عوامی عہدہ – نوازشریف اور عمران خان

میری ایک فیس بک پوسٹ کے جواب میں میرے چھوٹے بھائی نے سوال اٹھایا ہے کہ نواز شریف 1981 سے مختلف ادوار میں عوامی منصب پر فائز چلے آ رہے ہیں، ان سے دور اقتدار کا احتساب مانگنا سمجھ آتا ہے لیکن عمران خان جو 2002 سے پہلے کسی عوامی عہدے پر نہیں رہے ان سے کس چیز کا حساب مانگا جا رہے ہے،چھوٹے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر عمران خان نے 1983 سے خریدا فلیٹ ظاہر نہیں کیا تو یہ ٹیکس کا ایشو ہو سکتا ہے لیکن یہ بات بھی 2002 سے قبل کی ہے جب کپتان کسی منصب پر نہیں ریے، پیارے بھائی نے بطور صحافی سوالات اٹھائے اور صحافت کے طالب کی حیثیت سے استدعا کی کہ میں اس معاملہ پر اس کی رہنمائی کرو،میں خود کوئی بڑا صحافی نہیں ہو پھر بھی اپنی دانست میں بطور صحافی جواب دینے کی کوشش کرتا ہو جس سے متفق ہونا یا نہ ہونا چھوٹے کی صوابدید ہے۔
پنامہ کے مقدمہ میں ایک طرف نواز شریف کے احتساب کے لیے جے آئی ٹی کام کر رہی ہے تو دوسری طرف پنامہ مقدمہ کے درخواست گزار عمران خان اپنی آف شور کمپنی نیازی سروسز، بنی گالی اراضی کی خریداری و ادائیگیوں کے معاملے پر عدالت عظمی کے کٹہرے میں ہیں،اگرکپتان سے 2002 سے پہلے (جب وہ کسی عوامی عہدے پر نہیں رہے) کی پوچھ گچھ ہو رہئ ہے تو یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں، پنامہ لیکس کیس میں مریم نواز ، حسین اور حسن نواز کا بھی احتساب ہوا جن کے پاد کبھی کوئی عوامی عہدہ نہیں رہا،حسین اور حسن کا احتسابی عمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں ابھی مزید ہوگا لیکن اس منطق کو اس دلیل سے رد کیا جا سکتا ہے کیونکہ نواز شریف نے مبینہ کرپشن کرکے اپنی اولاد کے نام لندن کے فلیٹ بے نامی خریدے، قومی خزانے کو نقصان پہنچا کر مبینہ اثاثے بنائے، اس لیے تینوں بہن بھائی کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا گیا، یہ جواز کسی حد تک قابل قبول ہے۔
اس سے آگے چل کر معاملہ کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں شریف فیملی کی اتفاق فاونڈی کو قومیانہ کے احکامات جاری کیے تو یہ بات ثابت شدہ ہے اس وقت شریف خاندان کا شمار ملک کے بڑے صنعت کاروں میں ہوتا تھا،اتفاق اسٹیل مل بچلے درجے کی انڈسٹری ہوتی تو شائد قومیائی بھی نہ جاتی، قطع نظر اس بات کے1974دوبئی میں گلف اسٹیل کس نے لگائی،میاں شریف نے یا نواز شریف نے، لیکن نواز شریف سے گلف سٹیل دوبئی کا احتساب مانگا گیا اور آگے جے آئی ٹی میں مانگا جائے گا جبکہ دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ نواز شریف یا انکے خاندان میں سے کوئی بھی 1981 سے پہلے کسی عوامی عہدے پر تو کیا، دور دور تک سیاست میں بھی نہیں تھا،اس کے باوجود وہ جوابدہ ہیں،پنامہ کے عدالتی فیصلے کے بعد یہ چیز قانون بن چکی ہے کہ سیاسی لیڈر سے عہدہ سنبھالنے سے پہلے  اس بارے پہجواب دہی ہو سکتی آیا کہ وہ صادق اور امین ہے یا نہیں؟؟؟
چلے یہ بات بھی چھوڑ دیتے ہیں ٹیکس قوانین کا مجھے زیادہ علم نہیں لیکن الیکشن قوانین کے تحت ہر امیدوار اپنے مکمل اثاثے ظاہر کرنے کا پابند ہے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو کاغذات نامزدگی چیلنج بھی ہو سکتی ہے اور بطور امیدوار کاغذات مسترد بھی، کپتان نے لندن فلیٹ 1983 میں آف شور کمپنی نیازی سروسز کے ذریعے خریدا، قطع نظر اس بات کے فلیٹ کس آمدن سے خریدا گیا عمران خان نے سال 2000 کی ایمنسٹی اسکیم کے تحت 17 سال قبل خریدے فلیٹ کو ظاہر کیا، اسکیم کے تحت مقررہ ٹیکس ادا کیا، پھر فلیٹ کو 2002 کے الیکشن کاغذات میں بھی ظاہر کیا لیکن جس کمپنی کے ذریعے لندن فلیٹ خریدا وہ 2015 تک زندہ رہی اسے نہ ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا گیا، نہ 2002 اور 2013 کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کیا گیا ، نہ ہی الیکشن کو اس عرصے کے دوران جمع کرائے اثاثوں کی تفصیلات میں اس کا ذکر کیا گیا، گو کہ لندن فلیٹ کی فروخت کے بعد آف شور کمپنی کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں لیکن یاد رہے کہ عدالت عظمی نے صوبائی وزیر جیل خانہ جات وحید آرائیں کو صرف اس بنیاد پر نا اہل قرار دیا کیونکہ وہ دو قومی شناختی کارڈ رکھتے تھے۔
ہو سکتا ہے جس معاملہ پر بحث جاری ہے اس پر مندرجہ بالا دلیل پوری نہ اترتی ہو، چلیں اس منطق کو بھی ردی کی ٹوکری کی نذ ر کرکے آگے بڑھتے ہیں، اوپر بھی ذکر کیا کہ قومی ا نتخابی قوانین کے تحت ہر امیدوار کے لیے اپنے اور اپنی اہلیہ کے اثاثے ظاہر کرنا لازم ہے، کپتان خود کہتے ہیں کہ انہوں نے 1983 سے چھپایا لندن فلیٹ 2000 میں ظاہر کیا،ماضی کو تھوڑا سا کریدے تو عمران خان نے 1997 کا الیکشن بھی لڑا، بھلے انہیں انتخاب میں شکست ہوئی لیکن ان کے بیان کے مطابق لندن فلیٹ 1997 کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا جو ظاہر کرنا انتخابی قوانین کے تحت ضروری تھا،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ماضی میں کسی قانونی تقاضے کے معاملہ پر غلط بیانی کرنے کے اثرات آئندہ کسی موقع پر نا اہلی کا سبب بن سکتی ہے تو اس حوالے سے بھی عدالتی فیصلوں کی مثالیں موجود ہیں جب عدالت عظمی نے 2013 کے اراکان پارلیمان کو 2002 اور 2008 کے  الیکشن کاغذات میں جھوٹ بولنے،اثاثے چھپانے،غلط بیانی پر نا اہل قرار دیکر حلقے میں نئے الیکشن کرائے، یوسف کسیلہ اور میاں نجیب اویسی  بھی ماضی کی غلط بیانی پر عدالتی فیصلوں پر فارغ ہوئے۔
ان تمام باتوں سے ہٹ کر سپریم کورٹ نے بنی گالہ اراضی کی خریداری و ادائیگی، لندن سے جمائمہ کی جانب سے رقم بھیجنے کے معاملے پر متعدد سوالات اور کپتان کی منی ٹریل میں مبینہ تضادات کی نشاندہی کی ہے،پھر بھی حتمی فیصلہ عدالت کو ہی کرنا ہے۔
ایک چیز بڑی واضح ہے کہ نواز شریف اور عمران خان دونوں کو اپنے عدالتی احتساب پر اعتراض نہیں پھر مجھے یا کسی اور کو اعتراض کیوں ہو۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے