تحریک انصاف نہیں سب غیرملکی فنڈڈ ہیں

سپریم کورٹ سے اے وحیدمراد
سماعت کے آغاز پر جسٹس عمرعطا بندیال نے تحریک انصاف کے وکیل سے پوچھا کہ آپ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے رپورٹ کے معاملے کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں، کیا آپ یہی کہنا چاہ رہے تھے؟۔ وکیل انور منصور نے کہاکہ میرا کہنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آڈٹ رپورٹ کا جائزہ نہیں لے سکتا، صرف وفاقی حکومت کے پاس غیرملکی فنڈنگ کو دیکھنے کا اختیارہے، اسی طرح سپریم کورٹ بھی عوامی مفاد کے مقدمے میںپارٹی فنڈنگ کامعاملہ نہیں دیکھ سکتی، انتخابی نشان الاٹ کرتے وقت اکاﺅنٹس کی تفصیلات جمع کرانا لازمی ہے بصورت دیگر نشان واپس لے لیا جاتاہے۔
چیف جسٹس نے کہاکہ معاملہ کو سمجھانے کیلئے ایک مثال دیتاہوں، مثلا اگر کوئی شخص سیاسی جماعت کو کسی بھی قسم کی ٹرانسپورٹ مہیاکرتاہے خواہ وہ گاڑی ہو یا جہاز ہو، تو کیا آڈیٹر کی رپورٹ میں اس کا بھی ذکر ہوگا؟۔وکیل نے کہاکہ مہمان نواز سمیت ہرچیز آڈٹ رپورٹ میں ہوگی خواہ کسی بھی قسم کا خرچ ہوا ہو۔معاملہ یہ ہے کہ صرف ایک سیاسی جماعت کیلئے یہ کیس ہورہاہے دوسری جماعتوں نے بھی فنڈز لیے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت کے سامنے صرف ایک سیاسی جماعت کا معاملہ آیاہے۔ وکیل انور منصور نے کہاکہ اگر کسی شخص نے سیاسی جماعت کیلئے رہائش کا خرچ اٹھایا ہے تو وہ پارٹی کی اکاﺅنٹس تفصیلات میں نہیں آئے گا۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ اس طرح کی تفصیلات الگ سے آنے سے ’وسل بلوور‘ ( انکشافات) ہوجاتے ہیں۔ وکیل نے کہاکہ اگر ایسا ہوتاہے تو اچھا ہے کہ ہر کوئی اس کی زد میں آئے گا۔
چیف جسٹس نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو کسی نے فنڈز دیے ہیں تو کون فیصلہ کرے گا کہ یہ ممنوعہ ذرائع سے ہیں یانہیں؟۔ وکیل نے کہاکہ بہت ساری چیزیں ہوتی رہتی ہیں جو سیاسی جماعت کے رہنماﺅں کے علم میں بھی نہیں ہوتیں، اکثراوقات بہت سے اخراجات کا ڈیٹا نہیں ہوتا، لوگ اپنی طرف سے پارٹی کیلئے خرچ کرلیتے ہیں اور پارٹی کے علم میں نہیں ہوتا جب تک وہ شخص خود نہ بتائے، مگر اس وقت عدالت کے سامنے یہ معاملہ زیربحث نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر کسی سیاسی جماعت کو کسی پبلک کمپنی نے جلسے کیلئے سو بسیں دیدیں، اور ایسا کرنا قانون میں ممنوع ہے تو اس کی تحقیق کون کرے گا۔وکیل نے کہاکہ اس کی تحقیق کوئی کمیشن کرے گاجس کے پاس یہ معاملہ آئے گا، اس طرح کا جلسہ اگر ستمبر میں ہوگا تو اس کی تفصیل اکاﺅنٹس میں اگلے سال جون میں آئے گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جب وہ خرچ اپارٹی نے کیاہی نہیں تو اس کے اکاﺅنٹس میں تفصیل کیسے آئے گی؟۔وہ خرچ تو سیاسی جماعت کیلئے ایک پبلک کمپنی نے کیا ہے ، ہمارا سوال یہ ہے کہ اس کی تحقیق کون کرے گا؟۔وکیل نے کہاکہ عدالت کے سامنے درخواست میں یہ بات زیربحث نہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ یہ قانون کا سوال ہے، تشریح کیلئے سمجھنا ضروری ہے۔ وکیل نے کہاکہ الیکشن کمیشن پاس ازخود نوٹس لینے کا کوئی اختیار نہیں، اسی طرح وہ کسی تیسرے فریق کی طرف سے دی گئی درخواست پر بھی کارروائی نہیں کرسکتا۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر آپ کی بات مان لیں تو پھرالیکشن کمیشن کے پاس کام کیاہے؟ اور وہ کام کیسے کرے گا؟۔پھربولے، مجھے آپ کو سمجھانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ پوچھا ، یہ بتائیں کہ سیاسی جماعت کو ٹرانسپورٹ مہیا کیاجانا فنڈز میں شامل ہوگا یانہیں؟۔ وکیل نے کہاکہ تکنیکی طورپر یہ پارٹی فنڈ میں شامل ہونا چاہیے، الیکشن کمیشن خود سے آڈٹ رپورٹ پر کوئی بات پوچھ سکتاہے مگر کسی کی درخواست پرنہیں۔اس موقع پر کافی دیرسے خاموش جسٹس فیصل عرب کی رگ ظرافت پھڑکی اور مسکرا کے بولے، پہلے آپ کہہ چکے ہیں کہ الیکشن کمیشن نہیں پوچھ سکتا اور آڈٹ رپورٹ حتمی ہوگی۔وکیل نے کہاکہ مخاصمانہ نوعیت کے مقدمے میں یہ آڈٹ رپورٹ کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا، الیکشن کمیشن خود سے کارروائی شروع کرسکتا ہے اور پارٹی سے جواب بھی طلب کیاجاسکتاہے مگر یہ ایک مخصوص وقت پر ہی کیا جاسکتاہے الیکشن کامرحلہ گزرنے کے بعد نہیں۔دوسری جانب عدالت کے پاس بھی ایسا اختیار نہیں کیونکہ قانون سازی نہیں کرسکتی۔ جسٹس عمرعطا نے کہاکہ آپ کامطلب ہے کہ عدالت قانون کی تشریح نہیں کرسکتی؟۔ وکیل نے کہاکہ کرسکتی ہے مگر صرف عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت اختیارات وسیع ہیں۔ الیکشن کمیشن آڈٹ رپورٹ پر سیاسی جماعت سے سوال کرسکتاہے مگر ایک بار یہ رپورٹ شائع ہوگئی تو الیکشن کمیشن معاملے کا جائزہ نہیں لے سکتا۔جسٹس عمر عطا نے کہاکہ کچھ دیر پہلے آپ نے کہاتھاکہ الیکشن کمیشن خود سے کارروائی کا آغاز کرسکتاہے۔ وکیل بولے، اگر قانون میں اختیار ہی نہ دیاگیا ہوتواتھارٹی خود سے نہیں کرسکتی۔
وکیل انور منصور نے کہاکہ عدالت کے سامنے الیکشن کمیشن کے اختیار کے بارے میں دلائل مکمل کررہاہوں، چیف جسٹس کے سوالات بہت اہم تھے، مجھے طالب علمی کا دور یاد آگیا، چیف جسٹس میرے دلائل کو بہت غور اور تفصیل سے دیکھ رہے تھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تمام وکیلوں کے دلائل کو غور اور تفصیل سے دیکھتاہوں، اکرم شیخ کے دلائل کے دوران بھی سوالات اٹھائے تھے۔
وکیل نے کہاکہ اب امریکا میں تحریک انصاف کی کمپنی کے بارے میں دلائل دوں گا۔ جسٹس فیصل عرب نے پوچھا کہ ایل ایل سی امریکا میں تحریک انصاف کی ایجنٹ ہے؟۔ وکیل نے کہاکہ ایسا نہیں ہے، امریکا میں ایل ایل سی کمپنی ایک شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ جسٹس عمرعطا نے کہاکہ مطلب تو وہی ہواکہ وہ شخص یا کمپنی امریکا میں تحریک انصاف کی ایجنٹ ہے۔آپ کمپنی یا ایجنٹ اور تحریک انصاف کے تعلق کی تشریح کردیں۔ وکیل نے کہاکہ امریکی قانون کے تحت فارن ایجنٹس رجسٹریشن کے مطابق ایک شخص تحریک انصاف کی طرف سے رجسٹرڈ ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اس پر تفصیل سے دلائل دیں اور تحریک انصاف اور ایجنٹ کے تعلق کو واضح کریں۔وکیل نے کہاکہ ابتدائی طورپر ڈاکٹر نصراللہ امریکا میں تحریک انصاف کے ایجنٹ رجسٹرڈتھے، مگر دراصل وہاں کمپنی ایل ایل سی ہماری ایجنٹ ہے، یہ تحریک انصاف پاکستان کا حصہ نہیں ہے، تحریری جواب میں اس حوالے سے تمام تفصیلات درج ہیں۔ یہ کمپنی خود سے کوئی فنڈز نہیں دیتی بلکہ عطیات اکھٹا کرتی ہے، ہم کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن بروقت کسی پارٹی کے ممنوعہ فنڈنگ معاملے کو نہیں دیکھتاتو بعد میں نہیں دیکھ سکتا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر بروقت کو درمیان سے نکال دیاجائے تو پھر کیاہوگا؟۔ وکیل نے کہاکہ اس طرح تو فلڈ گیٹ کھل جائے گا۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ قانون میں الیکشن کمیشن کیلئے وقت کی کوئی پابندی نہیں۔ وکیل نے کہاکہ اگر الیکشن کمیشن کو اعتراض ہوتوفنڈنگ معاملے پر اسی وقت نوٹس جاری کرے، کیونکہ یہ تعزیری معاملہ ہے اس لیے جو قانون میں لکھا ہو وہی پڑھا جائے گا۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ تعزیزی نہیں یہ ملک کے سیاستدانوں کے بارے میں عوامی نوعیت کا انتہائی اہم معاملہ ہے۔
اس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ دہری شہریت کے معاملے کو بھی دیکھناہوگا، کیا دہری شہریت والا شخص سیاسی جماعت کارکن بن سکتاہے؟ وکیل نے کہاکہ اس پر کوئی پابندی نہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب تو دہری شہریت والوں کو ووٹ کا حق دینے پر بھی غور ہورہاہے۔ وکیل نے کہاکہ دہری شہریت والا صرف رکن پارلیمان نہیں بن سکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ جرمنی دنیا کا واح ملک ہے جہاں دہری شہریت والابھی رکن پارلیمان بن سکتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کے قانون (پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002) کی آج تک تشریح نہیں کی گئی اس لیے عدالت کو وقت لگانا پڑرہا ہے۔ اگر دہری شہریت والا سیاسی جماعت کا ممبر بن سکتاہے تو پارٹی فنڈ کیوں نہیں دے سکتا۔
اس دوران درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ اٹھ کھڑے ہوئے اور مکالمہ شروع کردیا۔چیف جسٹس نے ان کو مخاطب کرکے کہاکہ ہم نے آپ سے پوچھا تھا کہ کیا تحریک انصاف پر پابندی عائد کرانا چاہتے ہیں تو آپ نے نفی میں جواب دیاتھا، جب قانون میں ابہام ہے تو آپ کیسے عمران خان کے بیان حلفی کو جھوٹا کہہ سکتے ہیں، جب درخواست گزار نے الیکشن کے دوران اور اس کے بعد عمران خان کی اہلیت کو چیلنج ہی نہیں کیا تو اس مرحلے پر ’کووارنٹو کی رٹ‘ میں کیسے براہ راست غیر تسلیم شدہ شواہد پر نااہلی چاہتے ہیں۔پھربولے کہ میں اس ملک کا سب سے اعلی قانونی دماغ نہیں ہوں مگر میرے ساتھ بیٹھے دونوں جج بہت پائے کے ہیں۔ جب تک غیرملکی فنڈنگ ثابت نہیں ہوجاتی کیسے کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان نے جھوٹا بیان حلفی دیا۔ پہلے مرحلے میں ہم نے یہ سمجھنا ہے کہ بیرون ملک سے فنڈنگ پر پابندی کیوں ہے؟۔ وکیل اکرم شیخ نے اس پر کچھ کہا تو جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ آپ تمام مواد اکٹھا کریں اور ہمیں ایجوکیٹ کریں۔
چیف جسٹس نے وکیل انور منصور کو مخاطب کرکے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ابھی آپ کے دلائل کو تسلیم کررہے ہیں۔بیرون ملک مقیم لوگوں کامعاملہ ہے جن کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتاہے، کئی لوگوں نے اپنی مجبوریوں کی وجہ سے دوسرے ممالک کی شہریت لی۔ وکیل انور منصور نے کہاکہ بیرونی فنڈنگ کے بارے میں قانون مبہم ہے، قانون جس طرح لکھاگیاہے اسی طرح پڑھاہے۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ قانون بالکل واضح ہے کوئی ابہام نہیں، غیر ملکی کمپنی سے فنڈز لینے پر پابندی ہے۔وکیل نے کہاکہ ایم کیو ایم، آل پاکستان مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے علاو حکومت پاکستان نے بھی امریکا میں کمپنیاں رجسٹرڈ کرکے فنڈز لیے۔ جسٹس عمر نے کہاکہ اسی لیے آپ کہتے ہیں کہ سب کے ساتھ معاملہ ہوناچاہیے کیونکہ اس کے نتائج تو صرف فنڈز ضبطی ہے۔وکیل بولے کہ مسلم لیگ ن انگلینڈ میں بطور کمپنی رجسٹرڈ ہے اور اس کمپنی کے مطابق وہ کاروبار بھی کرسکتی ہے اور برطانوی حکومت سے فنڈز بھی لیتی ہے، یہ تو زیادہ خطرناک معاملہ ہے، فنڈز صرف تحریک انصاف نہیں سب لے رہے ہیں لیکن برطانوی قانون کی وجہ سے ن لیگ کی تفصیلات سامنے نہیں ہیں جبکہ امریکی قانون کے تحت سب کچھ ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔جسٹس عمر نے کہاکہ لیکن ن لیگ کے کسی رہنما نے غیرملکی فنڈز نہ لینے کا بیان حلفی نہیں دیا، جس کو اعتراض ہے وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتاہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہوسکتاہے ن لیگ والے کہیں کہ برطانوی رجسٹرڈ کمپنی سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ وکیل نے کہاکہ یہ اہم معاملہ ہے کیونکہ اس کے نتائج پارٹی پر پابندی کی صورت میں نکلتے ہیں۔ جسٹس عمر نے عطا نے کہاکہ اس لیے کہ یہ ملکی سلامتی سے متعلق معاملہ ہے۔
تحریک انصاف کے پارٹی فنڈز معاملے پر وکیل انور منصور نے دلائل مکمل کیے تو عدالت نے عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کو بلایا جنہوں نے گزشتہ روز جمع کرائے گئے پینتیس صفحات کے جواب میں سے آف شور کمپنی اور بنی گالہ کی جائیداد سے تفصیلات پڑھنا شروع کیں۔ بولے،عمران خان انیس اکہترسے بانوے تک کرکٹرتھے، اس دوران کاﺅٹنی کرکٹ کھیلنے سے کروڑوں کمائے اور لندن میں فلیٹ خریدا۔ کہا کہ سنہ دوہزار میں پہلی بار عمران خان نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت لندن فلیٹ بطور اثاثہ ظاہرکیا، دوہزار دو میں الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی میں عمران خان نے بنی گالہ جائیداد اور فلیٹ کا ذکرکیاتھا مگر نیازی سروسز کمپنی کی تفصیل اس لیے نہیں دی کہ اس کی مالیت ہی نہیں تھی۔ جسٹس عمر عطا نے کہاکہ کمپنی کے شیئرز کی مالیت تھی کیونکہ نیازی سروسز فلیٹ کی مالک تھی۔
عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ کل غیرملکی اثاثوں کی تفصیلات ٹیکس گوشواروں میں بتانے پر دلائل دیں کہ کیا قانون کے مطابق ایسا کرنا ضروری ہے یا نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے