نواز شریف نے ”گوئبلز“ ڈھونڈنے شروع کردئیے

چودھری نثار علی خان صاحب کا شکریہ۔ اپنی دبنگ طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوکر بالآخر انہوں نے اخباری مالکان کے ایک وفد کو بتاہی دیا کہ ہماری عسکری قیادت ”وہ ٹویٹ“ جاری کرنے پر اس لئے مجبور ہوئی کہ یہ امکان نظر آنا شروع ہوگئے تھے کہ پرویز رشید کو وزارتِ اطلاعات کے منصب پر بحال کیا جا رہا ہے۔
اس دو ٹکے کے رپورٹر نے یہی بات اس کالم میں بہت دن پہلے لکھی تھی۔ ہوا یوں تھا کہ 20 اپریل کو جب سپریم کورٹ نے پانامہ پر اپنا فیصلہ سنایا تو وزیراعظم کے دفتر سے چند تصاویر جاری ہوئیں۔ ان تصاویر میں شہباز صاحب نجانے کن وجوہات کی بناءپر سپریم کورٹ کے فیصلے پر مطمئن وشاداں ہوئے اپنے بھائی سے فرطِ جذبات میں گلے مل رہے تھے۔ایک تصویر میں دونوں بھائیوں نے مریم نواز کو بھی اپنے درمیان کھڑا کیا۔ غالباََ یہ پیغام دینے کے لئے کہ ”اتفاق“ کی بنیاد پر پھیلے کاروبار کی برکتوںسے ایوان ہائے اقتدار میں کئی برسوں سے براجمان شریف خاندان میں مکمل اتفاق ہے۔ جانشینی کا کوئی جھگڑا نہیں۔”اورنگ زیب“ کے سارے بھائی ،بہنیں اور ان کی اولادیں ایک دوسرے کے ساتھ ایک مشت کی طرح جڑی ہوئی ہیں۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہوئی تصاویر میں سے ایک تصویر ایسی بھی تھی جس میں سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، نواز شریف صاحب کے پیچھے کھڑے نظر آئے۔ ایسے اہم دن ان کی اپنے قائد کے دربار میں موجودگی نے کئی لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ شاید پانامہ کیس سے بظاہر گلوخلاصی سے خوش ہوکر ”گاڈفادر“ نے اس کارندے کو معاف کردیا ہے۔
سپریم کورٹ سے فیصلہ آجانے کے چند روز بعد وزیر اعظم کے دفتر سے ایک حکم نامہ بھی جاری ہوا۔ اس حکم کے ذریعے تاثر یہ دیا گیا کہ 6 اکتوبر 2016ء کی صبح ڈان میں چھپی ایک خبر شاید وزیر اعظم کے سابق مشیرخارجہ،طارق فاطمی صاحب نے رپورٹر کو دی تھی۔ انہیں عہدے سے فارغ کردیا گیا۔ راﺅ تحسین کو ان کے عہدے سے اس بناء پر ہٹادیا  گیا کہ وہ حکومتِ پاکستان کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر(PIO)ہوتے ہوئے بھی ڈان کی اس خبر کو رکوانہ پائے۔
منگل کے دن 22کے قریب اخباری مالکان،مدیروں اور مختلف ٹی وی نیٹ ورکس چلانے والے جو لوگ چودھری صاحب کو ملے،انہیں وزیر داخلہ نے بتایا کہ ڈان میں خبر چھپنے کے بعد انہیں وزیر اعظم نے یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ یہ معلوم کریں کہ اندر کی بات باہر کیسے آئی۔
چودھری صاحب نے اپنی تفتیش کا آغاز ان دنوں کے وزیر اطلاعات سے کیا۔ بقول چودھری صاحب، پرویز رشید نے ان کے سامنے اعتراف کیا کہ جب 6اکتوبر2016ءوالی خبر دینے والے سیرل المیڈا نے ان کے ساتھ رابطہ کرنے کے بعد قومی سلامتی پر ہوئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی تفصیلات انہیں سنائیں تو وہ ”ہکا بکا“ رہ گئے۔ پرویز رشید کو یوں محسوس ہوا کہ جیسے سیرل بذاتِ خود اس اجلاس میں موجود تھا۔
22کے قریب اخباری مالکان،مدیروں اور ٹی وی نیٹ ورکس چلانے والوں کو یہ سب بتاتے ہوئے چودھری صاحب کو یہ خیال نہیں آیا کہ پرویز رشید کے ”ہکا بکا“ ہوجانے والی بات درحقیقت اس امرکا اعتراف بھی تھی کہ سیرل نے جو خبر لکھی وہ اتنی بے بنیاد بھی نہیں تھی۔ نظر بظاہر ٹھوس مواد پر مبنی اس خبر کو وزیر اطلاعات ایک جمہوری ہونے کے دعوے دار ملک میں کس طرح روک سکتا تھا۔ خبر روکنے کی اصل طاقت تو ہٹلر کے وزیر اطلاعات گوئبلز کے پاس ہوا کرتی تھی۔ہمارے ہاں وزارتِ اطلاعات کو ایسے اختیارات جنرل ایوب، ضیاءاور مشرف جیسے ”مردانِ آہن“ نے عطا کئے تھے۔ نام نہاد ”جمہوری حکومتوں“ میں وزارتِ اطلاعات کے پاس یہ اختیارات موجود نہیں ہوتے۔
نواز شریف صاحب نے لیکن اب اپنے ”گوئبلز“ ڈھونڈنے شروع کردئیے ہیں۔ خدا انہیں اپنے عہدے پر قائم رکھے۔ ان کے پہلے دور میں انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ جناب بریگیڈئر امتیاز خبریں رکوایا کرتے تھے۔ مجھ بدنصیب کو ان کی وجہ سے ”جرات آزمائی“ کے بہت مواقع نصیب ہوئے۔ نواز شریف صاحب کے دوسرے دور میں ہمہ وقت احتساب کو بے چین سیف الرحمن نے ”گوئبلز“کی یاد دلادی تھی۔ ایک چھوٹی سوزوکی میں میری بیوی دو چھوٹی بچیوں کو ڈال کر سودا سلف لینے مارکیٹ جاتی تو دوسفید ٹیوٹا گاڑیوں میں موٹی مونچھوں والے ”مشٹنڈے“ اس کا تعاقب کرتے۔ مقصد اس پہرے کا مجھے خوفزدہ کرنا تھا۔ آتش ان دنوں مگر ابھی تک جوان تھا۔ ڈھٹائی سے برداشت کرگیا۔
نواز شریف صاحب کو تیسری بار وزیر اعظم کے دفتر پہنچ کر اب دریافت ہوا ہے کہ صحافیوں کو ان کی اوقات میں رکھنے والے ٹیوٹا گاڑیوں میں بٹھائے ”مشٹنڈوں“ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اخباری مالکان کی تنظیم سے باقاعدہ رابطہ کرکے ”استدعا“ کی گئی ہے کہ وہ اپنے اداروں میں موجود ”تخریب کار“ مدیروں اور رپورٹروں کو لگام ڈالنے کی کوئی ترکیب سوچیں۔ ”قومی سلامتی“ کے امور پر لکھتے ہوئے کسی ضابطہ کار کے تابع رہیں۔
مختصر لفظوں میں اخباری مالکان کو حکم ملا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کے لئے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں خود ہی تیار کریں۔ PIOکا فون کسی خبر کو روکنے کے لئے آئے تو اس پر فوری عمل کریں۔ اخباری مالکان نے یہ سب کچھ نہ کیا تو وہ سرکاری اشتہاروں سے محروم ہوجائیں گے۔ اشتہارات کے بغیر اس دور میں کسی اخبار کو محض سرکولیشن کے ذریعے زندہ رکھنا ناممکن ہوگیا ہے۔ تھوڑی بہت مزاحمت کے بعد اخباری مالکان وزارتِ اطلاعات کے آگے اپنے سرنگوں کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ جمہوریت کا بھرم بھی برقرار رہے گا۔ ”آزادی صحافت“ کا گماں بھی اپنی جگہ قائم ۔
اخبارات کو ٹھوس معاشی مفادات اور تقاضوں کی بنیاد پر بُنے جال سے قابو میں رکھنے کا ڈھنگ ترکی کے سلطان اردوان نے بہت مہارت سے اپنے ملک میں استعمال کیا ہے۔ برادر ملک ترکی ہمارے چند شہروں کو ”کچرے“ سے صاف کرنے میں بھی ہماری مدد کرتا ہے۔ اسی ملک میں ایجاد ہوئی چند تراکیب اب صحافت کو بھی ”کچرے“ سے صاف کرنے کے لئے استعمال ہوں گی۔
چودھری صاحب نے 22کے قریب اخباری مالکان،مدیروں اور ٹی وی نیٹ ورکس چلانے والوں کو یہ بھی بتایا ے کہ عسکری قیادت کو یہ اطمینان دلادیا گیا ہے کہ ”گوئبلز“ والی صلاحیتوں سے محروم پرویز رشید کو وزارت کے عہدے پر بحال نہیں کیا جائے گا۔ ”وہ ٹویٹ“ اسی وجہ سے Withdrawہوا۔ شاید اس کے بعد عسکری اور سیاسی قیادت دوبارہ’ ’ایک پیج“ پر اکٹھی ہوگئی ہیں۔ ”ہم اور تم“ ایک ہوجائیں تو ”بادل“ آجاتے ہیں اور پھر ”جنگل“ سارا رقص میں محونظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔
حبیب جالب نے تو کئی برس پہلے دریافت کرلیا تھا کہ ”رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے“۔ ہم صحافی کچھ برسوں سے ”آدابِ غلامی“ سے ”ناواقف“ ہوچکے تھے۔ رب کا صد شکر کہ چودھری نثار علی خان صاحب کی مہربانیوں سے اب ہم اپنی ہی تیار کردہ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہن کر چند ہی دنوں میں سرِ بازار رقص کرتے نظر آئیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button