ماں کی گواہی

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
جسٹس دوست محمد خان بہت دلچسپ شخصیت ہیں، سپریم کورٹ میں آنے سے قبل پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ فوجداری قانون کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ عدالت عظمی میں قتل وسزائے موت کے مجرموں کی اپیلیں سننے کیلئے جسٹس دوست کا بنچ میں ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی وہ سپریم کورٹ کے ایسے تین رکنی بنچ کی سربراہی کر رہے تھے جو عمرقید کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سن رہا تھا۔ انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ مقدمات میں بھی ان کی طبیعت خوشگوار اور پرسکون رہتی ہے، یہ مظاہرہ روز دیکھنے کو ملتا ہے سو آج بھی مایوسی نہ ہوئی۔
پہلا مقدمہ وزیرآباد گوجرانوالہ کا تھا،جہاں 24 سالہ عرفان کو قتل کیا گیا تھا۔ دو افراد طارق محمود اور محمد شہباز کو ملزمان نامزد کیا گیا اور دونوں کو سزائے موت ہوئی۔ ہائیکورٹ نے اپیل سنی، عینی شاہدین اور میڈیکل رپورٹ میں تضاد سامنے آنے پر ایک ملزم شہباز کو بری کر دیا گیا جبکہ طارق محمود کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ جسٹس دوست محمد نے مقدمے کی فائل پڑھ رکھی تھی اس لیے استغاثہ کے وکیل پر سوالات کی بارش کر دی۔ بولے، مقتول کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نہیں لکھا کہ اس کی موت کون سے زخم سے واقع ہوئی؟جیسے مردہ خانے میں سوئپر سے نعش کا پوسٹ مارٹم کرایا ہو، مقتول اور ملزمان میں واقعہ سے چند روز قبل لڑائی ہوئی تھی پھر وہ کیسے ملزمان کے کہنے پر ان کے گھر چلا گیا؟۔ سرکاری استغاثہ کا وکیل بولا، صلح ہوگئی تھی مگر ملزمان نے معاملہ دل میں رکھا تھا اس لیے پانی پلانے کے بہانے ڈیرے پر بلا کر قتل کیا۔ جسٹس دوست نے کہا دل و دماغ کا حال صرف اللہ جانتا ہے، فائرنگ کے وقت تین افراد موجود تھے، دو نے فائرنگ کی، ایک مارا گیا، دو کیسے بھاگ گئے؟ کیا ان کے بھاگنے کی رفتار گولی سے زیادہ تھی؟۔
وکیل بولے، ملزم کی سزائے موت کو اسی وجہ سے عمرقید میں تبدیل کیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ پوسٹ مارٹم اور وقوعہ کے نقشے سے مکمل مطمئن نہیں تھی۔ پولیس نے اپنی رائے دی تھی۔ جسٹس دوست محمد بولے، سپریم کورٹ فیصلے دے چکی ہے کہ اگر کسی جج نے پولیس کی رائے پر فیصلہ لکھا تو خیر نہیں ہوگی، بتائیں سرکار اور مدعی نے دوسرے ملزم کی بریت کے فیصلے کے خلاف اپیل کیوں نہ کی؟۔ طارق محمود کو اٹھارہ نومبر 2004 کو گرفتار کیا گیا تھا، یہ تو عمر قید گزار چکا ہے ، اب اور کیا چاہتے ہیں؟۔ مرکزی ملزم شہباز بری ہوکر مزے کررہاہے اور طارق جیل میں ہے، یہ تو شریک مجرم ہے ۔ استغاثہ بولا، ملزم نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس نے قتل کیا ہے۔ تینوں ججوں نے کچھ دیر سوچا اور پھر جسٹس دوست محمد نے فیصلہ لکھوایا کہ طارق محمود کو ہائیکورٹ نے عمرقید کی سزا دی تھی اور وہ پہلے ہی دوگنا سزا بھگت چکا ہے اس لیے اگر کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔
دوسرے مقدمے کی آواز لگی تو جسٹس دوست محمد نے دیکھا کہ وکیل صاحب میں کوئی جان نہیں ہے تو بولے، ایسی موٹی موٹی باتیں کرلیں جو ہمارے دل کو لگیں۔ وکیل نے کہا فیصل آباد کا واقعہ ہے، جن گواہوں کو سن کر فیصلہ دیا گیا ہے وہ موقع پر موجود نہیں تھے، میرے پاس اس حوالے سے چار پوائنٹ ہیں۔ جسٹس دوست نے کہا چار نہ کریں دو پوائنٹ کرلیں۔ پھر بولے، قتل پہلی منزل پر ہوا، مجرم محمد قمر سیڑھیوں کے راستے بھاگ گیا، چھری اسی منزل سے برآمد ہوئی۔ مزید کہا، رشتے سے انکار مقتولہ رابعہ نے نہیں کیا تھا اس کی ماں کو اعتراض تھا کہ لڑکا لوفر ہے کام نہیں کرتا تو اس نے لڑکی کو کیوں قتل کیا؟۔ وکیل بولے، گواہ کہتے ہیں رشتے سے انکار پر اس نے گولی ماری۔ جسٹس قاضی فائز بولے، آپ اپنے موکل کو مروانے کے چکر میں ہیں، اس نے گولی نہیں ماری۔ وکیل نے کہا، ہاہا، مائی لارڈ، سوری، چھری سے وارکیا۔ جسٹس دوست محمد نے کہا چلیں، آپ کی ہائیکورٹ فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور کرتے ہیں بعد میں تیاری سے تفصیلی دلائل دیں۔
ایک اور مقدمے کی آواز لگی تو وکیل صاحب نے دلائل کا آغاز کرنا چاہا مگر جسٹس قاضی فائز بولے، آپ نے جو فائل جمع کرائی ہے اس میں سے تین صفحات غائب ہیں۔ وکیل کا نام رفاقت شاہ ہے، جسٹس دوست محمد بولے، آپ کی رفاقت ہمیشہ داغ دیتی ہے، غائب صفحات فائل میں شامل کرکے دوبارہ جمع کرائیں۔ وکیل نے دلائل دینے کی پرزور فرمائش کی تو جسٹس دوست نے کہا، ہوسکتا ہے کہ رات کو طبیعت کی خرابی کی وجہ سے آپ نے فائل دیکھی نہ ہو، ویسے بھی موسم بدلتا ہے تو الرجی اور وائرل انفیکشن ہو جاتا ہے۔
آخری مقدمے کی باری آئی تو خاتون وکیل درخواست گزار مجرم کی جانب سے پیش ہوئیں۔ جسٹس دوست محمد نے کہا، بھائی نے بھائی کو قتل کیا ہے اور ماں نے مقدمہ درج کرایا ہے، اب کیا کریں۔ خاتون وکیل نے کہا، زمین کا تنازع تھا مگر اس کیس میں گواہ بننے والا ذوالفقار بعد میں جائے وقوعہ پر آیا۔ جسٹس دوست محمد نے کہا، میں نے رات کو فائل پڑھی ہے، بہت کوشش کی کہ آپ کے موکل کیلئے کوئی گنجائش نکالیں، کیونکہ سارادن مرد وکیلوں کے مقدمے سن کران کے حق میں فیصلے دیے ، یہ نہ لگے کہ ہم صنفی امتیاز برت رہے ہیں مگر کیا کریںآپ کے موکل کے خلاف ماں کی گواہی موجود ہے، تمام تر واقعاتی شواہد کے ساتھ ماں کی گواہی بہت اہم ہے، روئے زمین پر اور ہمارے معاشرے میں خاص طور پریہ ناممکن ہے کہ ماں سگے بیٹے پر جھوٹا الزام لگا کر اسے پھنسائے۔ جسٹس دوست محمد نے کہا ، معاشرے میں بہت ابتری آگئی ہے مگر ماں کی ممتا نہیں بدلی۔ جج صاحب نے کہا، جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں تو ٹی وی دیکھتا ہوں، ڈسکوری چینل پر ایک ہرنی کو دیکھا جو اپنے نوزائیدہ بچے کیلئے شیر سے لڑنے کی کوشش کر رہی تھی، وہ اسے بچا نہ سکی اور پھر اس کی نعش کے قریب بیٹھ کر روتی رہی۔ اس کیس میں بھی مجرم بیٹے کی وجہ سے ماں پر بہت مشکل وقت آیا، ایک بیٹا قتل ہوگیا اور دوسرا جیل چلا گیا۔ جسٹس دوست محمد نے کہا، اب یہ ماں پر ہے کہ وہ بیٹے کو معاف کر دے، ہائی کورٹ نے تو عمرقید کی سزا سنائی ہے اور ہم بھی اس کو ختم نہیں کر رہے۔
(یہ شیخوپورہ کے کسی گاﺅں کا مقدمہ تھا جہاں ایک بھائی بشارت نے دوسرے بھائی طارق جاوید کو قتل کیا تھا)۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button