دفاعی اور سفارتی امور

یادداشت میری قوم کی بہت کمزور ہے۔ اس کالم کا آغاز لہذا اس حقیقت کے اعتراف کے ساتھ ضروری ہے کہ ہمارے ایک بہت ہی کرشمہ ساز سپہ سالار تھے۔ جنرل راحیل شریف صاحب۔ اپنے عہدے کی کمان سنبھالنے کے چندہی ماہ بعد ان کی نگاہِ دور بیں نے دریافت کرلیا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے قومی معاملات کو سلجھانا ”بدعنوان سیاست دانوں“ اور وزارتِ خارجہ میں بیٹھے ”نااہل سفارت کاروں“ کے بس کی بات نہیں۔انہیں اس ضمن میں ازخود پیش قدمی کرنا ہوگی۔
انگریزی والے Driven Doer ہوتے ہوئے انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے رابطہ کیا۔ اسے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ اسلام آباد ایئرپورٹ اترنے کے بعد اس کا پہلا استقبال GHQ میں ہوا۔ گارڈ آف آنرز وغیرہ ملا۔
افغان صدر کو براہِ راست مذاکرات میں مصروف رکھنے کے علاوہ جنرل راحیل صاحب، اشرف غنی کے ملک میں موجود امریکی افواج کے سربراہ سے بھی مسلسل رابطوں میں رہے۔ یہ فیصلہ بھی ہوا کہ پاکستان کی ISI اور افغانستان کی NDS ایک دوسرے کے ساتھ اس خطے میں شرپسندی پر قابو پانے کے لئے بھرپور تعاون کریں گی۔ معلومات کا تبادلہ اور مختلف امور نمٹانے کے لئے Joint Mechanismکی بات چلی۔
جنرل راحیل شریف صاحب کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کےلئے کی جانے والی پیش قدمیوں سے ہماری قوم ویسے بھی بہت مطمئن اور مسحور ہوچکی تھی۔ افغانستان کے ساتھ معاملات کو سنوارنے کے لئے بھی انہوں نے براہِ راست کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا تو ہم مزید خوش ہوئے۔ اخبارات اور ٹیلیوژن کے ذریعے بھاری بھر کم انگریزی الفاظ کے استعمال کے ساتھ میری ”جاہل“ قوم کو ”دفاعی اور سفارتی امور“ کی پیچیدگیاں سمجھانے والے دانشوروں نے بتایا کہ ایک شے ہوتی ہے Military Diplomacy۔ جنرل راحیل شریف صاحب سفارتکاری کی اس قسم کو بہت مہارت سے برت رہے ہیں۔
ایک دو بار اگرچہ میرے وسوسوں بھرے دل ودماغ میں یہ خیال آیا تھا کہ امریکہ میں David Petraeus نام کا ایک جرنیل بھی تھا۔ اس نے تحقیقی مقالے لکھ کر PHDکی ڈگری حاصل کی تھی۔ امریکی صدربش نے جب خود کو عراقی امور سنبھالنے میں ناکام محسوس کیا تو اس جرنیل سے رجوع کیا۔ اسے عراق میں امریکی افواج کی کمان سونپ دی گئی۔ Petraeus نے کمان سنبھالتے ہی Counter Insurgency کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی حکمت عملی کتابی صورت میں لکھی۔ اس حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے عراق میں ”امن“ قائم کردیا گیا۔ اس ”امن“ نے بعدازاں نو منتخب امریکی صدر اوبامہ کو عراق سے اپنی افواج نکالنے کی گنجائش فراہم کردی۔ امریکی افواج کے اس ملک سے نکل جانے کے بعد اگرچہ داعش نمودار ہوگئی۔David Petraeus مگر کئی ماہ تک Scholar Generalکہلاتا رہا۔
اس کی یہ شہرت اوبامہ کو یہ بات تسلیم کرنے کا باعث ہوئی کہ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد بڑھاکر، جسے Surgeکا نام دیا گیا، اسے ڈیوڈ پیٹریاس کی کمان میں دے کر اس ملک کو بھی عراق جیسا ”پُرامن ملک“ بنایا جاسکتا ہے۔
Surge اور ڈیوڈ کی تعیناتی بھی افغانستان میں امن کے قیام کو بالآخر یقینی نہ بناپائی۔ وائٹ ہاﺅس چھوڑنے سے قبل اوبامہ نے اس ملک سے بلکہ تقریباً لاتعلقی اختیار کرلی۔ امریکی افواج کی کثیر تعداد بھی وہاں سے واپس بلالی گئی۔ اب وہاں صرف 8000کے قریب امریکی فوج موجود ہے۔ چند ہی ماہ قبل اس فوج کے کمان دار نے امریکی سینٹ کے روبرو کھلے الفاظ میں تسلیم کیا کہ افغانستان میں وہاں کی حکومت اور اس کے مخالف طالبان کے مابین Stalemate ہوچکا ہے۔ جنگ جاری ہے مگر اس میں شامل کسی بھی فریق کو اپنی فتح یا شکست کا مکمل یقین نہیں ہے۔
ڈیوڈپیٹریاس کا حوالہ مجھے صرف اس شک کا اظہار کرنے کے لئے دینا ضروری تھا کہ افغانستان جیسے گھمبیر مسائل کا شاید Military Diplomacy کوئی حل نہیں ڈھونڈ سکتی۔ جنرل راحیل شریف صاحب کے اشرف غنی کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے باوجود ان ہی کے دور میں دریافت یہ بھی ہوا کہ ملاعمر کئی برس پہلے طویل بیماری کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر نے طالبان کے حلقوں میں کھلبلی مچادی۔ مختلف دھڑوں کے مابین ملاعمر کی جاں نشینی ہتھیانے کے لئے خوفناک لڑائیاں شروع ہوگئیں۔ بالآخر ملا منصور اختر کو ملا عمر کا جائز جاں نشین تسلیم کرلیا گیا۔ اس جاں نشین کو‘ لیکن اوبامہ نے وائٹ ہاﺅس سے رخصت ہونے سے چند ماہ قبل ڈرون کے ذریعے پاک سرزمین پر ہلاک کرنے کا حکم جاری کردیا۔ اس حکم پر عملدرآمد کے کئی روز بعد بھی ہم اس گماں میں مبتلا رہے کہ ایرانی سرحد سے افغان سرحد کی طرف ایک ٹیکسی میں سفر کرنے والا شخص ملامنصور تھا یا کوئی ولی محمد جس کے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ تھا۔ اس شخص نے اپنی بیوی کے لئے کراچی میں ایک فلیٹ بھی کرائے پر حاصل کررکھا تھا۔ پاکستانی پاسپورٹ پر یہ ولی محمد ”کاروبار“ کے لئے دوبئی اور ایران کے سفر بھی کیا کرتا تھا۔
ملا منصور کی ڈرون حملے کے ذریعے ہلاکت نے ایک اور بات بھی عیاں کردی کہ افغان صورتِ حال کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ایک تیسرا فریق بھی ہے۔ نام اس فریق کا ہے ریاست ہائے متحدہ امریکہ۔ اسے فی الوقت دنیا کی واحد سپرطاقت بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ جنرل راحیل شریف صاحب اور ڈاکٹر اشرف غنی شیروشکر ہوکر بھی پاک-افغان معاملات کو اپنے تئیں نمٹانہیں سکتے تھے۔ امریکہ کو On Boardرکھنا ضروری تھا۔
جنرل راحیل شریف صاحب اب اپنے عہدے سے فارغ ہوکر سعودی عرب کی قیادت میں بنائے”اسلامی نیٹو“ کہلاتے فوجی اور سیاسی اتحاد کے کماں دار بن چکے ہیں۔ہمیں امید ہے کہ وہ اپنی Military Diplomacy کے ذریعے عرب اور عجم میں موجود صدیوں پرانے اختلافات کو ختم کروانے میں کوئی تاریخی کردار ادا کریں گے۔ ربّ کریم سے میری دردمندانہ التجا ہے کہ انہیں اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائے۔
پاکستان ا ور افغانستان کے تعلقات دریں اثناءبہت ہی کشیدہ ہوچکے ہیں۔ چمن کا نام نہاد”بابِ دوستی“ باہمی تجارت اور آمدورفت کے لئے ایک بار پھر بند ہوگیا ہے۔دونوں ممالک کے فوجی نمائندے اب نقشوں کی مدد سے یہ طے کریں گے کہ چمن کی سرحد پر کونسا علاقہ پاکستان کا ہے اور کونسا افغانستان کا۔ اپنی تمام تر نیک نیتی اور لگن کے باوجود دونوں فریق اپنے تئیں اس مسئلے کو ،یقین مانیے،حل نہیں کر پائیں گے۔ ”تیسرے فریق“ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور شاید ہم اس کردار کو خوش دلی سے قبول نہ کر پائیں۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین