اصل مسئلہ

مسئلہ محض نواز شریف کو حکومت سے فارغ کرنا نہیں۔ موصوف کی ذات اور خاندان کی ذلت ورسوائی بھی ہے۔ آغاز اس کھیل کا 1990ء کی دہائی میں ہوا تھا۔ صدر ہمارے ان دنوں غلام اسحاق خان ہوا کرتے تھے۔ وہ ریاست کے دائمی اداروں کی سوچ اور ترجیحات کے مجسم ترجمان تھے۔ ہماری سول اور عسکری اشرافیہ انہیں ”بابا“ پکارتی تھی۔ ان کی دیانت کے بے تحاشہ چرچے تھے۔ تاثر عمومی یہ بھی ہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوت، بھٹو کے خواب اور ڈاکٹر قدیر کی مہارت نے نہیں بنایا۔ ہم اُمت مسلمہ کی واحد ایٹمی قوت بن پائے تو اصل وجہ اس کی غلام اسحاق خان کی لگن،دیانت داری اور ریاستی رازوں کو مقدس جان کر ان کی مستقل مزاج پردہ داری تھی۔
پاکستان کے ”نااہل اور بدعنوان“ سیاست دانوں کو اقتدار کی ”چنگیر“ سے تھوڑا حصہ دینے کے لئے جہادِ افغانستان میں مصروف جنرل ضیاءالحق نے 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے تھے۔ ان کے نتیجے میں جو قومی اور صوبائی اسمبلیاں وجود میں آئیں، انہیں اختیارات ہرگز منتقل نہیں کئے گئے تھے۔ طویل مذاکرات اور بحث مباحثوں کے بعد فیصلہ بلکہ یہ ہوا تھا کہ آئین میں آٹھویں ترمیم متعارف کروائی جائے۔ اس ترمیم نے صدر کو یہ اختیار دیا کہ وہ جب بھی کسی سیاسی حکومت کو اپنی اوقات سے تجاوز کرتا محسوس کرے تو کرپشن وغیرہ کے الزامات لگاکر گھر بھیج دے۔
محمد خان جونیجو جنہیں 1985ء کے انتخابات کے بعد پیر پگاڑا کی سفارش پر وزیر اعظم بنایا گیا تھا ذاتی طورپر کافی کنجوس اور مالی معاملات میں ضرورت سے زیادہ ایمان دار ہوا کرتے تھے۔ موصوف کے ذہن میں مگر یہ دھن سوار ہوگئی کہ اقوام متحدہ کے تحت جنیوا میں کئی مہینوں تک پھیلے مذاکرات کے ذریعے افغانستان کا قضیہ ”حل“ کروالیا جائے تاکہ پاکستان اپنی تمام تر توانائی ملکی معیشت کو سنوارنے پر مرکوز کرسکے۔
”نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر“ کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد میں مصروف جنرل ضیاءاور ”میر کے رفقائ“ کو مگر افغانستان میں Strategic Depthsدرکار تھیں۔ جونیجو مرحوم کو بدعنوان اور نااہل ٹھہراکر گھر بھیج دیا گیا۔ ہماری سپریم کورٹ اس وقت آئین اور جمہوریت وغیرہ کے تحفظ کے لئے کوئی قدم نہ اٹھاپائی۔ ہاں جب اگست 1988ءمیں جنرل ضیاءایک فضائی حادثے کی نذر ہوگئے تو ”اچانک“ سپریم کورٹ نے اس سوال پر غور کرنا شروع کردیا کہ آئین کے آرٹیکل 58/2 -Bکے تحت جونیجو کو گھر بھیجنا درست تھا یا غلط۔
اس سوال پر غور کرنے والے بنچ کے کئی معزز ججوں نے دورانِ سماعت کئی ایسے ریمارکس دئیے جنہوں نے لوگوں کے دلوں میں یہ اُمید جگائی کہ جونیجو حکومت کو برطرف کرنے والا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے گا۔اس فیصلے کا منطقی نتیجہ جونیجو حکومت کی بحالی تھا۔ یہ بحالی مگر ہماری ریاست کے دائمی اداروں کے لئے قابلِ قبول نہیں تھی۔ پیغامات کے تبادلے ہوئے۔ بالآخرایک عجیب وغریب فیصلہ آیا۔ اس فیصلے میں اگرچہ یہ تسلیم کیا گیا کہ جونیجو حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے جنرل ضیاءنے آرٹیکل58/2-B کا جو استعمال کیا وہ غیر قانونی تھا۔ اس کا کوئی ٹھوس یا اخلاقی جواز نہیں تھا۔ نئے انتخابات کا چونکہ اعلان ہوچکا ہے،اس لئے جونیجو حکومت کو بحال کرنا”مناسب“ نہیں ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ عوام کو اپنے ووٹ کے ذریعے حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔
عوام کو ”من مانی“ کرنے دی جاتی تو ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی 1988ء میں ہوئے انتخابات کے نتیجے میں ایک طاقت وروزیر اعظم بن کر اُبھرتی۔خدشہ تھا کہ کئی برسوں تک ضیاءکے مارشل لاءکے خلاف جدوجہد کرنے والی ”یہ عورت“ اپنے باپ سے ہوئے سلوک کا انتقام لینا شروع کردے گی۔ریاست کے دائمی اداروں سے حساب چکانے کا وہی طریقہ جو بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اور ترکی کے صدر اردوان نے کئی برسوں سے اپنا رکھا ہے۔ محترمہ کو ”قابو“ میں رکھنے کے لئے لہذا IJIبنوائی گئی۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ-پنجاب- اس اتحاد کی بدولت ہمارے دائمی اداروں کے دریافت شدہ نواز شریف کے حصے میں آیا۔ پاکستان کی آبادی کے سب سے بڑے اور مو¿ثر حصہ میں حکومتی اختیارات سے محروم بے نظیر بھٹو اسلام آباد تک محدود کردی گئیں۔ ان کا اقتدار اسلام آباد کے زیروپوائنٹ سے گزرکر راولپنڈی کے فیض آباد پہنچنے کے بعد ”ختم“ ہوجاتا تھا۔ اسلام آباد تک سکڑی اس حکومت کے بارے میں کرپشن کہانیوں کے انبار بھی لگ گئے۔ان کہانیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 6اگست 1990ءکو غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت کو فارغ کر دیا۔
غلام مصطفےٰ جتوئی نگران وزیر اعظم بنائے گئے۔ صدر غلام اسحاق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کی تمنا تھی کہ نئے انتخابات کے بعدبھی جتوئی صاحب ہی وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہیں۔ ”پنجاب“ مگر نواز شریف کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ انہیں وزیراعظم بنانا ہی پڑا۔
نواز شریف کے وزیر اعظم بن جانے کے چند ہی روز بعد مگر ریاست کے دائمی اداروں اور ان کے ”بابا“ کو فکر لاحق ہوگئی کہ لاہور سے آیا یہ صنعت کار ”کسی کی نہیں سنتا“۔ جو جی میں آئے کرگزرتا ہے۔ موصوف کو اپریل 1993ءمیں ویسے ہی الزامات لگاکر گھر بھیج دیا گیا جو اگست 1990ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں سنائے گئے تھے۔ نسیم حسن شاہ کا سپریم کورٹ مگر اب کی بار آئین اور جمہویرت کی ”حرمت“ کو تحفظ دینے کے لئے ڈٹ گیا۔ نواز حکومت بحال ہوگئی مگر نئے انتخابات کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں رہا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں محترمہ دوسری بار وزیر اعظم منتخب ہوگئیں۔ نواز شریف نے ا س فیصلے کو دل سے کبھی قبول نہ کیا۔
وہ اس حکومت سے نجات پانے کی لگن میں مبتلا ہوگئے۔ بالآخر پیپلز پارٹی ہی کے بنائے صدر فاروق لغاری نے ان کی مشکل آسان کردی۔ محترمہ کو گھر بھیج دیا گیا۔ سجاد علی شاہ کے سپریم کورٹ کو آئین میں موجود آٹھویں ترمیم کا محترمہ کی دوسر ی حکومت کے خلاف استعمال جو صدر کو حکومتیں گھربھیجنے کا اختیار دیتی تھی،بہت معقول اور مناسب نظر آیا۔
اس کے بعد کی کہانی حالیہ تاریخ ہے۔ نواز شریف کو جنرل مشر ف نے احتساب کے کڑے عمل سے گزارنا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر کلنٹن نے سعودی حکومت کی معاونت سے مگر ایسا ہونے نہیں دیا۔ذوالفقار علی بھٹو کی طرح نواز شریف کو فوجی حکومت کے دوران لہذا پھانسی نہیں ہوئی۔ تھوڑی اذیت، ذلت اور رسوائی کے بعد سعودی عرب جلاوطن کردیا گیا۔
جنرل مشرف کے دور میں نواز شریف کو ”کڑے احتساب“ سے گزارنے کے لئے جو مقدمات قائم ہوئے تھے وہ مگر اپنی جگہ قائم رہے۔ ان دنوں بنیادی طورپر سپریم کورٹ ان ہی مقدمات کو JITکی معاونت سے ازخود نمٹانا چاہ رہا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ انصاف جلد فراہم ہوجائے گا۔ وہ سزائیں جو تمام تر اختیارات کے حامل ہوتے ہوئے جنرل مشرف نواز شریف کو عدالتی عمل کے ذریعے دلوانہ پائے شاید اب کی بار ایک مو¿ثر اور شفاف انداز میں لاگوہوجائیں۔ انگریزی محاورے والا Last Laughاس صورت میں جنرل مشرف اور ان کے ”رفقائی“ کو نصیب ہوگا۔
”تاریخ“ یوں بھی بنے گی کہ پاکستان میں پہلی بار کسی وزیر اعظم کو اس کے عہدے سے فارغ کرنے کے بعد نہیں بلکہ اقتدار میں رہتے ہوئے ہی کڑے احتساب کے عمل سے گزارا جائے گا۔ یوسف رضا گیلانی کی ایک خط نہ لکھنے کی وجہ سے فراغت نے ایک Precedentبھی Setکررکھا ہے۔ اب اس سے آگے بڑھنے کی باری ہے۔
ریاست کے دائمی اداروں کے تابڑتوڑ حملوں سے پریشان ہوئے شریف خاندان کو مگر دیوار پر لکھا ہوا نظر نہیں آرہا۔ جنرل مشرف پر ”بغاوت اور غداری“ کے الزامات لگاکر مقدمات چلانے کی کوشش کا نتیجہ اس کے علاوہ اور ہو بھی کیا سکتا تھا جو ان دنوں ہوتا نظر آرہا ہے۔ کاش کہ تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم ”دخترِ سیالکوٹ“ کی سیاسی بصیرت ہی سے کچھ سبق سیکھ لیتے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے