نہال ہاشمی پھر عدالت میں

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے اظہار وجوہ نوٹس کا تحریری جواب دینے کیلئے نہال ہاشمی کو مہلت دیدی، مقدمے کی سماعت سولہ جون تک ملتوی کردی گئی۔
جسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالتی بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ جسٹس اعجازافضل نے پوچھاکہ اظہار وجوہ کے نوٹس پر جواب کیوں جمع نہ کرایا۔ نہال ہاشمی نے کہاکہ مجھے ابھی تک مکمل ویڈیو اور اس کا متن نہیں مل سکا، مجھے عید کے بعد تک مہلت دی جائے، اللہ کے گھر جاناہے۔ میں اللہ سے ہی ڈرتاہوں اور جو اللہ سے ڈرتاہے اسے کسی اور سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ گزشتہ سماعت پر آپ عدالت میں کھڑے ہوکر جواب جمع کرنے کیلئے تیارتھے۔نہال ہاشمی نے کہاکہ گزشتہ تیس برس سے وکالت کے شعبے سے وابستہ ہوں، یہی میری روزی روٹی کا ذریعہ ہے،وکلاءتحریک کے دوران ایک سال کسی عدالت میں پیش نہیں ہوا، میرے گھر پر بھی حملہ ہواتھا، عدلیہ کی تضحیک کا سوچ بھی نہیں سکتا، سازشی اورکرپٹ لوگ ہرادارے میں موجود ہیں ان کے خلاف بولتاہوں۔ مجھے وکیل کرنے کی بھی مہلت دی جائے، کوئی میرا وکیل بننے کو تیارنہیں، سب سپریم کورٹ سے ڈرتے ہیں، مجھے لگاکہ یہ عدالت اور جج میرامقدمہ لڑیںگے، مجھے سنیں گے۔جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ آئندہ پیر تک مہلت دے کر مقدمہ ملتوی کردیتے ہیں تو نہال ہاشمی نے کہاکہ اگلے پیر کو میں نے افطارپارٹی رکھی ہے، بکنگ کے پیسے بھی اداکرچکاہوں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ آپ توہین عدالت کے معاملے کو غیرسنجیدہ لے رہے ہیں، یہ نہایت سنجیدہ کیس ہے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت سولہ جون تک ملتوی کردی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button