کس بات پر اتراتے ہو؟

احساس/ اے وحید مراد
امریکا میں خلابازی کے مضمون کا ایک طالب علم اسنوڈن چند برس قبل مشاہداتی و مطالعاتی دورے پر پاکستان آیا۔ یہاں ملک کے چند بڑے شہروں کو دیکھنے اور پاکستانی زندگی کے بارے میں آگاہ کرنے کیلئے اس کو ایک گائیڈ/ رہنما فراہم کیا گیا۔ امریکی طالب علم اسنوڈن کو گاﺅں اور دیہات کی زندگی دیکھنے کا شوق تھا مگر حفاظتی انتظامات وخدشات کی وجہ سے ویزہ چند بڑے شہروں تک محدود تھا۔ دوسری جانب اس کو فراہم کیے گئے پاکستانی گائید کی بھی خواہش تھی کہ اسنوڈن پرملک کے بڑے شہروں اور پاکستان کی اعلی سوسائٹی کا رعب جمایا جائے۔ گائیڈ نے پہلے امریکی طالب علم کو لاہور کے تاریخی مقامات دکھائے، مغلوں کے عہد کے بارے میں بتایا، پھر اس کو جدید پاکستان دکھانے کیلئے ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی کا دورہ کرایا اور پاکستان کے جرنیلوں کی رہائش گاہوں سے مرعوب کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اسے پاکستان کی سب سے بڑی نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون لے گیا، دنیا کی تیسری بڑی مسجد دکھائی، نجی سوسائٹی کے روح رواں ملک ریاض کا غائبانہ تعارف کرایا۔
لاہور کے بعد اسلام آباد کی باری آئی تو گائیڈ نے اسنوڈن کو متاثر کیلئے خوب جتن کیے۔ ویب سائٹوں کی معلومات پر انحصار کرتے ہوئے پاکستانی گائیڈ نے اسنوڈن کو بتایا کہ یہ شہر دنیا کا دوسرا خوبصورت ترین دارالحکومت ہے، امریکی چونکہ ویسے بھی دنیا سے نابلد رہتے ہیں، اور اسنوڈن تو خلابازی کا طالب علم تھا اس نے ان معلومات پر صرف سر ہی ہلایا، کوئی سوال نہ اٹھایا۔ اسلام آباد کے تمام مشہور اورغیر معروف مقامات دکھانے کے بعد پاکستانی گائیڈ نے امریکی طالب علم کو بتایا کہ اب ہم اسلام آباد کے ڈیفنس ( ڈی ایچ اے) اور بحریہ ٹاﺅن جائیں گے۔ گائیڈ نے اپنے کچھ دوستوں کے ذریعے کوشش کرکے ملک کے چند بڑے تاجروں، سیاستدانوں اور ریٹائرڈ جرنیلوں سے بھی اسنوڈن کی ملاقات کرائی۔ امریکی طالب علم جہاں جاتا، جس سے بھی ملتا اسے گفتگو میں پراپرٹی اور پلاٹ جیسے مانوس الفاظ سننے کو ملتے ۔ اس کیلئے یہ بات حیران کن تھی۔ ریٹائرڈ جرنیل، سیاستدان اور ایک بڑے صحافی سے بھی گفتگو ہوئی، مگرانہوں نے جن لوگوں سے فون پر گفتگو کی تو پراپرٹی اور پلاٹ کے علاوہ فائل اور ٹرانسفر جیسی اصطلاحات سن کر اسے عجیب سا لگا۔ اسنوڈن نے اردو کے عام فہم اور چھوٹے موٹے الفاظ و جملے سیکھنے کی کوشش بھی شروع کر دی۔ گائیڈ کی رہنمائی میں مختلف شخصیات سے کرائی گئی ملاقاتوں میں امریکی طالب علم کو پاکستانیوں کی ایک اور بات بھی دلچسپ لگی، وہ یہ کہ ہر شخص اس کو اپنی امارت کے قصے سناتا، مثلا شہرکا ایک بڑا وکیل جو اسلامی اسکالر بھی بننے کی کوشش کرتا ہے اس نے اسنوڈن کو بتایا کہ اگر وہ چاہے تو کئی جزیرے خرید سکتا ہے، اس کے پاس دولت کے انبار ہیں، مگر صرف لوگوں کی خدمت کرنے کیلئے پاکستان جیسے ملک میں بیٹھا ہے۔ امریکی طالب علم کی سب سے دلچسپ ملاقات بحریہ ٹاون کے مالک سے رہی۔ ملک ریاض نامی اس شخص نے اسے بتایا کہ دنیا میں اہمیت رکھنی والی پاکستانی فوج کا کوئی جرنیل ریٹائرڈ ہوتا ہے تو نوکری کیلئے بحریہ ٹاون سے رجوع کرتا ہے۔ ملک ریاض نے سی این این سمیت عالمی نشریاتی اداروں کے بحریہ ٹاﺅن کے بارے میں نشر کی گئی خبریں بھی دکھائیں (ہرچند کہ وہ بطور اشتہار چلائی گئی ہوں)۔ ملک ریاض نے پاکستان کی فوج کے سربراہ سے اپنے خصوصی تعلقات کے بارے میں انکشافات سے بھرپور انٹرویو بھی اسنوڈن کو پڑھنے کیلئے دیا ( رائٹرز کی جانب سے شائع کیا گیا یہ انٹرویو ایک دن بعد واپس لے لیا گیا تھا)۔ ملک ریاض نے اپنے منصوبوں کے بارے میں اسنوڈن کو تفصیل بتائی۔ ملک ریاض نے امریکی طالب علم کو بتایا کہ اگراس کا دل چاہے تو کسی بھی وقت پاکستان کی پوری پارلیمنٹ کے اراکین کو خرید لے۔ امریکی طالب علم کے حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب ملک ریاض نے امریکا کی ایک ریاست کا نام لے کر کہا کہ اس جتنے رقبے کا وہ اکیلے مالک ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس امریکی ریاست کا نام خلاباز طالب علم اسنوڈن نے بھی کبھی نہیں سنا تھا۔
دن گزرتے گئے اور اسنوڈن کا دورہ مکمل ہوگیا۔ پاکستان کی شہری یا دیہی زندگی کا مطالعہ کتنا ہوا، یہ تو اس کو بھی سمجھ نہ آیا مگر ایک بات اس کے ذہن میں بیٹھ گئی کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو زمین کے ٹکڑوں، بڑے گھروں اور مال و دولت کے انبار لگائے بیٹھے ہیں اور یہی چیز ان کی اور ان کیلئے سب کچھ ہے۔ اسنوڈن نے زندگی کے بارے میں جو کچھ پڑھا تھا، یا امریکا میں جس طرح کے معاشرے میں وہ جی رہا تھا اس پر ایمان متزلزل ہونے لگا۔
امریکی طالب علم اسنوڈن نے خلابازی کی تعلیم مکمل کرلی۔ اسے خلابازی کے ادارے میں عملی تربیت کیلئے بھیج دیا گیا۔ دوہزار سولہ شروع ہوا تو اسنوڈن مکمل خلاباز بن چکا تھا اور آسمان کی وسعتوں کی جانب پرواز کرنے کیلئے پرجوش تھا۔ آخر کار امتحان کا دن قریب آ گیا، دیگر خلاباز وں کے ساتھ اسنوڈن کو خلائی جہاز میں بھیج دیا گیا۔ پہلے پہل تو اسنوڈن کا دل گھبرانے لگا مگر کچھ دیر بعد جب وہ کائنات کی بے کراں وسعتوں میں کھونے لگا تو اس پر حیرتوں کے جہاں کھلنے لگے۔ ہزاروں میل اوپر جانے کے بعد اچانک اس کے ساتھی خلابازوں کو یاد آیا کہ ہمارے ساتھ اسنوڈن بھی ہے جو پہلی بار آیا ہے۔ انہوں مل کر اسے آواز دی اور کہا کہ وہ نیچے دیکھو، اسنوڈن نے پوچھا، کیا ہے؟۔ مجھے تو کئی روشن بڑے چھوٹے گولوں کے درمیان ایک چھوٹا سی نکتہ نما گیند نظر آرہی ہے۔ دیگر خلابازوں نے مسکرا کر کہا، یہی چھوٹی سی گیند تمہاری زمین ہے جس میں اتنی بڑی ریاست ہائے متحدہ امریکا اور اس کی ایک ریاست میں تمہارا بڑا سا گھر اور پھر فارم ہاﺅس ہے۔ اسنوڈن اپنے ساتھیوں کے طنز یا مزاح کو نظر انداز کرکے سوچ میں پڑ گیا، پھر اسے پاکستانی تاجر، سیاستدان اور جرنیل یاد آگئے۔ اسے پراپرٹی، پلاٹ اور فائلوں کا خیال آیا، اسی دوران زمین کی گیند کو دیکھتے ہوئے اسے ملک ریاض کی باتیں یاد آگئیں تو اس نے دل کھول کر قہقہہ لگایا اور پاگلوں کی طرح ہنسنے لگا۔ ساتھی خلاباز حیران ہو کر اسنوڈن کو دیکھنے لگے، پھر انہوں نے یک زبان ہو کر پوچھا کہ ہمیں بھی بتاﺅ، ہوا کیا ہے؟۔ اسنوڈن جو پاکستان میں رہ کر اردو کے چند جملے سیکھ چکا تھا اس نے ساتھی خلابازوں کے انگریزی میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کائنات کی وسعتوں میں دنیا کے گولے کو بمشکل دیکھتے ہوئے اردو میں کہا ’ ارے الو کے پٹھو۔۔ کس بات پر اتراتے ہو ؟‘۔ دیگر خلاباز سمجھے کہ پہلی بارخلا میں آنے والے اسنوڈن کے دماغ پر اثر ہوگیا ہے، مگر ان کو خبر نہیں تھی کہ اسنوڈن کے ذہن میں یہ جملہ کہتے ہوئے پاکستانی تاجر، سیاستدان، جرنیل اور ملک ریاض کے چہرے گھوم رہے تھے۔
( یہ گزشتہ برس لکھی گئی ایک فرضی کہانی ہے، کسی بھی قسم کی مماثلت تلاش کرنے والے پاکستان کے پراپرٹی ڈیلر خود ذمہ دارہوں گے)۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے