بدعنوان افسروں والا احتساب بیورو

اے وحید مراد
قومی احتساب بیوررو ایک ایسا ادارہ ہے جو بدعنوانی کے انسداد کیلئے بنایا گیا لیکن خود اس ادارے میں جس قدر بدعنوانی کا دور دورہ ہے اس کی جھلک ہر دوسرے دن سپریم کورٹ میں مختلف مقدمات میں سامنے آتی ہے۔ احتساب بیورو یعنی نیب میں جن افسران کے ذمے بدعنوان لوگوں کو پکڑنے کا کام ہے خود ان کا تقرر کرپشن کی ایک سے بڑھ کر ایک کہانی ہے۔
ایسے ہی افسران کے تقرر پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تو فوج سے نیب میں آنے والے کئی لوگوں کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے۔ یہ معاملہ عدالت کے سامنے تھا کہ نیب میں بیٹھی ایک خاتون افسر عالیہ رشید کے تقرر کی کہانی کھل گئی۔ اکیس گریڈ میں بیٹھی یہ خاتون بنیادی اہلیت کی حامل نہ تھی مگر نیب میں کنٹریکٹ پر تعیناتی کے بعد راتوں رات مستقل ہوکر ترقی بھی کرگئیں۔ نیب سے نکالی گئی گریڈ انیس کی ایک سرکای افسر خاتون نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ عالیہ رشید کو انیس سو پچانوے میں چھ ماہ کیلئے ایک نیم سرکاری محکمے میں کنٹریکٹ ملازمت پر رکھا گیا تھا اور آج عدالت کو بتایا جا رہا ہے کہ عالیہ رشید بائیس برس سے سرکاری ملازم ہے حالانکہ پہلی ملازمت سے فراغت کے بعد وہ برسوں منظرسے غائب رہیں۔ خاتون افسر نے کہا کہ دوہزار تین میں عالیہ رشید کو نیب میں کنٹریکٹ پر اٹھارہ گریڈ میں تعینات کیا گیا اور پھر صرف دوماہ بعد انیس گریڈ میں مستقل کر دیا گیا۔
عدالت میں عالیہ رشید کے وکیل نے بھرپور دلائل دیے مگر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ کس قانون اور کن قواعد کے تحت عالیہ رشید کو نیب میں تعینات کیا گیا، وکیل نے بتایا کہ عالیہ رشید ٹینس کھلاڑی تھیں اوراسی اہلیت کی بنیاد پر ان کا تقرر کیا گیا۔ عدالت نے سوال کیاکہ تاریخ میں ماسٹر کرنے والی خاتون کو تفتیش کرنے والے ادارے میں کیسے تعینات کیاجاسکتا ہے؟۔ عالیہ رشید کے وکیل نے کہا کہ تقرر کیلئے نیب قواعد کو دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی، وزیراعظم نے سپورٹس پالیسی کے تحت لگایا۔ احتساب بیورو کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں تسلیم کیاکہ تقرر کے وقت عالیہ رشید اہل نہیں تھیں اور مقررہ کردہ قابلیت نہیں رکھتی تھیں۔
ستائیس مارچ کو عدالت کو بتایا گیا کہ عالیہ رشید بیمار ہیں جبکہ اٹھائیس مارچ کو نیب نے عدالت کو مطمئن کرنے کیلئے خصوصی اقدام کے طور پر عالیہ رشید کو رفاہ یونیورسٹی بھیج دیا جہاں محترمہ نے انسداد بدعنوانی پر لیکچر دیا۔ اسی دن جب عدالت نے دوبارہ ان کے بارے میں دریافت کیا تو جواب ملا کہ میڈم یونیورسٹی کے طلبہ کو لیکچر دے رہی ہیں کیونکہ ان کا شعبہ ہی کرپشن کے انسداد کیلئے آگاہی وبیداری پیدا کرنا ہے۔ جسٹس امیرہانی نے کہا کہ گزشتہ روز تو کہا گیا تھا کہ وہ بیمار ہیں۔
انتیس مارچ کو عالیہ رشید عدالت میں آکر کھڑی ہوئیں اور بولنا شروع کیا تو ججوں نے کہاکہ آپ کا وکیل موجود ہے۔ تاہم عالیہ رشید نے وہ ’ہائی لی کوالیفائیڈ‘ ہیں ۔ وہ آبدیدہ ہوئیں تو جسٹس امیرہانی نے کہا کہ قانون کے سامنے جذبات کی کوئی قدر نہیں۔ عدالت نے پوچھا نیب میں تقرر کیسے ہوا؟۔ عالیہ رشید بولیں’ نسیم اشرف نے مجھے کنٹریکٹ پر رکھا، اور ایک صبح معلوم ہواکہ انیس گریڈ میں مستقل کردیا گیا ہے‘۔ جسٹس امیرہانی نے پوچھا کہ اہلیت کا کوئی معیار بھی ہوگا؟ کیسے تعینات کیا گیا اور کیوں مستقل کیا گیا؟۔ خاتون افسر نے جواب دیا، یہ مجھے نہیں معلوم، شاید اس وقت نیب میں سارے لوگ ملٹری سے تھے تو انہوں نے سوچاکہ ’سافٹ فیس‘ بھی ہوناچاہیے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ نیب جیسے ادارے کو سافٹ نہیں ہارڈ بلکہ اسٹیل فیس کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگ اس سے ڈریں۔
اس کے بعد سپریم کورٹ نے نیب میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدوں پر فائز فوج سے آنے والے تین میجروں کے بارے میں پوچھاتو پراسیکیوٹرجنرل نے کہاکہ ان کے ادارے نے اجازت دی تھی ۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھا کہاکہ ان افسران کو تفتیش کاکتناتجربہ تھا؟۔ جسٹس امیرہانی نے پوچھاکہ اہلیت کیاتھی؟۔ پراسیکیوٹر جنرل اپنی بات پر اڑے رہے تو جسٹس امیرہانی نے کہاکہ نیب کے قوانین اور قواعد میں ترمیم کرلیں کہ فوجی افسرکو لگانے کیلئے اہلیت وقابلیت کی قید نہیں ہوگی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ ایک طرف کہتے ہیں کہ ان کی اہلیت کا تعین نیب نے کیا، پھر کہتے ہیں کہ تقرر کیلئے قابلیت واہلیت کامعیار مقرر ہے مگر ان افسران کیلئے کسی قانون وضابطے کی ضرورت نہیں۔
اس موقع پر دوکروڑ والے وکیل خواجہ حارث نے نیب افسران کے حق میں کچھ فیصلوں کے حوالے دے کردلائل شروع کرنا چاہے تو جسٹس امیر ہانی نے کہاکہ ہم نے آپ کو سن لیاہے، ویسے بھی ہمیں یقین ہے کہ آپ مخالف جانب سے بھی کھڑے ہوں تو چار فیصلوں کے حوالے ان کی حمایت میں بھی دکھادیں گے۔نیب کے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ان افسران کے تقرر کیلئے جاری اشتہار میں کہا گیا تھا کہ ’کوئی بھی قابلیت‘ ہو۔ جس پر جسٹس امیرہانی نے کہا کہ کوئی بھی قابلیت سے مراد پانچ جماعتیں یا میٹرک پاس ہرگز نہیں ہوگا۔
عدالت کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ انہوں نے کل 629 افسران کے تقرر کا جائزہ لیا جس میں سے 1011افسران کے تقررمیں بے ضابطگی پائی گئی، ان میں سے آٹھ ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔ سیکرٹری نے کہاکہ رپورٹ میں 137افسران کی ترقی میں بے ضابطگی کی نشاندہی کی ہے جس سے احتساب بیورو کے چیئرمین نے اتفاق کیا، ان میں سے 35 افسران ریٹائر ہوگئے ہیں۔
اس کے بعد سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے چار ڈائریکٹر جنرل کو عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا، ہٹانے جانے والے افسران میں ڈی جی لاہور برہان علی، ڈی جی کراچی شبیر احمد، ڈی جی بلوچستان طارق محمود اور ڈی جی آگاہی عالیہ رشید شامل ہیں۔ عدالت نے پچانوے نیب افسران کے تقرر اور ترقی کو جانچنے کیلئے کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے جس کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ احتساب بیورو میں افسران پبلک سروس کمیشن کے ذریعے لگائے جائیں۔

متعلقہ مضامین