حسین نواز کے اعتراضات

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
ایک بجے کا وقت عدالتی نوٹس میں لکھا تھا۔ ججوں نے پہلے دیگر مقدمات سنے، دس منٹ کم پر اٹھ کر گئے۔ ایک بج گیا، تیس منٹ مزید گزرگئے، سیاست دانوں، وکلاءاور صحافیوں سے بھرے کمرہ عدالت میں سب کی نگاہوں کا مرکز ججوں کیلئے مختص دروازہ تھا۔ پھر دو بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے تب جسٹس اعجازافضل، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجازالاحسن نمودار ہوئے۔ کرسیوں پر بیٹھے تو سب سے پہلے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاء کو بلایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ آدھ گھنٹے سے کمرہ عدالت میں موجود تھے مگر ہرطرح کی کوشش کے باوجود کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ کیا وہ خود سے آئے یا عدالت نے بلایا ہے۔ وہ تمام رپورٹرز جو ہفتہ بھر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے حوالے سے ہر طرح کی بے پرکی اڑاتے ہیں، اتنی بڑی خبر سے لاعلم رہے جو ایڈیشنل ڈائریکٹر واجد ضیا عدالت کے سامنے کہنے آئے تھے اور اس کیلئے پہلے سے درخواست کرچکے تھے۔
واجد ضیا نے عدالت کے سوال پر بتایاکہ انہوں نے تین افراد کو طلب کیاہے جو ابھی تک جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ان میں قطر کے شیخ حمد بن جاسم، لندن میں مقیم کاشف مسعود اور نیشنل بنک کے صدر سعید احمد شامل ہیں۔جسٹس عظمت نے پوچھا کیا آپ نے سعید احمد کو سمن جاری کیاتھا؟ مثبت جواب ملنے پر جسٹس عظمت نے کہا کہ سمن کریں تو پیش نہیں ہوتے اور چھٹی لکھ دیتے ہیں، آپ نے اسے گرفتار کیوں نہ کیا؟۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہ کیا بات ہوئی، کسی کو سمن جاتاہے اور وہ آنے کی بجائے سوال وجواب شروع کر دیتاہے، نیشنل بنک کے صدر نے سمن کے جواب میں جو خط لکھا ہے اس کی زبان دیکھ لی ہے، کیا کسی تفتیشی ادارے سے اس طرح بات کی جاسکتی ہے؟ وقت محدود ہے کوئی شخص پیش نہیں ہوگا تو وارنٹ جاری کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل اشتراوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نیشنل بنک کے صدر کے پیش ہونے کی یقین دہانی کراتے ہیں یا پھر ان کا وارنٹ جاری کیا جائے گا؟۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ وہ ضرورپیش ہوں گے ایک دن کی مہلت دی جائے۔مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے کہاکہ کاشف مسعود کو لندن میں خصوصی ذریعے سے سمن بھیجا تھا مگر ان کو پاکستان آنے پر سیکورٹی خدشات ہیں۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ کاشف مسعودسیکورٹی فراہم کرنے کیلئے کہا جاسکتاہے، اگر حمد بن جاسم نہیں آتا تو نہ آئے، دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔
اس موقع پرحسین نواز کے وکیل خواجہ حارث اٹھے اور اپنے دلائل کا آغاز کیا، بولے تفتیشی اداروں کے ہراساں کیے جانے کے خلاف عدالتی فیصلے موجود ہیں۔تفتیش میں شامل ہونے والوں سے بدتمیزی یا مارپیٹ نہیں کی جاسکتی، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان نے طارق شفیع کو ڈرایا، دھمکایا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ کسی کو ہراساں کیاگیا ہے تو معاملہ دوسراہے کیونکہ ہر شخص کی عزت ہے، اللہ تعالی نے قرآن میں انسان کی عزت کاکہاہے، آپ کی درخواست میں ارکان پر تعصب کا الزام لگایا گیا ہے، وکیل نے کہاکہ میری دو درخواستیں ہیں ایک میں طارق شفیع پر دباﺅ کاحوالہ دیا ہے جس میں ہراساں کرنے کا کہاہے۔جسٹس عظمت نے کہاکہ قانون کے سامنے ہر شخص برابر ہے، کیا ہر شخص کیلئے تفتیش کا الگ طریقہ ہونا چاہیے۔ وکیل نے کہاکہ حالات کو دیکھناچاہیے، چند گھنٹوں کے نوٹس پر حسین نواز کو پیش ہونے کیلئے کہاگیا اور وہ سعودی عرب سے آئے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ جے آئی ٹی دن رات ایک کرکے کام کررہی ہے،اس لیے ایسا ممکن ہے۔ وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ طارق شفیع نے بیان حلفی دیاہے جس کے مطابق اسے جے آئی کے ایک رکن عامرعزیز نے ہراساں کیا، جے آئی ٹی کے دوسرے داڑھی والے رکن نے شور اور غصہ کیا، کہاکہ شریف فیملی کیلئے دیاگیا بیان حلفی واپس لو وگرنہ جیل میں ڈال دوں گا۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ ہمیں نہیں معلوم یہ بیان حلفی درست ہے یانہیں، طارق شفیع ٹی پارٹی نہیں تفتیش میں شمولیت کیلئے گئے تھے۔ وکیل نے کہاکہ اس کیس میں بہت عجیب طریقے سے پیش رفت ہورہی ہے، جے آئی ٹی تفتیش کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی کررہی ہے، اگر سپریم کورٹ کو بیان حلفی کی تصدیق کرناہے تو تحقیقاتی ٹیم ٍکی طارق شفیع سے تفتیش کی ویڈیو ریکارڈنگ منگوا کر دیکھ لے۔ قانون کے مطابق جے آئی ٹی ریکارڈنگ نہیں کرسکتی مگر یہ اچھا ہوا کہ اب تصدیق ہوسکے گی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ٹیم صرف شواہد اکھٹے کر رہی ہے فیصلہ ہم نے کرناہے، تفتیش ہوگی تب ہی چیزیں سامنے آئیں گی، ہم دیکھیں گے کیا کوئی تاخیری حربے استعمال تو نہیں کیے جارہے ۔ وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی کے ارکان قانون سے آگاہ نہیں اس لیے قانون کی خلاف ورزی ہوئی، جے آئی ٹی کے ارکان کسی شخص کو بیان حلفی واپس لینے کیلئے نہیں کہہ سکتی، کسی کو بھی تفتیش کے دوران کسی کو جھوٹا کہنے کی اجازت نہیں، طارق شفیع کو تحقیقاتی ٹیم کے رکن نے جھوٹاکہا جس پر انہوں نے واک آﺅٹ بھی کیا، رکن نے جان بوجھ کر دستاویزات کو غلط پڑھا، اگرکسی کو شک ہے تو جے آئی ٹی کی ویڈیو ریکارڈنگ دیکھ لے۔ جسٹس عظمت بولے اگر کوئی سمجھتاہے کہ اس طرح معاملہ تاخیر کا شکار ہوجائے گا تو غلط ہے، قانون کے مطابق معاملہ منطقی انجام تک پہنچے گا، ضرورت محسوس ہوئی تو ریکارڈنگ بھی منگوئیں گے، خواجہ حارث، آپ اتنے جذباتی کیوں ہورہے ہیں۔
اس کے بعد سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر نیشنل بنک کے صدر کے پیش نہ ہونے پر واجد ضیا کی درخواست نمٹادی جبکہ حسین نوا زکی ہراساں کرنے اور جے آئی ٹی کے ارکان کی بدتمیزی درخواست کو اس ہدایت کے ساتھ خارج کردیاکہ تحقیقاتی ٹیم قانون کے مطابق ہرشہری سے عزت سے پیش آئے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ کوئی چپڑاسی ہے یا وزیراعظم ہمارے لیے اور ہرشخص کیلئے اس کی عزت برابر ہے اور اس کی عزت کی جانی چاہیے، یہ ہم سب کو بتاناچاہتے ہیں۔
جج آرڈر لکھواکر اٹھنے لگے تو وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ ان کی ایک اور درخواست بھی ہے ، جے آئی ٹی ارکان پرمیرے اعتراضات کو نہیں دیکھا گیا، عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ اگر تفتیشی افسر پر بدنیتی کا الزام ہوتو اس کو تبدیل کیاجاتاہے، تحقیقاتی ٹیم کے رکن بلال رسول تحریک انصاف کے حامی ہیں اوران کے قریبی رشتہ دار تحریک انصاف میں اہم عہدے دارہیں، ان کی فیس بک پر عمران خان کے دھرنے میں شرکت کاسوال بھی پوچھا گیاتھا، ا ن کی اہلیہ ق لیگ کے ٹکٹ کی امیدوار رہی ہیں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ آپ خود کہہ رہے ہیں کہ بلال رسول نے سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کاکہاتھا، اس کا مطلب ہے کہ وہ قواعد اور اصول جانتے اور ان کے پابند ہیں۔وکیل نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں کہ سرسری طورپر سن کر خارج کردیاجائے، اگر کسی پر شکوک ہوں گے تو اصول لاگو ہوں گے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہ چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم ہے، شواہد اکھٹے کرکے عدالت کے سامنے رکھے گی۔وکیل نے کہاکہ یہ معاملہ سنجیدہ توجہ چاہتاہے کیونکہ اس تفتیش کے نتائج کسی کی نااہلی پر بھی منتج ہوسکتے ہیں، قواعد اور اصول کے مطابق کیس کو دیکھاجائے، دیگر مقدمات میں بھی جب تفتیشی پر سوال اٹھتاہے توعدالت جائزہ لیتی ہے۔ جسٹس عظمت نے کہاکہ جس شخص سے تفتیش ہورہی ہے وہ ملک کاوزیراعظم ہے، وزیراعظم کا ملک کے ہرادارے پر کنٹرول ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ سوال غیر جانبداری اورشفافیت کاہے، ہم نے تمام پہلو دیکھ کر تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے، شکوک تو ججوں پربھی ظاہر کیے جاسکتے ہیں، شک سے کسی تفتیشی کو تبدیل نہیں کیاجاسکتا اس حوالے سے بھی عدالتی فیصلے موجود ہیں، اس طرح ہوا تو پھر ہمیں فرشتے بلانا پڑیں گے۔ یہ ہمارا معاشرہ ہے جہاں اگر کسی کے حق میں فیصلہ ہوتاہے تو جج اعلی قانونی دماغ اور غیرجانبدار قراردیے جاتے ہیں ان کی تعریف ہوتی ہے اور جس فریق کے خلاف فیصلہ ہوتاہے اس کیلئے ہم متعصب اور بکے ہوئے بن جاتے ہیں، جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں یہ عام ہے۔سیاست دان اور لوگ اسی طرح باتیں کرتے ہیں، مگر ہمیں پروا نہیں، ہم نے آئین کا حلف اٹھایاہواہے، ہم چھوٹے دماغ کے متعصب لوگ ہیں ، ہم وہ بونے ہیں جو اپنی چاردیواری سے باہر نہیں دیکھ سکتے۔ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کا تعصب ان کی رپورٹ سے معلوم ہوگا، اگر نظر آیا تو تبدیل کردیں گے، لیکن کوئی ٹھوس مواد نہ ہوا تو کسی کو تبدیل نہیں کیاجائے گا۔
جسٹس عظمت سعید بولے اگر چاچے مامے دیکھناشروع کردیے تو یہاں ہرایک کسی نہ کسی کارشتہ دارہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہرصورت قانونی کی حکمرانی کو مقدم رکھناہے۔ وکیل بولے میرا کام صرف اپنا مقدمہ پیش کرناہے، فیصلہ کرنا عدالت کاکام ہے، ہم نے قانون کے مطابق رپورٹ آ نے سے پہلے اپنے تحفظات ظاہرکردیے۔ جسٹس اعجازلاحسن نے کہاکہ ہم نے یہ نکتہ ریکارڈ کرلیاہے۔وکیل نے کہاکہ تحقیقاتی ٹیم والے فرعون نہیں ہیں نہ ہی وہ دیوتاہیں انہوں نے قانون کے مطابق کام کرناہے۔ جسٹس عظمت بولے نہ تفتیشی افسر فرعون ہیں اور نہ جن سے تفتیش کی جارہی ہے وہ فرعون ہیں، نہ ہم جج فرعون ہیں اور نہ ہی آپ فرعون ہیں۔
وکیل نے کہاکہ حسین نواز نے سمن کے جواب میں لکھا تھاکہ جو دستاویزات ضرورت ہیں بتایا جائے تاکہ ساتھ لاسکوں کیونکہ چار پانچ معاملات ہیں جو تحقیقاتی ٹیم دیکھ رہی ہے، اور یہ ایک پیشی پر مکمل نہیں ہوگا اس لیے ہر بار الگ معاملے پر پوچھا جائے۔جسٹس اعجازالاحسن بولے کہ اگرحسین نواز کو ہی معلوم نہیں کہ اس نے کون سی دستاویزات پیش کرناہیں تو پھر گڈ لک۔وکیل نے کہاکہ پانچ الگ الگ معاملات ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ جس سے تفتیش ہورہی ہے اسے پہلے سے سب کچھ نہیں بتایا جاسکتا۔وکیل بولے کہ تمام ر یکارڈ عدالت اور جے آئی ٹی کے پاس ہے، تمام باتیں قانون کے مطابق کررہاہوں۔عامرعزیز ماضی میں حدیبیہ پیپرز کیس کی تفتیش سے منسلک رہے ہیں قانون کے مطابق ایک یہ معاملے میں دوسری بار تفتیش نہیں کرسکتے، یہ شخص غیرجانبدار بھی نہیں۔ ججوں نے اٹھنے کیلئے پرتولے تو وکیل بولے کہ عدالت بہت جلدی میں لگ رہی ہے۔ جسٹس عظمت بولے ہم بہت تحمل سے سن رہے ہیں، یہ ارکان عدالت نے نامزد کیے ہیں۔ وکیل نے جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں جنرل پنوشے کے جج پر اعتراض کا حوالہ بھی دیا جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ وہ جج پر تعصب کا الزام تھا تفتیشی پر نہیں۔وکیل نے کہاکہ برسوں قبل عامرعزیز ایک بنک کی سبسڈری کا حصہ تھے جن کے التوفیق کمپنی کے ساتھ معاملات تھے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ پھر تو عامرعزیز نے وہاں آپ کے موکل کو بڑی فیور دی تھی اورمبینہ طورپر ساٹھ ملین ڈالر کامعاملہ نمٹایا تھا۔ وکیل نے کہا کہ وہ ہمارے مخالف تھے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہم نے قانون کے مطابق معاملے کو دیکھناہے، ہرپندرہ دن بعد رپورٹ آرہی ہے ہم اس کو دیکھ رہے ہیں، جب تک اعتراض کیلئے کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں آتی۔ وکیل نے کہاکہ عامر عزیز نے طارق شفیع کو بیان حلفی واپس لینے کیلئے کہا، اس سے زیادہ ٹھوس مواد کیا ہوسکتاہے، دھمکایا گیا کہ پندرہ سال جیل میں ڈال دیں گے ۔ اس کے بعد وکیل نے تفتیشی کے تعصب کے حوالے سے عدالتی مقدموں کے حوالے دینا شروع کیے تو جسٹس عظمت نے کہاکہ افطاری یہیں کرانا چاہتے ہیں۔ پھربولے یہ کسی عام شہری کا مقدمہ ہوتا تو کیا عدالت تحقیقاتی ٹیم بناتی اور کیا ہم خود رپورٹ منگواتے؟ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ عام مقدمہ نہیں ہے۔ وکیل نے کہاکہ تفتیش شفاف ہونا چاہیے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ بہت غور سے دیکھ رہے ہیں کون کیاکررہاہے، ہم جے آئی ٹی کے ارکان کی حوصلہ شکنی بھی نہیں کرسکتے۔وکیل نے کہاکہ تفتیشی افسران پوچھتے ہیں کہ سعودی عرب سے اتنی جلدی کیوں آئے؟ کیا جلدی تھی؟ اس قسم کے سوال ہورہے ہیں،توازن ہوناچاہیے، یقینا فرشتے تفتیش کیلئے نہیں آسکتے مگر ہم ایسے تفتیشی چاہتے ہیں کو غیرجانبدارہوں، جن کا کسی سے تعلق نہ ہو۔
جسٹس عظمت نے کہاکہ دونوں جانب کے تعصب کو مدنظررکھیں گے آپ کے حق میں بھی اور آپ کے خلاف بھی۔ وکیل نے کہاکہ متاثرہ فریق ہم ہیں، بیان حلفی موجود ہے، عدالت ویڈیو دیکھ کر اس کی تصدیق کرے۔ جسٹس اعجاز نے کہاکہ تمام ریکارڈ اور دستاویزات کے ساتھ اعتراضات کو سامنے رکھیں گے۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ تحقیقاتی ٹیم کو کہا جائے جب کسی کو نوٹس جاری کرے تو اس میں ان متعلقہ دستاویزات کا بھی حوالہ دیدے جو مطلوب ہیں تاکہ وہ شخص ساتھ لاسکے۔ اس پر جسٹس عظمت غصے میں آگئے،بولے یہ اپنی پنجاب حکومت کو بھی کہیں کہ جب پولیس کسی کو بلائے تو نوٹس کے ساتھ دستاویزات کاحوالہ دے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ اس کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے۔ پھربولے ہم اٹارنی جنرل سے یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ کسی کی طرف داری کرے۔ اٹارنی جنرل اس بات پر ناراض ہوکر بولے کہ کسی کی طرف دار ی نہیں کررہا، قانون کے مطابق بات کررہاہوں۔ اس کے ساتھ ہی جج اپنی نشستوں سے اٹھے، اور کسی کو بھی معلوم نہ ہوسکا کہ حسین نوازکی دوسری درخواست جو ارکان کے تعصب پر تھی اس کا آرڈر کیوں نہ لکھوایا گیا۔

متعلقہ مضامین