پانچ ججوں کی الگ الگ رائے

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
صبح آٹھ بجے سے ہی عدالت کے اندر اور باہر ہجوم تھا، ہرایک کے ہاتھ میں موبائل فون تھا اور تصاویر بنانے والوں کی چاندی تھی۔ ہمیں ٹی وی پر رونمائی کرانا تھی، بہت کچھ بول دیا اور باقی فیصلے تک چھوڑ دیا۔
صبح سے دوپہر ہوتی گئی اور بھیڑ بڑھتی چلی گئی، سپریم کورٹ میں ٹی وی و اخبارات سے وابستہ کم وبیش پانچ سوافراد پہنچ چکے تھے اور اکثریت ان کی تھی جنہوں نے بس فیس بک دوستوں کو یہ بتانا تھا کہ وہ اس ’تاریخی‘ موقع پر موجودتھے۔ ایک بجے کمرہ عدالت نمبر ایک میں گئے تو وہاں صحیح معنوں میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ گھٹن کے اس ماحول میں ایک گھنٹہ گزارا تو ججوں کی آمد ہوئی۔
عمران خان پہلی صف میں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ موجود تھے۔ شیخ رشید اور جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی تشریف فرما تھے۔ جماعت اسلامی کے معاون وکیل نے عدالت کے باہر مجھ سے عدالتی رپورٹنگ کا گلہ بھی کیا۔ بولے، کسی نے مجھے ایک خط بھیجا، لفافہ کھولا تو دو صفحات تھے اور اوپر آپ کا نام تھا، اور پھر بس آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ ہمارے وکیل کے ساتھ جو آپ نے کیا تھا۔ خیر، گپ شپ میں بات آئی گئی ہوگئی۔
پورے دو بجے فیصلہ سنانے سے قبل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ سب لوگوں نے انتہائی صبروتحمل اور وقار سے سماعت سنی اور اب تک فیصلے کا انتظارکیا، امید ہے کہ یہی صبر وتحمل عدالتی فیصلے کے بعد کمرہ عدالت اور احاطہ عدالت میں برقرار رکھا جائے گا، عدالت سے باہر جاکر اپنا ردعمل ظاہر کیاجاسکتا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہاکہ یہ توقع اور درخواست بھی کروں گاکہ سب لوگ پورا فیصلہ پڑھنے کے بعد اپنی رائے دیں، تبصرہ کریں یاردعمل دکھائیں۔
فیصلہ پڑھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پانچوں ججوں نے اس کیس میں اپنی الگ الگ رائے دی ہے، تین ججوں کا فیصلہ ہے جو جسٹس اعجازافضل نے تحریر کیا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہاکہ میں نے اور جسٹس گلزار نے تینوں ججوں سے اختلاف کیاہے اور الگ نوٹ لکھاہے۔ اس کے بعد جسٹس کھوسہ نے پہلے تین ججوں کا فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کے مطابق تفتیش کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے گی اور پھر اس کے بعد جسٹس کھوسہ نے اپنا اختلاف نوٹ پڑھا جس میں جب وہ اس نکتے پر پہنچے کہ وزیراعظم کو نااہل قراردیاجاتاہے تو تحریک انصاف اور ن لیگ مخالف دیگر لوگوں نے تالیاں پیٹنا شروع کردیں، بعد میں وکیلوں نے سمجھایا کہ یہ اختلاف نوٹ تھا فیصلہ نہیں۔ اس دوران جج اٹھ کر جاچکے تھے۔ عدالت کے فیصلہ سنانے میں کل دس منٹ لگے۔
ہم نے باہر دوڑلگاکر دفتر کو خبر دی اور پھر ٹی وی اسکرین پر اپنے ناظرین کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس وقت ساڑھے پانچ سو صفحات میرے سامنے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے ایک سو چونسٹھ صفحات تحریر کیے ہیں جو پڑھ چکاہوں۔ ابتداء انہوں نے ماریو پزو کے مشہورزمانہ ناوال گاڈ فادر کے ڈائیلاگ سے کی ہے۔
’ہرذخیرہ دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتاہے‘۔
انیس سو انہتر کے اس ناول پر کئی فلمیں بن چکی ہیں اور ایک تو بہت مشہور ہوئی تھی، دس بار میں بھی دیکھ چکاہوں اور جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی اس فلم کاحوالہ دیاہے۔ جسٹس آصف لکھتے ہیں کہ یہ اٹلی کے ایک مافیا ڈان کے خاندان کی پرتشدد کہانی ہے۔ یہ ڈائیلاگ فرانسیسی ہانرے دی بلزاک کے ہیں، کہ ہر عظیم کامیابی کے پیچھے جرم ہوتاہے مگر اس کی کامیابی کی وجہ وہ زبردست منصوبہ بندی ہوتی ہے کہ جرم کبھی پکڑا نہیں جاسکتا۔‘
جسٹس آصف کھوسہ لکھتے ہیں کہ یہ المیہ اور ایک زبردست اتفاق ہے کہ عمران خان کی اس مقدمے میں درخواست بھی اسی ایک جملے کے گرد گھومتی ہے جو ہانرے دی بلزاک سے منسوب ہے۔
عمران خان کا الزام بھی یہ ہے کہ چونکہ وزیراعظم کا اقتدار دہائیوں پر محیط ہے اس لیے اس خاندان کے دولت کے انبار غیر قانونی طریقے سے اور کرپشن و اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے نتیجے میں اکھٹے کیے گئے ہیں۔
(جسٹس کھوسہ کے اختلافی نوٹ اور اصل فیصلے کے کچھ نکات یہاں نقل کیے جارہے ہیں، مکمل فیصلے کا ترجمہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔ اور اسی مضمون میں اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔)

سپریم کورٹ نے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم بھي دیا، سپریم کورٹ میں پانامہ کیس فیصلے پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر میں غلط معلومات دیں جس کی بنیاد پر وزیراعظم آرٹیکل 63 ون کے تحت صادق اور امین نہیں رہے

سپریم کورٹ میں پانامہ فیصلے پر دو ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار نے اختلافی نوٹ لکھا جن میں سے جسٹس آصف سعید نے لکھا کہ وزیراعظم کی تقریر میں تضاد ہے اورنواز شریف صادق اور امین نہیں رہے،بینچ کے سربراہ جسٹس آصف کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم کو نااہل قرارديا

جسٹس اعجازافضل کی جانب سے لکھے گئے اصل فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ چونکہ قانون کسی بھی رکن پارلیمان کو اثاثوں کے ذرائع بتانے کا پابند نہیں کرتا، عوامی نمائندگی کا قانون صرف یہ کہتاہے کہ رکن اسمبلی اپنے اور زیرکفالت لوگوں کے اثاثے بتانے کا پابند ہوگا، اس لیے اس صورتحال میں عدالت کسی کے صادق وامین نہ ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتی جب قانون نے نوازشریف کو ایک بات کا پابند نہیں کیا تو اس سے وہ بات کیسے پوچھی جاسکتی ہے؟ وزیراعظم پر اس کے اثرات نہیں ہوسکتے، اس لیے اس مرحلے پر وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیاجاسکتا۔ قانون کے مطابق کسی بھی الزام پر ثبوت اکھٹے کرنے کیلئے تفتیش کی ضرورت ہے، جن کی روشنی میں عدالت معاملے کا مکمل ٹرائل کرے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھاہے کہ کہتے ہیں آپ جتنے بھی بڑے ہوں ،قانون سے بڑے نہیں ہو سکتے، آئین نے عدالت کو مکمل انصاف کی فراہمی کا اختیار دیا ہے، عدالت کے سامنے فلیٹوں کی ملکیت سے اہم وزیر اعظم کی دیانتداری کا معاملہ تھا، میں نے پیش کیئے گئے مواد کو ایک طرف رکھنے کا فیصلہ کیا ، یہ دیکھا کہ وزیراعظم اور اس کے بچوں کے جواب میں دیانتداری ہے یا نہیں، میں نے اپنی توجہ صرف وزیر اعظم کی دیانتداری کے معاملے پر مرکوز کی، انصاف کے حصول کے دیگر راستے بند ہو جائیں تو سپریم کورٹ فیصلہ کرتی ہے ،لندن فلیٹوں کی ملکیت سے شریف فیملی نے انکار نہیں کیا ، تمام فریقوں کو ثبوت پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا ، درخواست گزاروں نے وزیر اعظم کی دو تقاریر پر انحصار کیا، وزیر اعظم نے تما ریکارڈ موجود ہونے کا دعوی کیا تھا،وزیراعظم کے بچوں نے کہا کہ ریکارڈ موجود نہیں، عدالت میں طارق شفع کا پیش کیا گیا بیان حلفی جعلی ہے، شریف خاندان نے لندن جائیداد قانونی طریقے سے نہیں خریدی، شریف خاندان کے بیانات میں مکمل تضاد پایا جاتا ہے، دوران سماعت وکیل اکرم شیخ نے ڈرامائی طور پرتھیٹرکے انداز میں قطری خط نکالا، یہ قطری خط عدالت میں بم شیل کی طرح گرایا گیا اس توقع کے ساتھ کہ اس سے تمام الزامات ختم ہوجائیں گے۔عدالت کو قطری خط اور شریف خاندان کے پرانے کاروبار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا،قطری خاندان کے ساتھ سرمایا کاری کی کہانی نے کئی موڑ موڑے، وزیراعظم اور ان کے بچوں نے تحریری جوابات میں مختلف کہانیاں سنائیں، وزیر اعظم نے تقاریر اور عدالت میں قطر میں کسی سرمایاکاری کی بات نہیں کی، بیانات سے حیرت ہوتی ہے کہ دیانتداری وزیر اعظم کی ترجیحات میں کتنے نمبر پر ہے، جدہ میں فیکٹری لگانے کی کہانی نہایت ناقابل یقین ہے، وزیر اعظم اور اسحاق ڈار پر منی لانڈرنگ کے الزامات نئے نہیں ، رحمان ملک کی رپورٹ میں منی لانڈرنگ سے متعلق تفصیلی معلومات تھیں، رنجیدہ ہوں کی رحمان ملک کی رپورٹ کو کارپٹ کے نیچے ڈال دیا گیا، کسی عدالت نے رحمان ملک کی رپورٹ کی تصدیق نہیں کرائی، رحمان ملک بعد میں سیاست دان بن گئے، بظاہر سیاست احتساب پر غالب آ گئی ، اعلی سطح پر کرپشن کوئی نئی بات نہیں ۔

جسٹس اعجازافضل کا فیصلہ صرف سینتیس صفحات پر مشتمل ہے مگر جس کمال کی وہ انگریزی لکھتے ہیں اس سے زیادہ کمانڈ وہ قانون پر رکھتے ہیں۔
´جسٹس اعجاز لکھتے ہیں کہ ہمیں ضرور ایک خط امتیاز کھینچنا ہوگا اس عدالت کے عوامی مفاد کے قانون کے تحت حاصل اختیارات (آرٹیکل ایک سو چوراسی تین) اور احتساب عدالت کو اس کے آرڈیننس اور آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت نااہلی کے درمیان۔ عوامی نمائندگی کے قانون کی شق ننانوے اور جرم کا ذمہ دار قراردینے کے قانون کی شقوں نو، دس اور پندرہ کو بھی دیکھنا ہوگا، کسی رکن پارلیمان کو شفاف ٹرائل کے تمام ضابطے پورے کیے اور طے شدہ طریقہ کار اختیار کیے بغیر مجرم قرارنہیں دیاجاسکتا۔ ہم قانون اور آئین کی کھچڑی نہیں بناسکتے اس طریقے سے کہ آرڈی ننس کی شقیں نو اور پندرہ آئین کے باسٹھ اور تریسٹھ کے ساتھ عوامی نمائندگی کے قانون کی شق ننانوے میں رکھ کر پڑھیں اور عوامی مفاد کے مقدمے کے آرٹیکل ایک سوچوراسی تین میں ایسا فیصلہ دیدیں جو کہ احتساب عدالت ایک مکمل ٹرائل کے بعد دینے کی مجاز ہے۔اس طرح کا فیصلہ نہ صرف انصاف کے خلاف ہوگابلکہ قانون کی نظر میں فیصلہ تصور ہی نہیں ہوگاکیونکہ قانون اور اختیارسماعت کے بغیر دیاگیا ہوگا۔جب کسی شخص کے خلاف احتساب آرڈی ننس کے تحت مقدمہ چلانا ہے تو اس کے مطابق دیے گئے طریقہ کار کو بھی اپنانا ہوگا۔قانون کو اپنا کام کرنے دیں، تفتیشی اداروں کو اپنا کام کرنے دیں،احتساب عدالت اور دیگر متعلقہ عدالتیں موجود ہیں ان کو کام کرنے دیاجائے، وزیراعظم کو تفتیش، ٹرائل اور اپیل کے تمام مراحل سے گزرنے دیں۔ ہم ان تمام مراحل سے چھلانگ لگاکر آرٹیکل پچیس کی سنگین خلاف ورزی نہیں کرسکتے جو قانون کی حکمرانی کا دل اور اس کی روح ہے۔ہم اس طرح کا بھی کوئی جھکاﺅ نہیں رکھتے کہ وہ اختیارات حاصل کرکے استعمال کریں جو آئین اور قانون نے ہمیں نہیں دیے۔کسی بھی بیان کو دیکھنے کیلئے قانون نے جو چیزیں دی ہیں وہ جرح کے ساتھ قانون شہادت کے مطابق حقائق وثبوت کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے طریقہ کارہے۔ہم کسی ایک مقدمے کیلئے اس طے شدہ طریقہ کار سے انحراف نہیں کرسکتے اس لیے اصول قانون کا علم جو ہم نے صدیوں کی ریاضت سے حاصل کیا ہے جس کیلئے ہم نے اپنا خون، پسینہ بہایا ہے، اس کو کسی ایک مقدمے کیلئے مٹاسکتے ہیں اورنہ فنا کریں گے۔

متعلقہ مضامین