گاڈ فادر

اعجاز منگی
اسلام آباد کے باذوق کورٹ رپورٹر وحید مراد نے پناما کیس کا فیصلہ آنے سے قبل فیس بک پر اپنا یہ خدشہ اپلوڈ کیا تھا کہ’’مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ جسٹس آصف کھوسہ نے پھر فیصلے میں خلیل جبران کی نظم لکھ دی تو کیا ہوگا؟ یوسف رضا گیلانی فیصلے میں خلیل جبران کی نظم لکھنے پر بہت سے لوگ سمجھ نہیں پائے تھے۔ اور ایک چینل کے دفترسے رپورٹر کو فون آیا تھا کہ ’’ذرا خلیل جبران کا فون نمبر تلاش کرکے دیں۔ اس سے ٹی وی پر بات کرنی ہے!!‘‘
اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ اس بار بھی عالمی ادب سے شغف رکھنے والے دانشور مزاج جسٹس کھوسہ نے پناماکیس کے فیصلے کی ابتدا ماریو پزو کی مشہور ناول ’’گاڈفادر‘‘ کے اس جملے سے کی کہ ’’ہر بڑی دولت کے پیچھے جرم ہوتا ہے‘‘
یہ الفاظ ماریو پزو کے نہیں بلکہ فرانس کے مشہور ادیب بالزاک کے ہیں۔ اطالوی نزاد صحافی اور رائٹر ماریو پزو اپنی تحریر میں روسی اور فرانسیسی ادیبوں کے حوالے دیتا تھا۔ مافیا کو پاپولر ادب کا موضوع بنانے والے ماریو پزو بالزاک سے زیادہ دوستو وسکی سے متاثر تھا۔ مگر چونکہ اس کی بیسٹ سیلر بک ’’گاڈ فادر‘‘ میں یہ حوالہ موجود تھا اس لیے عالمی ادب کے عاشق جج نے عجلت میں یہ جملہ میاں نواز شریف کے حوالے کر دیا۔ حالانکہ بالزاک کی یہ بات پاکستان کے کس سیاستدان پر پوری اترتی ہے؟ اس سوال کا جواب جسٹس آصف کھوسہ اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں ’’گاڈ فادر‘‘ بننے کی کوشش کون کرتا رہا ہے؟ یہ کوئی مشکل سوال نہیں۔ کون کورلےؤن کا کردار کرنے والے مارلن برانڈو کے انداز سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے؟ کون نہیں جانتا!!؟
میاں نواز شریف نے تو شاید ماریو پزو نامی رائٹر اور گاڈ فادر نامی ناول کے بارے میں سنا بھی نہ ہو۔ ممکن ہے کہ انہوں نے کسی سے پوچھا ہوا کہ ’’یہ ماریو پزو کون ہیں؟اور ہمارا اس سے کیا تعلق؟‘‘
اگر پاناما کیس کے سلسلے میں عالمی ادب کا کوئی کوٹیشن اگر میاں نواز شریف پر پورا اترتا تو وہ شاید اس جوزف پرودھون کا ہوتا ؛ جس نے لکھا تھا کہ ’’ملکیت کا مطلب ہے چوری‘‘
یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ بالزاک کی طرح پرودھون کا تعلق بھی فرانس سے تھا۔ وہ پہلا سیاسی دانشور جس نے لکھا تھا کہ ’’میں انارکسٹ ہوں‘‘ انارکزم کو سیاسی فلسفے کا درجہ دینے والے پرودھون کا نام آتا تو سیاسی عروج اور زاول کی کہانی بھی کھلتی جاتی۔ جب کارل مارکس پیرس میں جلاوطن تھا تب اس کی ملاقات پرودھون سے ہوئی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے پر بہت اثرانداز ہوئے۔ ہر انارکسٹ کی طرح پرودھون میں بھی ایک نرگسیت اور رومانیت ہے۔ مگر ہم اس دلچسب کردار کا تذکرہ پھر کبھی کریں گے۔
اس وقت تو ہمارا موضوع وہ ماریو پزو ہے جس نے اگاتھا کرسٹی کی طرح جاسوسی کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔ ممکن ہے کہ وہ نیل اسٹیفنسن اور اساک ایسیموف جیسا سائنس فکشن رائٹر نہیں بن پاتا مگر وہ جرنلزم کا بندہ تھا اور وہ بھی پاپولر جرنلزم کا! اسے لکھنا آتا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ لوگوں کو کس طرح متوجہ کیا جاتا ہے؟مگر اس نے مافیا یا انڈر ورلڈ کا موضوع اس لیے اٹھایا کیوں کہ وہ سیاست کا مستقبل دیکھ رہا تھا۔ اس کو پتہ تھا کہ جرم اورسیاست کو الگ کرنے والی سرحد ختم ہوتی جا رہی ہے۔
قلم کی آنکھ سے بہت دور تک دیکھنے والا وہ شخص اس دنیا کا مستقبل دیکھ رہا تھا۔ اس کو محسوس ہو رہا تھا کہ سیاست اپنے جوہر میں ایک جنگ ہے۔ اس جنگ کی ابتدا بھلے نظریات سے ہومگر اس کی اصل حقیقت طاقت کی کشمکش ہے۔ آج دنیا کے بہت سارے دانشور بھی دکھی دل کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ سیاست دولت سے مشروط ہوگئی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماؤزے تنگ غلط تھا۔ وہ ماؤزے تنگ جس نے ایک حقیقت پسند انقلابی کی طرح لکھا تھا کہ ’’انقلاب بندوق کی نالی سے نکلتا ہے‘‘ ماریو پزو کی زندگی کا کافی وقت شوبز کی سطحی دنیا میں گذرا۔ وہ جو زیادہ پیسے کمانے کے لیے اپنی تحریروں کی فلمی تشکیل کیا کرتا تھا وہ اپنی ذات میں ایک سنجیدہ دانشور بھی تھا۔ ماریو پزو نے غربت میں آنکھ کھولی تھی۔ اس کو پتہ تھا کہ غم کیا ہوتا ہے۔ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ کچی آبادیوں اور شہر کی گنجان بستیوں سے مافیا کے مجرم کے طرح جنم لیتے ہیں؟ ان مجرموں میں جو سب سے چالاک ہوتے ہیں؛ قسمت بھی ان کا ساتھ دیتی ہے۔ وہ مجرم بڑے عرصے تک جیتے ہیں۔ اکثر اوقات وہ بوڑھے ہوکر مرتے ہیں۔ وہ مجرم عیاری کے ساتھ اپنے تعلقات اقتداری بیوپاریوں سے پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح سیاست اور جرم کا سنگم ہوتا ہے۔ اس مجرم سیاست کی قیادت کرنے والے وہ ’’ڈان‘‘ ہوتے ہیں جو بادشاہ تو نہیں بنتے مگر بادشاہ گر ضرور کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔
ماریو پزو نے اس حقیقت کو گذشتہ صدی کے ساتویں عشرے میں سمجھ لیا تھا۔ اس کو یہ سچائی اس وقت نظر آئی جس قوت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ پزو کو اس بات کی پروا نہ تھی کہ دنیا اس کے بارے میں کیا کہے گی؟ اپنے مجرم کرداروں کی طرح اپنی فیملی سے شدید محبت کرنے والا ماریو پزو جسمانی طور پر لاس اینجلس اور نیویارک میں رہتا تھا مگر جذباتی اور احساساتی حوالے سے وہ دوستو وسکی کے ناولوں کا باسی تھا۔ وہ خود دوستو وسکی کا کردار تھا۔ اور اس کو یہ بات پسند تھی۔
ماریو پزو کے متعلق کچھ نقادوں کی رائے ہے کہ وہ مافیاز سے محبت کرتا تھا۔ وہ نفسیاتی طور پر جرم پسند تھا۔ اس لیے اس نے انڈر ورلڈ میں رہنے والے مافیاز کے کرداروں بھرپور انداز کے ساتھ پیش کیا۔ اس نے مافیا سوچ کو پختہ کیا۔ اس نے جمہوری اور پرامن کلچر کے خلاف قلمی سازش کی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مجرم صفت شخص دوستو وسکی کو کس طرح پسند کرسکتا ہے؟ ماریو پزو کے حوالے سے یہ بات ہر کوئی مانتا ہے کہ نہ صرف پزو کے ناولوں پر بلکہ خود اس کی ذات پر دوستو وسکی کی شخصیت اور اس کے تحریروں کے اثرات ہیں۔اس کے سب سے مشہور اور زیر ذکر ناول ’’گاڈ فادر‘‘ میں کورلےؤن فیملی دوستو وسکی کے ناول ’’کرامازوف برادرز‘‘ کے عکس ہے۔ وہ ناول جس میں کرامازوف فیملی کا ایک فرد دل کی گہرائی سے کہتا ہے کہ ’’مجھے کروڑوں روپیے نہیں مگر اپنے سوالات کے جوابات چاہئیں‘‘
ماریو پزو صرف دوستووسکی سے نہیں بلکہ اس بالزاک سے بھی متاثر تھا جس کا جملہ پاناما کیس کے فیصلے کی ابتدا میں لکھا گیا ہے ۔ وہی جملہ جو چند دنوں تک میڈیا میں گونجا اور پھر خاموش ہوگیا۔ وہ جملہ جس میں بتایا گیا ہے کہ ’’ہر بڑی دولت کے پیچھے جرم ہوتا ہے‘‘
’’گاڈ فادر ‘‘دوستو وسکی کے ناول ’’جرم اور سزا‘‘ کی طرح ان سوالات کی تلاش نہیں کرتاجو ناول کے ہیرو راسکل نیکوف کے پریشان ذہن میں بھٹکتے ہیں اور وہ بار بار خود سے چوچھتا ہے کہ ’’جرم کیا ہے اور سزا کیا ہے‘‘ اس ناول میں ایسا کچھ نہیں۔ یہ ناول تو ایک خوبصورت کہانی ہے ۔ وہ کہانی جو سنتے سنتے انسان کے سمجھ میں آ جاتا ہے کہ ’’جرم کا جنم کہاں اور کس طرح ہوتا ہے؟‘‘
ماریو پزو نے اپنے ناولوں میں یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ جرم غربت میں جنم لیتا ہے۔ پاور پیسے سے نہیں بلکہ پیسہ پاور سے پیدا ہوتا ہے۔ پیسہ اور پاور مل کر قانون کو متاثر کرتے ہیں۔ قانون کے معرفت انصاف پر اثرانداز ہونا آسان ہے۔
پاور کا یہ فارمولہ ماریو پزو نے ایک خاندان کی داستان بیان کرتے ہوئے خوبصورت انداز سے تحریر کیا ہے۔ اس دلچسب اور شہرہ آفاق داستان کا نام ہے ’’گاڈ فادر‘‘
گاڈ فادر وہ ناول ہے جس کے بطن سے ایک ایسی فلم نے جنم لیا جس نے ستر کے عشرے میں نہ صرف باکس آفس پر دھوم مچائی بلکہ اس نے ہالی ووڈ کے سب سے اعلی اعزاز ’’آسکر ایوارڈ‘‘ ہر حوالے سے لوٹے۔ بہترین فلم۔ بہترین اداکار۔ سکرین پلے کی بہترین اڈاپشن۔ بہترین ہدایت کار۔ مذکورہ فلم اتنی مشہور ہوئی کہ اس کی وجہ سے ماریو پزو کا ناول ’’بیسٹ سیلر‘‘ بھی بن گیا۔ کیوں کہ وہ دور سینما ہالوں اور لائبرریوں کا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’’گاڈ فادر‘‘ فلم کبھی نہیں بنتی اگر ’’گاڈ فادر‘‘ ناول تحریر نہ ہوتا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’گاڈ فادر ‘‘ ناول اس قدر مشہور بھی نہ ہوتا اگر ’’گاڈ فادر‘‘ فلم نہ بنتی۔ ’’گاڈ فادر‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو ماریو پزو کی فکرانگیز ذہن سے پیدا ہوا۔ ’’گاڈ فادر‘‘ ایک ایسی فلم ہے جس میں ’’مارلن برانڈو‘‘ اور ’’الپچینو‘‘ نے کمال کی آخری حد چھونے والی اداکاری کی ہے۔ جس طرح روسی مصنف بورس پاسرناک کے ناول ’’ڈاکٹرزواگو‘‘ پر بننے والی فلم ناول کو عالمی شہرت سے ہمکنار کر گئی۔ اسی طرح ’’گاڈ فادر‘‘ کے ساتھ بھی ہوا۔
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک دور کے دل پر حکمرانی کرنے والی فلم جب دوسرے دور میں بھولی بسری محبت بن گئی تب پاکستان کی تاریخ کا ڈرامائی مقدمہ ’’پاناما اسکینڈل‘‘ منظر عام پر آیا اور جب اس کے فیصلے میں مذکورہ ناول کا نام آیا تو اسلام آباد کے جناح اور جناح سپر میں ’’ڈی وی دی شاپس‘‘ پر اس فلم کی ڈمانڈ میں اچانک اضافہ ہوگیا جس کا یہ ڈائلاگ آج تک مقبول ہے جس میں فلم کا ہیرو ویٹو کارلئیون اپنی مخصوص ادا سے کہتا ہے کہ ’’I’m Gonna Make Him An Offer He Can’t Refuse‘‘
یعنی: میں اس کو ایسی پیشکش کرنے جا رہوں جس سے وہ انکار نہیں کرسکتا!
اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے مطلب میں یہ مشہور جملہ ادا کرنے والوں میں سے کتنے فیصد لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ ماریو پزو کے یہ الفاظ بھی فرانسیسی ادیب بالزاک کے ہیں۔ بالزاک نے یہ بات اس انداز سے لکھی تھی کہ ’’اس صورت میں تمہیں میں ایک ایسی پیشکش کروں گا جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا‘‘
پاناما کیس کا فیصلہ بھی شاید ایسی پیشکش ہے جس سے نہ نواز شریف کو انکار ہے اور نہ عمران خان کو!!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے