھا کریہ بات کہہ سکتا ہے؟۔ عدالت نے ڈی ایس پی ادریس راٹھور سے تفتیش میں خامیوں پر تین چار سوال کیے تو وہ خاموش رہے۔
جسٹس امیرہانی نے یہ صورتحال دیکھتے ہوئے کہا کہ پولیس افسر سے تفتیش کی فائل فوری طور پر لے کر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے حوالے کی جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اب یہ فائل ہی تبدیل کر دیں۔ اس کے بعد عدالت نے حکم لکھوانا شروع کیا کہ تفتیش اسلام آباد کے ایس پی انوسٹی گیشن کیپٹن الیاس کے حوالے کی جاتی ہے تو مقتولہ لڑکی کی والدہ مدعی مقدمہ نے مداخلت کردی۔ مدعی بولیں کہ کیپٹن الیاس کو تفتیش نہ دیں کیونکہ اس افسر نے بھی ملزمان کو چھوڑنے کی سفارش کی تھی۔ججوں نے عدالت میں موجود اسلام آباد کے سابق آئی جی کلیم امام سے درخواست کی کہ راولپنڈی کا ہی کوئی ایماندار افسر بتادیں جس کو اس کیس کی تفتیش دی جاسکے۔ عدالت نے مقدمہ کی تفتیش راول پنڈی پولیس کے حوالے کرتے ہوئے حکم دیا کہ مقدمے سے متعلق تمام ریکارڈ اور مواد منتقل کیا جائے، عدالت نے ملزمان کے ڈی این اے کرانے کا بھی حکم جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کرنے والے سیشن جج راجا آصف کی کارکردگی پر بھی ناپسندیدگی کا اظہارکیا جنہوں نے مقدمے میں دائر کی گئی متفرق درخواستوں کو بروقت نہیں نمٹایا۔
صحافتی اصول اور اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقتولہ لڑکی اور اس کی والدہ کانام نہیں لکھا جا رہا)۔ مدعی خاتون نے عدالت نے اندر موجود رپورٹروں سے مل کر بتایا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو کئی اخبارات نے اس کا نام اور بیٹی کانام اس کے اسکول کے پتے کے ساتھ شائع کر دیا تھا جس کے بعد اس کو ملک بھر سے لوگوں نے ٹیلی فون کیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button