بحریہ ٹاﺅن حادثے کی خبر کس نے روکی؟

اسلام آباد کی نجی ہاﺅسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاﺅن میں اے آر وائے ٹی وی کے پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران اسٹیج گرنے کا حادثہ اٹھائیس اپریل کی شام اس وقت ہوا تھا جب شہر میں تحریک انصاف کا جلسہ جاری تھا لیکن اس کے بعد بھی واقعہ کی خبر نشر یا شائع نہ ہونے پر سوشل میڈیا کے صارفین ملکی ذرائع ابلاغ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر زبردست تنقید کے بعد کئی نامی گرامی ٹی وی اینکر دبے لفظوں میں اس حادثے کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ٹی وی مالکان اور اشتہارات کے شعبے کے ڈائریکٹرز کے خوف سے کھل کر بولنے سے قاصر ہیں۔ صحافی و اینکر حامد میر نے اپنے پروگرام کے آخر میں اس واقعے کی جانب اشارہ کیاہے لیکن بطور خبر اس پر بات نہیں کی۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے شہریوں نے بڑی تعداد میں حادثے کی ویڈیوز شیئر کرکے سخت ردعمل کا اظہار کیاہے اور پاکستانی ٹی وی چینل مالکان اور اینکرز کے علاوہ صحافیوں کو بھی بحریہ ٹاون کے مالک کے ہاتھوں بک جانے کا طعنہ دیا ہے۔ بعض شہریوں نے ملک ریاض کو پاکستان کا طاقت ور ترین شخص قراردیاہے جس کے بارے میں کبھی کوئی خبر شائع یا نشر نہیں ہوتی۔ پولیس کی جانب سے واقعہ کی ایف آئی آر اندراج پر بھی تاحال خاموشی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button