ٹرمپ ’’بھولا‘‘ نہیں

گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی کے دوران جب امریکی صدارتی انتخاب سے متعلق مارا ماری اپنے عروج پر تھی تو دنیا بھر کے میڈیا کی نقالی میں ہمارے کئی تجزیہ نگار بھی ڈونلڈٹرمپ کو دیوانہ سمجھ کر نظرانداز کرتے رہے۔ انتخابی عمل کی حرکیات پر ہم پاکستانی ویسے بھی اعتبار نہیں کرتے۔ سازشی تھیوریوں کے مارے ہمارے ذہن اس بات پر بضد رہتے ہیں کہ ’’اصل گیم‘‘ درحقیقت کہیں ’’اور Set‘‘ ہو چکی ہوتی ہے۔ انتخابی عمل تو اس گیم کو توڑ تک پہنچانے کا محض ایک بہانہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو مصروف اور بے وقوف بنائے رکھنے والا ایک شعبدہ۔

خود ہمارے ہاں 2013ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے جو انتخاب ہوئے انہیں عالمی طورپر جانے پہچانے ایک کرکٹ سٹار اور ایچی سن کالج اور آکسفورڈ جیسے تعلیمی اداروں سے تعلیم پانے والے عمران خان نے ’’جعلی اور دھاندلی زدہ‘‘ قرار دیا تھا۔ ہمارے کئی بے تحاشہ پڑھے لکھے افراد اور نوجوانوں کی متاثرکن تعداد نے ان کے اس دعوے کو تسلیم کیا۔ دھاندلی کے ذریعے قائم ہونے والی’’چوروں اور لٹیروں پر مشتمل‘‘ اسمبلی اور حکومت سے نجات پانے کے لئے دھرنے وغیرہ بھی دئیے گئے۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان’’باریوں‘‘ والے ’’مک مکا‘‘ کی بات چلی۔
اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمارے ہاں یہ طے کرلیا گیا کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب کو 2016ء میں جیتنے کی ’’باری‘‘اب ہیلری کلنٹن کی ہے۔ وہ امریکہ کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوکر ’’تاریخ‘‘ بنائے گی۔ اس سے قبل ایسی ہی ’’تاریخ‘‘ اوبامہ نے پہلا افریقی نژاد صدر ہوتے ہوئے بنائی تھی۔
ٹرمپ کو غیر سنجیدہ اور مسخرا ثابت کرتے شور کے دوران تواتر کے ساتھ میں بدنصیب یہ التجا کرتا رہا کہ وہ پنجابی محاورے والا ’’بھولا‘‘ تو ہے مگر اتنا سادہ بھی نہیں۔ذرا غور کریں تو وہ فارسی والا وہ دیوانہ نظر آتا ہے جو بکارخویش ہوشیار اور ہمارے ایک محاورے کے مطابق ’’گھر کا پکا‘‘ہوا کرتا ہے۔ دُنیا بھر میں کہیں بھی چلے جائیں،کامیاب ترین کاروباری لوگ ٹرمپ جیسے ہی نظر آتے ہیںفرق صرف ان کے ’’طریقہ واردات‘‘ کے درمیان ہوا کرتا ہے۔
ٹرمپ کا اصل کمال یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ’’گفتگو اور ٹویٹس وغیرہ کے ذریعے آپ کی توجہ کہیں اور، تقریباً لایعنی باتوں کی طرف،مبذول کرتے ہوئے اپنے طے شدہ ہدف کی طرف بہت مکاری اور ہوشیاری سے بڑھے چلے جاتا ہے۔ امریکی عوام کی اکثریت گزشتہ کئی برسوں سے معاشی عمل کی نام نہاد Globalizationکی وجہ سے اپنے ملک میں پھیلتی ہوئی بے روزگاری سے بہت پریشان تھی۔ ٹرمپ نے اس بے روزگاری کا ذمہ دار چین کو ٹھہرایا۔ تسلسل کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا رہا کہ چین نے اپنے ملک میں موجود بے تحاشہ آبادی کو غیر ملکی سرمایے سے اپنے ہاں کھلی صنعتوں کے لئے سستے مزدوروں میں تبدیل کردیا ہے۔ امریکہ میں فیکٹریاں بند ہوئیں تو بے روزگاری بڑھی۔ اس بے روزگاری کو میکسیکو یا دیگر ممالک سے تارکین وطن نے سستی اجرت پر کام کرتے ہوئے مزید خوف ناک بنا دیا۔
امریکہ میں کاروباری عمل کے بھرپور توانائی کے ساتھ احیاء کے لئے ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے ملک میں چین کی برآمدات کا داخلہ بہت مہنگا بنا کر بتدریج ناممکن بنادے گا۔ میکسیکو جیسے ملکوں سے کسی نہ کسی طرح امریکہ پہنچ جانے والے تارکینِ وطن کو روکنے کے لئے اس ملک کے ساتھ طویل سرحد پر ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ ٹیکس کے نظام کو ’’دوستانہ‘‘ بناتے ہوئے امریکی سرمایہ داروں کو اپنے ہی ملک میں نئی صنعتیں لگانے کی طرف راغب کیا جائے گا۔
اپنی معیشت کے جمود اور بدحالی کے علاوہ 9/11 کے روز سے امریکی عوام کی اکثریت ’’دہشت گردی‘‘ کے بارے میں بھی بہت پریشان تھی۔ ڈونلڈٹرمپ نے بغیر کسی لگی لپٹی کے اسلام کو دہشت گردی کا اصل منبع قرار دیا اور دن رات اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنے میں مصروف رہا۔ صدارتی منصب سنبھالتے ہی پہلا فیصلہ بھی اس نے مسلمانوں کے اپنے ملک میں ویزے کے باوجود داخلے کو ناممکن بنانے والا کیا۔ امریکی عدالتی نظام کی بدولت اگرچہ یہ فیصلہ قابل عمل ہونے کے قابل نہ رہا۔ اس کے حامیوں میں لیکن اس کے باوجود خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ٹرمپ انہیں اپنے ’’قول کا پکا‘‘ نظر آیا۔
وائٹ ہائوس پہنچنے کے بعد اپنے ابتدائی دنوں ہی میں ’’قول کا پکا‘‘ ثابت ہونے کے بعد اب ٹرمپ اپنے اصل ہدف کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا ہے۔ چینی صدر کواس نے اپنے ایک عالی شان فارم ہائوس میں مدعو کیا اور باہم ملاقاتوں میں بالآخر طے یہی ہوا کہ امریکہ اور چین ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ انہیں بدستور ایک دوسرے کی معیشت کو بڑھاوا اور سہارا فراہم کرتے رہنا ہو گا۔
چین کے ساتھ ’’مک مکا‘‘ کے بعد ٹرمپ نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے انتخاب عالمِ اسلام کے لئے اہم ترین مانے جانے والے ملک سعودی عرب کا کیا ہے۔ ہفتے کے دن وہاں پہنچ کر اس نے اپنے دورے کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتداء ایک معاہدے سے ہوئی ہے جس کے ذریعے سعودی عرب اپنے دفاع کے لئے امریکہ سے ایک کھرب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ خریدے گا۔ آئندہ 15برسوں میں بتدریج 350ارب ڈالر کی لاگت سے سعودی افواج اور دفاعی نظام کو جدید ترین اور ناقابلِ تسخیر بنا دیا جائے گا۔ ایک کھرب ڈالر کے سودے طے پانے کی وجہ سے امریکہ کی اسلحہ ساز کمپنیوں میں اب رونق لگ جائے گی۔ کئی شفٹوں میں کام کرتے ہوئے سعودی عرب سے آئے آرڈر والا مال تیار کرنا ہو گا۔
امریکی معیشت کو کئی محقق درحقیقت -Military Industrial Complex- قرار دیتے ہیں۔ یعنی ایک ایسی معیشت جہاں جدید اسلحہ کی تیاری اور اس کی فروخت اجتماعی معاشی تصویر میں اصل رنگ بھرتی ہے۔ اس کی رگوں میں گردش کرنے والا لہو ہے۔ اسے زندہ رکھنے کے لئے ضروری آکسیجن۔ ٹرمپ جیسے ’’بھولے‘‘ نے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل زہر اُگلتا رہا ہے۔ امریکہ کی جامد ہوئی معیشت کو Kick-Start کے ذریعے پوری توانائی کے ساتھ بحال کرنے کے لئے سہارا عالم اسلام ہی کے ایک اہم ترین ملک کے بے تحاشہ وسائل میں ڈھونڈلیا ہے۔ اس کے بعد اسے ایک بے وقوف مسخرہ سمجھتے رہنا دانشوارانہ بددیانتی ہو گی۔
بات محض امریکی معیشت کی بحالی تک محدود نہیں رہی۔ ٹرمپ نے یہ چورن بھی بیچنا شروع کردیا ہے کہ ’’اسلام ‘‘ سے خطرہ صرف امریکہ ہی کو نہیں سعودی عرب اور دیگر مسلمان ریاستوں کو بھی ہے۔ ’’اسلام‘‘ کے نام پر بنائے اس نئے خطرے کے ’’ماخذ‘‘ بھی مسلمانوں ہی کے ہاں ’’داعش‘‘ کی صورت میں موجود بتائے ہیں۔داعش کے بعد آتی ہے لبنان کی حزب اللہ، شام کا بشارالاسد اور ان سب کا مبینہ طورپر سرپرست ’’اسلامی جمہوریہ ایران‘‘۔ مسلمانوں کو مسلمانوں کے ساتھ لڑانے کے لئے جدید ترین اسلحے کی تیاری اور فراہمی کے ذریعے امریکی معیشت کو بھرپور توانائی کے ساتھ بحال کرنے والی گیم صرف ٹرمپ ہی سوچ سکتا تھا۔ خدارا اسے اب ’’بھولا‘‘ سمجھنا چھوڑ دیجئے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے