طیبہ کیس چھوڑنے کیلئے رابطوں کی شکایت

سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں ٹرائل روکنے کاحکم دیتے ہوئے ہائیکورٹ کو 15 دن میں اس بات کا فیصلہ کرنے کا کہاہے کہ کیا یہ مقدمہ کسی دوسرے شہرمیں منتقل ہونا چاہیے؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ طیبہ کی حوالگی کا فیصلہ آئندہ سماعت پر کریں گے۔ وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ ان کو مقدمے سے الگ ہونے کے پیغام مل رہے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان بااثر ہیں، چالان میں ان کے خلاف متعلقہ دفعات شامل ہی نہیں کی گئیں، مقدمے میں جبری مشقت اور بچوں کی فروخت کی دفعات لگائی جائیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے نوٹس لیا ہے منطقی انجام تک بھی پہنچائیں گے،قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیں گے۔عاصمہ جہانگیر نے کہامقدمہ کسی دوسرے شہرمنتقل کرنے کی درخواست طیبہ کے والدین یا ریاست ہی کرسکتے ہیں مگر وہ ایسا نہیں کر رہے ۔چیف جسٹس نے کہا اس کیس میں ریاست کو خود ذمہ داری لینا چاہیے، الزام جوڈیشل افسر پر ہے مقدمہ بھی ان کے برابر کے جوڈیشل افسر کے پاس چلے گا کیا یہ مناسب ہوگا؟۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ مدعی خود بھی مقدمے کی منتقلی کیلئے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں۔عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے کہا حکومت اور مختلف اداروں نے رابطہ کیا ہے کہ یہ مقدمہ چھوڑ دوں، کسی دن تنگ آکر ان کے بارے میں بیان حلفی دیدوں گی۔ایڈووکیٹ جنرل نے کہا سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ ہائیکورٹ کو مقدمہ دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کرنے کیلئے کہے۔ سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں ٹرائل روکنے کاحکم دیتے ہوئے ہائیکورٹ کو 15دن میں اس بات کا فیصلہ کرنے کا کہاہے کہ کیا یہ مقدمہ کسی دوسرے شہرمیں منتقل ہونا چاہیے؟۔ طیبہ کی حوالگی کا فیصلہ آئندہ سماعت پراکیس مارچ کو کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے