اوراب محفوظ فیصلے کا انتظار

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ بہت سے اینکروں اور سیاستدانوں نے کمرہ عدالت کا رخ اس خیال سے کیا تھا کہ شاید آج ہی وزیراعظم کو گھر بھیج دیاجائے، قانون اور عدالتی کارروائی سے نابلد لوگ سمجھے تھے کہ شاید کوئی مختصر فیصلہ سنا دیا جائے گا جس کی وجہ سے عدالت میں کھڑے ہوکر سانس لینا بھی محال تھا۔ عدالتی وقفے کے بعد کمرہ عدالت میں دوبارہ گھسنے کیلئے کئی سینئر صحافیوں کو بھی دھکا دینا پڑا، بعد میں دیکھا تو محترم حامد میر بھی شاید میرے دھکے کی زد میں آئے تھے۔ مگر اندر جانے اور مطلوبہ جگہ کھڑے ہوکر رپورٹ کرنے کا یہی تقاضا تھا۔ آج کی کارروائی ملاحظہ فرمائیں۔
پانچ رکنی عدالتی بنچ  نے پانامہ پیپرز کیس کی آخری دن سماعت کا آغاز کیا تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری، شیخ رشید اور جماعت اسلامی کے وکیل نے جوابی دلائل دیے۔ وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ گلف اسٹیل فیکٹری کے ذمے 63 ملین درہم کا قرض واجب الادا تھا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا ابتدائی دلائل میں آپ نے چھبیس یا اکیس ملین درہم کی بات کی تھی۔وکیل نے وضاحت دینے کی مزید کوشش کی تو جسٹس عظمت بولے، میری طبیعت ٹھیک نہیں ، پرانے دلائل نہ دہرائیں کوئی نئی بات کریں۔وکیل نے فیکٹری کی بات کو وہیں چھوڑا ، آگے بڑھے اور کہا منروا سروسز کمپنی کی دستاویزات پر مریم کے دستخط  ہیں، اس دستاویز کے حصول کیلئے جو درخواست کی گئی تھی وہ بھی پیش کی ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا مریم اپنے دستخط کو جعلی قرار دے چکی ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا آپ کہاں سے پڑھ رہے ہیں؟۔ وکیل بولے عدالت نے پوچھا تھا نئی دستاویز حاصل کی ہے اس سے پڑھ رہا ہوں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کیا ہم اس دستاویز کی تصدیق کرسکتے ہیں؟ہم خصوصی عدالت ہیں نہ احتساب عدالت کے طور پر کام کر رہے ہیں، کسی بھی کاغذ کے ٹکڑے کو ثبوت کیسے مان لیاجائے جب تک اس پر قانون شہادت کے مطابق تصدیق ریکارڈ نہ ہو۔ وکیل نے کہا سپریم کورٹ ماضی میں اپنے فیصلوں میں اسی طرح کے کاغذوں کو ثبوت مان چکی ہے، سندھ ہائیکورٹ بار کیس فیصلے جس میں پی سی او جج فارغ کیے تھے اور یوسف گیلانی نااہلی کا فیصلہ بھی موجود ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا وزیراعظم گیلانی کیس فیصلہ اس وقت دیا گیا جب ہرچیز واضح طورپر ثابت ہوگئی تھی۔وکیل بولے، اس کیس میں بھی وزیراعظم کی تقریر اور ان کے اثاثوں میں تضاد ثابت ہے۔ جسٹس اعجازافضل بولے، کیا ہم وہ تمام عدالتی فیصلے اور قانونی طریقہ کار چھوڑ دیں جو دہائیوں میں اختیار کیا گیا، کیا ہم آئین و قانون سے باہر نکل جائیں؟ ہم یہاں بنیاد ی حقوق کے آرٹیکل کے تحت مقدمہ سن رہے ہیں ٹرائل نہیں کررہے۔ عدالت صرف آج کیلئے ہی یہ مقدمہ نہیں سن رہی، فیصلے ہمیشہ آنے والے وقتوں کیلئے قانون بن جاتے ہیں اور ان کے اثرات ہوتے ہیں۔ وکیل نے کہا عدالت کے سامنے وزیراعظم کی دوتقاریر ہیں، ان کے بچوں کے بیانات ہیں اور دستاویزات بھی پیش کی ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ بولے، اگر قانون شہاد ت کو دیکھا جائے تو عدالت میں دونوں فریقوں کی جانب سے لایا گیا مواد طریقہ کار کے مطابق نہیں۔وکیل نے کہا، وزیراعظم کی نااہلی کیلئے میرے دلائل واضح ہیں، میرے وزیراعظم گلف اسٹیل فیکٹری کے حاصل کی گئی رقم کے بارے میں غلط بیانی کے مرتکب ہوئے، وزیراعظم کی بیٹی لندن کے فلیٹوں کی مالک ہیں، اگر پانامہ پیپرز غلط ہیں تو وزیراعظم نے موزیک فونسیکا فرم کو نوٹس کیوں نہیں بھیجا؟۔یہی میرا مقدمہ ہے اور اسی پر عدالت سے فیصلہ چاہتاہوں، وزیراعظم نے قطر والوں کو نوازنے کیلئے وہاں کی کمپنی سے اربوں ڈالر ایل این جی کامعاہدہ کیا۔ جسٹس کھوسہ نے پوچھا، کیا یہ معاملہ آپ عدالت کے سامنے لے کر آئے ہیں؟۔ وکیل بولے، نہیں،میرا خیال ہے کہ اس پر سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہوئی ہے۔ اصل مسئلہ قطری دستاویزات ہیں جو کمال مہارت سے تیارکی گئی ہیں۔  1980سے لے کر سن 2000 تک ثانی خاندان بطور بنک کام  کرتا رہا، اس وقت تک شریف خاندان کو سرمایہ کاری سے ایک روپیہ کے منافع کی ادائیگی نہیں کی گئی۔لندن میں واجب الادا آٹھ ملین ڈالر کا قرض بھی شریف فیملی کیلئے ثانی خاندان نے ادا کیا۔ایک بار بھی رقم بھیجنے کیلئے بنک کا سہارا نہیں لیا گیا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا اگر آپ کے کچھ دلائل کو مدنظر رکھاجائے تو عدالت کے سامنے لائی گئی دونوں فریقوں کی ننانوے فیصد دستاویزات فارغ ہوجائیں گی۔ نعیم بخاری نے کہا فیصلہ کرنے کیلئے عدالت کے پاس کافی مواد موجود ہے۔ عدالت نے نعیم بخاری کا جوابی دلائل کیلئے شکریہ اداکیا تو شیخ رشید کی باری آئی۔
شیخ رشید نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت نے شریف خاندان کے وکیلوں سے 371 سوال کیے، جواب نہ آیا، سب سے زیادہ سوال جسٹس عظمت نے کیے اس لیے ان کا دل زخمی ہوا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کیا جواب نہ آنے سے ایسا ہوا۔ شیخ رشید نے اثبات میں جواب دیا تو سب لوگ ہنس پڑے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا دلائل مختصر رکھیں تو شیخ رشید نے کہا ان کے دلائل سویٹ، سمارٹ ، شارٹ اور سمپل ہیں جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، جسٹس عظمت نے شیخ رشید کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی، بولے آپ سنجیدگی اختیار کریں گے تو سب لوگ سنجیدہ ہوجائیں گے۔ شیخ رشید نے کہاعدالت وزیراعظم کی دو تقاریر سے ہی فیصلہ کرسکتی ہے،سپریم کورٹ نے پہلے بھی بیس ارکان اسمبلی کو نااہل کیا، میرا مقدمہ بھی صادق وامین کا ہے، شریف خاندان نے جائیداد کے کاغذات بنانے کیلئے افسانے گھڑے مگر رنگ نہ بھرسکے، یہی کاغذات میں بناتا تو زیادہ بہتر ہوتے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے برجستہ کہاکیا اس کا مطلب ہے آپ اس کا م میں مہارت رکھتے ہیں۔ جج کی بات سے کمرہ عدالت کافی دیر تک کامیڈی شو کا منظر پیش کرتارہا۔
شیخ رشید نے کہا اس عدالت سے انصاف کی پوری امید ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا انصاف وہی سمجھا جاتا ہے جو اپنے حق میں ہو، بدقسمتی سے صرف اپنی پسند کا فیصلہ انصاف قرارپاتا ہے،خلاف فیصلہ آئے تو وکیل بھی اپنے موکل کو بتاتاہے کہ جج نالائق ہے یا پیسے کھا گیا ہے۔ شیخ رشید نے کہا انصاف کیلئے یہ آخری موقع ہے، عدالت تاریخی فیصلے میں کرپشن کا خاتمہ کرے، اگر کرپشن کرنے والوں کو سزا نہ ملی تو یہ ملک خانہ جنگی کی طرف جائے گا، یہ ملک غیر جمہوری لوگوں کے ہاتھ چلا جائے گا۔ شیخ رشید نے ایک برطانوی رکن پارلیمان کی نااہلی کیلئے وہاں کی عدالت کا فیصلہ پیش کیا تو جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اس کے بعد ہمارے پاس پڑھنے کیلئے جمع کرائے گئے کاغذات پچیس ہزار سے بڑھ کر چھبیس ہزار ہوگئے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کوئی بات نہیں میرے یہ صفحات رکھ لیں۔ جسٹس کھوسہ بولے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک لفظ پڑھنا ہے۔شیخ رشید نے کہا وزیراعظم کے وکیل نے ایک ہی سانس میں استحقاق بھی مانگا اور استثنا بھی۔وزیراعظم کو آئین کے تحت استثنا حاصل نہیں، صرف صدر کوہے، اس ملک میں ایسا صدر بھی گزرا ہے کہ کہتا تھا کرلو جو کرنا ہے مجھے استثنا حاصل ہے ( ان کا اشارہ سابق صدر آصف زرداری کی جانب تھا)۔وزیراعظم کے پہلے وکیل نے کہا تھا ہمارے پاس کچھ نہیں، اونٹوں اور گدھوں کا زمانہ تھا، نئے وکیل نے کہاکہ عوامی مفاد کے قانون کے تحت مقدمہ نہیں سنا جاسکتا، میرا موقف ہے کہ آرٹیکل 184 تین کے تحت عدالت کے پاس فیصلہ دینے کے وسیع اختیارات ہیں، عدالت وہ فیصلہ بھی دے سکتی ہے جو ہم نے نہیں مانگا، کیس آپ معزز ججوں کی سمجھ میں آچکاہے، ہم تو ویسے ہی وقت ضائع کررہے ہیں۔ اس بات پر پھر لوگ قہقہے لگانے پر مجبور ہوگئے۔ شیخ رشید نے ایک اور فیصلے کا حوالہ دیا اورپھر بولے، ججوں کے سرپر قائداعظم کی تصویرہے، قائداعظم نے کس پاکستان کی بات کی تھی ججوں کو یہ بات بھی دیکھناہے۔ جسٹس کھوسہ نے پوچھا، شیخ صاحب، کیا سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں قائداعظم کا کوئی فرمان لکھاہے جو آپ پڑھ رہے ہیں؟۔ شیخ بولے، نہیں، اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے احتساب بیورو کے ایک چیئرمین کو اڑایا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا،ہم نے کسی کو نہیں اڑایا، فیصلہ دیا۔ شیخ رشید بولے، یہ دوسرا فیصلہ بھی ہے جس میں سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے سربراہ کو اڑایا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا،آپ وہی بات کررہے ہیں کہ، تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے، یہ کسی کا ایجنڈا ہوکہ اڑادیا، یہ کردیا، عدالت فیصلے دیتی ہے۔ شیخ رشید بولے، ہمارے ڈاﺅن ٹاﺅن میں ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں، جہاں قانون کی سمجھ نہ ہولوگ فیصلوں کو ایسے ہی پڑھتے ہیں۔ عدالت میں بیٹھے لوگ ہنستے رہے۔
شیخ رشید نے کہا سپریم کورٹ کو فیصلے کرنے کا مکمل اختیار ہے یہاں سے آگے پھر اللہ ہی ہے، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سپریم کورٹ نے ایسے فیصلے دیے جو درخواست گزار نے مانگے بھی نہیں تھے، اس کے عبد شیخ رشید نے تین چار مقدمات کے حوالے نوٹ کرائے تو جسٹس آصف کھوسہ بولے ، آپ نے لکھ  کر دیدیے ہیں، پتہ نہیں پڑھے بھی ہیں یا نہیں، ہمیں تو پھر پڑھنا ہوں گے تاکہ فیصلہ میں ذکر کرسکیں اس لیے متعلقہ فیصلوں کے ہی حوالے دیں۔ شیخ رشید نے کہا، یہ ڈاﺅن ٹاﺅن کے منشی ایسے ہی لکھ کردے دیتے ہیں، آپ علم اور انصاف کے سمندر ہیں خود غور کرلیں۔پھر بولے، شریفوں نے سب کچھ جعل سازی سے تیار کیا ہے، رات کی تنہائی میں ان کے بنائے گئے دستاویزات پر دستخط دیکھے ہیں۔ اس پر پھر ہنسی کی آوازیں سنائی دیں۔
شیخ رشید بولے، اب اس فیصلے کی مثال دیتاہوں جس میں سپریم کورٹ نے نوازشریف کو ملک میں انٹری کی اجازت دی۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا انٹری کی نہیں ایگزٹ کیس کی کوئی مثال دیں جس پر عدالت میں بیٹھے لوگ ہنس پڑے۔شیخ رشید نے کہا شریف خاندان ذاتی مفاد کیلئے کام کرتا ہے، پورٹ قاسم کا ٹھیکہ دو ارب ڈالر میں شیخ حمد جاسم کو دیا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کس بنیاد پریہ بات کر رہے ہیں؟۔ شیخ رشید بولے،دوبار وفاقی وزیر رہا ہوں ذمہ داری سے بات کرتاہوں۔اب چوری کے کیس کے فیصلے کی مثال دیتا ہوں۔ جسٹس کھوسہ نے کہا چوری کے مقدمے میں ملزم سے مال برآمد ہوجائے تو اس کو ملکیت ثابت کرنا ہوتی ہے یہ قانون شہاد ت کے تحت ہے۔شیخ بولے، شریفوں نے مان لیاہے کہ یہ مال ہمارا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا،ہمارا مال اور چوری کا مال میں فرق ہے۔شیخ رشید نے دلائل مکمل کیے تو جج نے شکریہ اداکیا، شیخ رشید واپس مڑے اوربولے، ایک اوراہم نکتہ بتانا چاہتا ہوں، جسٹس کھوسہ بولے، کیا اب میں اپنا شکریہ واپس لے لوں؟۔ شیخ نے کہا وزیراعظم کی نااہلی کیلئے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی ذیلی شقوں کوملا کرپڑھاجائے( یعنی اگر کسی اور قانون کے تحت بھی رکن اسمبلی نااہلی ہوتا ہے تو وزیراعظم کو نااہل قراردیدیں)۔
عدالت میں جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے جوابی دلائل میں کہا کہ وزیراعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی،تمام جماعتوں نے احتجاج چھوڑ کرسپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار کیا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا اللہ کرے یہ اعتماد فیصلے کے بعد بھی برقرار رہے،وکیل نے کہا یہ بات مشروط ہوگی۔ جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کیا اس بات سے مشروط ہوگی کہ فیصلہ آپ کے حق میں آئے؟۔ جسٹس عظمت سعید بولے، ہمیں کسی کی پروا نہیں، اپنی اپنی قبروں میں جانا ہے، کسی فریق کو خوش کرنے نہیں قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے، جس نے شور مچانا ہے مچائے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں کیونکہ بیس سال بعد بھی اس کے حوالے دیے جاتے ہیں۔
جماعت اسلا می کے وکیل نے دلائل مکمل کیے تو عمران خان عدالت میں کھڑے ہوگئے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟۔ عمران خان بولے، ان کو عدالت کے پانچ  منٹ درکار ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا پھر سراج الحق بھی بولیں گے اور دوسرے لوگ بھی وقت مانگیں گے۔ عمران خان سے اصرار کیا تو جسٹس کھوسہ نے کہا تین منٹ میں غیر سیاسی بات کرلیں۔ عمران خان نے کہا عدالت اس لیے آیاہوں کہ پانامہ پیپرز آنے کے بعد دنیا بھر میں لوگ کرپشن کے خلاف نکلے، یہ قیادت کی دیانتداری کا مقدمہ ہے، عام لوگوں کے مقابلے میں لیڈرشپ کو زیادہ دیانتدار ہونا چاہیے، مجھ پر الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں اسی حوالے سے مقدمے ہیں، میں بھی اگر صادق وامین ثابت نہیں ہوتا تو لیڈر شپ کا کوئی حق نہیں۔صادق وامین ہونا کسی بھی ملک کی لیڈرشپ کیلئے بہت ضروری ہے کیونکہ اگر قیادت دیانتدار نہیں ہوگی تو ٹیکس اکٹھا نہیں کرسکے گی، اگر عوام کو لیڈرشپ پر اعتماد ہی نہ ہوتو پھر ٹیکس بھی نہیں دیتے۔ہم سب سے زیادہ عطیات دینے والے ممالک میں شامل ہیں مگر سب سے کم ٹیکس کم دیتے ہیں۔جن ملکوں نے ترقی کی اس کی وجہ وہاں کے مضبوط ادارے ہیں، اگر قیاد ت ایماندار نہیں ہوگی تو ادارے نہیں بنائے گی بلکہ پیسہ بنائے گی۔پاکستان حقیقی فلاحی ریاست کیلئے بنایا گیا تھا اگر یہ نہیں بن رہا تو ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ تھا، مدینہ کی ریاست میں محمد رسول اللہ نے ماڈل پیش کیا، حضرت عمر کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ دوسری طرف ہم ہیں اگر لیڈر ہی ایماندار نہ ہوتو کرکٹر اور پٹواری سے کیسے توقع دیانتداری کی توقع کریں گے ، لیڈر پیسے بنائے تو پٹواری سے ٹھیک ہونے کی توقع نہ کریں۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے عدالت میں کہا کہ کرپشن کے خلاف تمام اداروں کے دروازے بند پائے، ایوانوں میں بھی گئے تب یہاں آئے، ہم آپ کی اور آپ اللہ کی عدالت میں ہیں، صرف درخواست گزاروں نہیں کروڑوں لوگوں کی آپ پر نظر ہے، پہلے لیفٹ اور رائٹ کی بات ہوتی تھی، اب رائٹ اور رانگ کی بنیاد پر فیصلے ہونے چاہئیں، پیغمبروں کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد اب کتاب اور میزان ججوں کے ہاتھ میں ہے، اللہ کو حاضر ناظر جان کرکہتا ہوں عدالت میں سیاسی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کی خاطرآیا ہوں۔
اس کے بعد بنچ کے سربراہ جسٹس آصف کھوسہ نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کا اعلان کیا، فیصلہ محفوظ ہونے کا حکم جاری کرنے سے قبل کہا کہ فیصلہ لکھنے میں کچھ وقت لیں گے، مقدمے کے تمام پہلووں کو مدنظر رکھ کر طویل مشاورت کریں گے، یہ ایسا مقدمہ نہیں ہے کہ جس میں کوئی مختصر فیصلہ سنایا جاتا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے