اوریا مقبول جان بمقابلہ پرویزہود بھائی

طبیعات کے عالمی استاد سٹیفن ہاکنگ نے تین مئی کو ایک پیش گوئی کی جس میں کہا گیا کہ اگر انسانیت نے اپنی بقا کو دیکھنا ہے تو اگلے ایک سو سال میں زمین کے علاوہ کسی اور سیارے کو بھی مسکن بنانا ہوگا۔ یہ پیش گوئی ایک ڈاکومنٹری میں کی گئی۔ باقی دنیا نے اس پر سائنسی انداز میں بحث شروع کی، دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں سائنس کے اساتذہ اور طلبہ نے سٹیفن ہاکنگ کی پیش گوئی کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا اور اپنی رائے دی۔ بحث مکمل طور پر سائنس تک محدود رہی اور اس پر مختلف آراءسامنے آرہی ہیں۔ مگر پاکستان میں فیس بک پر موجود ’سٹیفن ہاکنگ‘ کے استادوں نے وہ اودھم مچایا کہ اگر معجزاتی طور پر زندہ ہاکنگ تک یہ گفتگو پہنچ جائے تو وہ حیرت سے ہی فوت ہوجائے۔
پاکستان میں سٹیفن ہاکنگ کی پیش گوئی پر ڈرامہ نگار سابق بیوروکریٹ اوریا مقبول جان نے اپنا فلسفہ پیش کیا۔ اوریا مقبول پاکستان کے ایک خاص مذہبی طبقے میں بت کی طرح پوجے جاتے ہیں اور ان کی رائے کو اس طبقے کے ہاں وہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی سٹیفن ہاکنگ کی پیش گوئی کو سائنس کے قبلے وکعبے میں، اس طبقے کے ہاںمقبول جانی پیش گوئی نے ہاکنگ کو پچھاڑ ڈالا ہے۔فیس بک پر مقبول جان کی واہ واہ ہے اور اس کے مقابلے میں آنے والے پرویز ہود بھائی کے خلاف ٹھاہ ٹھاہ کی آوازیں زوروشور سے سنائی دی جانے لگی ہیں۔
پرویز ہود بھائی چونکہ طبیعات کے شعبے میں بڑا نام ہیں اس لیے ان کے شاگرد اور افکارسے متاثرافراد نے مقبول جانی بیانیے کے مقابلے میں جوابی بیانیہ فیس بک کے ذریعے پیش کرنا شروع کردیاہے۔ پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والے صارفین میں سے ایک بڑی تعداد کیلئے اس وقت سب سے اہم موضوع ’اوریا مقبول جان بمقابلہ پرویز ہود بھائی‘ ہے اور اس پر رنگارنگ اور نت نئے تبصرے سامنے آرہے ہیں۔ کئی صارفین نے بحث کو گالیوں کی گلی سے گزارتے ہوئے کفر والحاد کے دروازے تک پہنچا کر فیصلہ دے دیا ہے،تاہم بہت سے فیس بک استعمال کرنے والے تاحال کسی فیصلے تک نہیں پہنچ سکے۔ سائنس سے شروع ہونے والی اس گفتگو نے پاکستان میں اسلام اور کفر کی جنگ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ بہت سے افراد نے سیکولرازم کو شدید تنقید کانشانہ بنایا ہے جبکہ کئی صارفین نے کہاہے کہ مدارس نے ایسے لوگ پیدا کیے ہیں جن کو سائنس سمجھ نہیں آرہی ۔ مدارس سے پڑھے کئی طلبہ نے پرویزہود بھائی کی طبیعات کے شعبے میں خدمات بلکہ یہاں تک کہ ان کی اسناد پر بھی سوال اٹھائے ہیں، دوسری طرف یونیورسٹیوں سے سندیافتہ طالب علموں نے پرویزہود بھائی کے دفاع میں ان کی ڈگریوں اور عالمی جریدوں میں شائع ہونے والے ریسرچ پیپرز کو اپنی وال پر سجایا ہے۔
فیس بک پر چندایسے افراد بھی نظر آتے ہیں جن کا پس منظر مدارس کا ہے مگر وہ پرویز ہود بھائی کی حمایت اور مقبول جان کے نکتہ نظر کو مسترد کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ بحث آئندہ کچھ روز تک جاری رہنے کے امکانات نظر آتے ہیں جب تک کوئی دوسرا بڑا موضوع اس کو پس منظر میں دھکیل نہیں دیتا۔ اے وحید مراد

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے