پچیس برس کی کشمکش۔ پہلا حصہ

میں 1989ء میں جامعہ بنوریہ میں درجہ سابعہ کا طالب علم تھا جب عصر کی نماز کے بعد جامعہ کے سپورٹس گراؤنڈ میں مفتی عبدالرحیم صاحب کو تقریبا روز ہی دیکھنے لگا۔ وہ والی بال کھیلنے وہاں آتے۔ تب میں نوجوان اور وہ جوان تھے۔ وہ "دارالافتاء و الارشاد” میں مفتی رشید احمد رحمہ اللہ کے نائب تھے جو سخت گیر فقہی موقف کے سبب دیوبندیت میں ٹھیک ٹھاک قسم کی تنہائی کا شکار تھے۔ مفتی رشید احمد صاحب کو طبعا بھی وہ تنہائی پسند رہی ہوگی کیونکہ وہ گوشہ نشین قسم کے آدمی تھے، اپنے گوشے سے وہ صرف فجر کے بعد واک کی غرض سے نکلتے اور نارتھ ناظم آباد میں ضیاء الدین ہسپتال کے سامنے والے پارک میں جاتے۔ میرا اندازہ ہے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب کو یہ تنہائی قبول نہ تھی۔ اسے ختم کرنے کی پہلی ترکیب اس زمانے میں یہ کی گئی کہ مفتی رشید احمد صاحب سے بیعت کرنے والے علماء کے لئے زیرو میٹر موٹرسائیکل کے تحفے کی سکیم متعارف کرائی گئی لیکن ان چمکتی دمکتی موٹرسائیکلوں پر صرف قراء کرام کی ہی رال ٹپکی مولوی بدستور دور ہی رہے۔ آج جب غور کرتا ہوں تو یقین سا ہونے لگتا ہے کہ مفتی عبدالرحیم کا روز جامعہ بنوریہ والی بال کے لئے آنا محض والی بال کے لئے نہ رہا ہوگا بلکہ یہ درحقیقت "والی بال ڈپلومیسی” رہی ہوگی۔ اگر یہ ڈپلومیسی تھی تو اس کے نتائج بھی حوصلہ افزاء نہیں تھے۔ تیسری کوشش 1991ء میں سپاہ صحابہ کی سرپرستی کی صورت کی گئی مگر یہ سرپرستی بھی ایک سال کے اندر اندر فیل ہوگئی۔ اس کے فورا بعد حرکت المجاہدین کی سرپرستی کا مرحلہ آیا جہاں پہلی بار میں اپنے گروپ کے ساتھ ان کے مقابل آیا۔ حرکت المجاہدین کو ان کی گود میں رکھنے کے تنہاء ذمہ دار مولانا مسعود اظہر تھے جنہیں اس وقت کے ناظم امور حرب مولانا عبدالجبار کی بھرپور سنگت حاصل تھی۔ اگرچہ زبانی طور پر ہم روحانی برکت کا پرچار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم مذہبی لوگوں کے ہاں "سرپرستی” کے کل دو مقاصد ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ تمام مولوی جان جائیں کہ ہمارے سر پر ایک ہیوی ویٹ حضرت کا ہاتھ ہے لھذا رکاوٹ بننے سے گریز کیا جائے اور دوسرا یہ کہ ہیوی ویٹ حضرت کا نام چندے میں "برکت” کی گارنٹی ہو۔ مفتی رشید احمد صاحب کی سرپرستی میں ایک تیسری چیز کو غلبہ حاصل تھا اور وہ یہ کہ تنظیم کی فیصلہ سازی میں مفتی عبدالرحیم کا عمل دخل بہت بڑھ گیا تھا اور یہ اس حد تک بڑھا کہ انہوں نے حرکت المجاہدین اور حرکت الجہاد الاسلامی کے انضمام کا ڈول ڈال دیا اور وہ بھی یوں کہ دونوں جماعتوں کے امیر برطرف کردیئے جائیں جن کا اتحاد کے نتیجے میں وجود میں آنے والی جماعت "حرکت الانصار” سے کوئی تعلق نہ ہو۔ "استاذ صاحب ! استاذ صاحب !” سن سن کر ہمارے کان تو پہلے ہی پک چکے تھے جوں ہی یہ منصوبہ سامنے آیا ہم نے کھلی مزاحمت کی راہ اختیار کرلی۔ اس مزاحمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اتحاد کرانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن دونوں امراء کو اس سے باہر رکھنے میں ناکام رہے جبکہ سب سے اہم کامیابی ہماری یہ رہی کہ اتحاد کے نتیجے میں امارت کا خواب دیکھنے والے مولانا مسعود اظہر اسی عہدے پر رہ گئے جس پر وہ حرکت المجاہدین میں تھے۔ انضمام کے موقع پر مولانا مسعود اظہر کے حلقے کی طرف سے مفتی رشید احمد صاحب کی جانب منسوب کرکے یہ بات پھیلائی گئی کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ اس انضمام کے نتیجے میں مجھے دہلی کے لال قلعے پر اسلام کا پرچم لہراتا نظر آ رہا ہے۔ اس کا جواب گرومندر میں واقع اپنے دفتر سے ہم نے یہ دیا کہ اس انضمام کے نتیجے میں دہلی کے لال قلعے پر اسلام کا پرچم نہیں لہرائے گا بلکہ یہ انضمام تین سال کے اندر اندر ختم ہو جائے گا اور جب تنظیمیں واپس پرانی پوزیشن پر بحال ہوں گی تو مٹ بھی جائیں گی۔

اتحاد کے فورا بعد مولانا مسعود اظہر کشمیر میں گرفتار ہو گئے جبکہ ناظم اطلاعات و نشریات مولانا عبدالحمید عباسی ریڑھ کے شدید عارضے سے دوچار ہوگئے۔ مسعود اظہر کی گرفتاری کے نتیجے میں مفتی عبدالرحیم صاحب کی تنظیم پر گرفت کھڑے کھلوتے ختم ہوگئی جبکہ عباسی صاحب کی علالت کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں تنظیم کے قائمقام ناظم اطلاعات و نشریات کے طور پر مرکز میں آ گیا۔ میں نے آتے ہی حرکت کے لٹریچر اور جریدے میں ان کے تذکرے مکمل طور پر ختم کر دیئے۔ تیسرے سال میرے دعوے کے مطابق حرکت الانصار ٹوٹ کر بکھر گئی جس نے میری فسق و فجور سے بھرپور بصیرت پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ مفتی عبدالرحیم کوٹ بلوال جیل میں موجود مسعود اظہر سے مستقل رابطے میں تھے اور شدت سے ان کی واپسی کے منتظر تھے۔ یہ واپسی 2000ء میں ہوگئی۔ وہ مفتی عبدالرحیم کی آغوش سے اٹھ کر گئے تھے، لوٹ کر بھی وہیں آئے۔ ان کا سارا وقت وہیں گزرنے لگا اور صرف منتخب لوگوں کی ان تک رسائی تھی۔ وہیں جیش محمد وجود میں آئی جس میں حسبِ توقع مولانا عبدالجبار ان کے ساتھ شریک رہے۔ مجھے عسکریت سے دور ہوئے تین سال ہوچکے تھے اور ان دنوں میں روزنامہ اوصاف میں کالم نگار تھا۔ اس موقع پر میں نے مفتی عبدالرحیم صاحب کو اپنے زندہ ہونے کا احساس دلاتے ہوئے اپنا مشہور کالم "مسعود اظہر کو رہا کرو !” لکھا۔ اس کالم کے نتیجے میں پورے جہادی سرکل میں یہ بحث چھڑ گئی کہ مسعود اظہر تو انڈیا کی قید میں تھے جہاں سے وہ رہا ہو کر آگئے اور پاکستان میں بھی وہ کسی جیل میں نہیں ہیں پھر رعایت اللہ فاروقی کس رہائی کی بات کر رہا ہے ؟ ملک کے طول و عرض سے جو بھی مجھ سے اس بابت پوچھتا، میں کہتا "وہ مفتی عبدلرحیم کی قید میں ہیں” یہ کالم اس قدر اثر انداز ہوا کہ اس کے جواب میں چار مضامین روزنامہ اوصاف میں شائع کرائے گئے جبکہ مولانا مسعود اظہر نے بقلم خود اپنے ترجمان جریدے میں میرے خلاف اداریہ لکھ ڈالا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میرے کالم کا جواب لکھنے والوں میں عصمت اللہ معاویہ بھی شامل تھا۔ میں چونکہ عسکریت سے الگ ہو چکا تھا اور بہت جلد مسعود اظہر بھی مفتی صاحب سے دور ہو گئے سو خاموشی اختیار کرنا ہی مناسب سمجھا۔ سات سال بعد میں روزنامہ امت میں بطور کالم نگار آیا تو یہ کراچی کے کسی اخبار میں میری پہلی انٹری تھی۔ یہاں میں نے اوپر تلے چار کالم مفتی عبد الرحیم صاحب کے خلاف لکھے جن کا کوئی جواب نہ آیا۔ 2009ء میں پہلی بار مجھے خیال آیا کہ یار بہت لڑ لئے اب صلح ہونی چاہئے۔ میں اس سال اور اس سے اگلے سال تین بار جامعۃ الرشید گیا لیکن سرد مہری کا ہی سامنا ہوا چنانچہ فاصلہ اختیار کر لیا۔ اس دوران برادرم فیصل شہزاد نے خواتین کا اسلام کے لئے کچھ لکھنے کی فرمائش کی تو یہ کہہ کر انکار کردیا "کیوں اپنی نوکری کے دشمن ہوتے ہو ؟” ایک دوطلبہ نے سالانہ تقریب تقسیمِ اسناد میں مدعو کیا تو انہیں بھی سمجھایا کہ اس سے آپ کو نقصان ہوگا۔

پچیس برس پر محیط کشمکش کی اس مختصر سمری پر اگر آپ غور کریں تو اس میں کہیں بھی یہ نظر نہیں آتا کہ مفتی عبدالرحیم نے میرے خلاف فلاں اقدام کیا۔ اس پوری تاریخ میں جو بھی کیا میں نے ہی کیا اور یقین جانیئے بہت ہی جارحانہ کیا کہ تب آتش جوان سے بھی کچھ زیادہ ہی تھا۔ یہ تفصیل میں نے اس سے قبل کبھی بھی نہیں لکھی۔ آج اس لئے لکھی تاکہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ مفتی عبدالرحیم صاحب کا مجھ جیسے حریف کو جامعۃ الرشید مدعو کرنا ان کی کس درجے کی بڑائی ہے اور آپ جان سکیں کہ میرا وہاں جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ جتنا بھی لڑ لیں بالآخر چلنا آپ کو ساتھ ہی ہوتا ہے۔ کل کی اس یاد گار ترین ملاقات کی تفصیلات انشاءاللہ دوسرے حصے میں پیش کروں گا ! (جاری ہے)

متعلقہ مضامین