اسلامی فوجی اتحاد

سعودی عرب کے ساتھ مل کر مصر اور متحدہ عرب امارات نے قطر کا جو مقاطعہ کیاہے،پاکستان اس سے غیر متعلق رہ ہی نہیں سکتا۔ پانامہ سکینڈل کو ’’منطقی انجام‘‘ تک پہنچانے کے جنون میں مبتلا ہوئی ہماری قوم کے پاس مگر اس قضیئے پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ تو اس بات پر بہت خوش ہیں کہ سعودی عرب اور قطر کی دشمنی کی وجہ سے نواز شریف مزید مشکلات میں گھر گئے ہیں۔
جنرل مشر ف نے ان کی حکومت کا اکتوبر1999ء میں تختہ الٹا تو پہلا مقدمہ معزول وزیر اعظم کے خلاف اس جہاز کو ’’ہائی جیک‘‘ کروانے کا بنایا گیا جو اس وقت کے آرمی چیف کو سری لنکا سے پاکستان واپس لارہا تھا۔اس چیف کو دوران پرواز ہی اپنے عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔ جنرل کرامت کے 1998ء میں دئیے استعفیٰ کے بعد سے ہماری عسکری قیادت مگر ’’چوکنا‘‘ ہوچکی تھی۔ بہت سوچ بچار کے بعد ایک حکمت عملی تیار ہوئی جس کے ذریعے وہ ٹھوس اقدامات طے کردیئے گئے تھے جن کے ذریعے کسی وزیر اعظم کے لئے ’’ایک اور آرمی چیف‘‘ سے نجات پانا ناممکن بنادیا گیا تھا۔
12اکتوبر 1999ء کی سہ پہر کو یہ طے شدہ حکمت عملی خودبخود حرکت میں آگئی۔ جنرل مشرف کا جہاز ابھی فضا ہی میں تھا کہ نواز شریف کو گرفتار کرکے معاملہ Fixاور Clearکردیا گیا۔ خیروعافیت سے وطن لوٹ کر جنرل مشرف نے رات گئے کمانڈو کی وردی پہن کر ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ بھی کردیا۔ بازاروں میں مٹھائیاں بٹیں۔ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت نواز شریف سے ’’جان چھڑوانے‘‘ کی وجہ سے جنرل مشرف کی مشکور نظر آئی۔ ان میں سے کئی متحرک لوگوں نے ا پنے لئے ’’نئے سیٹ اپ‘‘ میں جگہیں ڈھونڈنے کی کوششیں بھی شروع کردیں۔
جنرل مشرف مگر اپنے اقتدار کے لئے ’’مارشل لائ‘‘ کا لفظ اختیار کرنا نہیں چاہ رہے تھے۔ وجہ اس کی صرف وائٹ ہائوس میں بیٹھا صدر کلنٹن تھا۔ خود کے لئے موصوف نے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ کا عہدہ چنا اور صدر رفیق تارڑ کو ایوان صدر میں براجمان رہنے پر قائل بھی کردیا۔
دریں اثناء کوشش یہ ہوئی کہ نواز شریف کو ’’رضا کارانہ استعفیٰ‘‘ دینے پر قائل کردیا جائے۔ وہ یہ استعفیٰ دے دیتے تو ’’معطل‘‘ ہوئی قومی اسمبلی کو بحال کردیا جاتا۔ یہ اسمبلی اپنے لئے کوئی نیا وزیر اعظم ’’چن‘‘ کرجنرل مشرف کی نگہبانی میں اس ملک کو ’’اچھی حکومت‘‘ فراہم کرسکتی تھی۔ میاں اظہر،سیدہ عابد حسین اور الٰہی بخش سومرو جیسے اراکین نے اسی امید پر معطل ہوئی اسمبلی میں ایک طاقت ور گروپ بنانا شروع کردیا تھا۔ گجرات کے چودھری مگر سیانے تھے۔ انتظار کرتے رہے۔انہیں خبر تھی کہ ایک بار ’’میرے عزیز ہم وطنو‘‘ ہوجائے تو ’’دیدہ ور‘‘ کے لئے اپنی جگہ پر قائم رہتے ہوئے قوم وملک کو ازسرِ نو تعمیر کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ایوب خان اور جنرل ضیاء نے بھی ایسے ہی کیاتھا۔ جنرل مشرف کے لئے ان کے بنائے راستے پر چلنا ضروری تھا۔ صرف مناسب وقت کا انتظار تھا۔
بالآخر وہ وقت آہی گیا۔ بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے ،جسے جنرل مشرف نے کارگل پہنچ کر بہت ناراض کردیا تھا، پاکستان کے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ کو جنوبی ایشیاء میں دائمی امن کے راستے ڈھونڈنے کے لئے آگرہ آنے کی دعوت دے دی۔ مشرف کے دہلی پہنچنے کے بعد ان کا ایئرپورٹ پر ’’مناسب‘‘ استقبال کے لئے ضروری تھا کہ وہ پاکستان کے ’’صدر‘‘ ہوتے جنہیں 21 توپوں کی سلامی دی جاسکتی ہے۔ 21 توپوں کی سلامی کو یقینی بنانے کے لئے رفیق تارڑ کو ایوانِ صدر سے نکال باہر کیا گیا۔ جنرل مشرف ان کی جگہ ہمارے ’’صدر‘‘ ہوگئے۔ ان کے عہدے کو ’’آئینی‘‘ بنانے کے لئے حال ہی میں فوت ہوئے شریف الدین پیرزادہ صاحب نے ایک حکم نامہ تیار کیا تھا۔’’نظریہ ضرورت‘‘ کے عادی سپریم کورٹ کو اس حکم نامے میں کوئی سقم دکھائی نہیں دیا۔
بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کے ساتھ ہی ساتھ جنرل مشرف نے اس ملک میں ’’حقیقی جمہوریت‘‘ کے قیام کے لئے جنرل نقوی کی قیادت میں قومی تعمیر نوبیورو والا تھنک ٹینک بنایا۔ ’’بدعنوان سیاستدانوں‘‘ کو جنگی قیدیوں کی طرح گرفتار رکھ کر جنرل امجد کے ذریعے کرپشن سے کمائی دولت کو قومی خزانے میں واپس لانے کے لئے احتساب بیورو متحرک ہوا۔ ارادہ یہ تھا کہ صاف ستھرے لوگوں پر مشتمل مقامی حکومتیں بنانے کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ’’مناسب وقت‘‘ پر کروادئیے جائیں گے۔ ان انتخابات کے ذریعے جنرل مشرف کے سات نکاتی ایجنڈے کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے ایک سیاسی جماعت کی بھی ضرورت تھی۔ چودھری شجاعت حسین نے ’’قائد اعظم کی مسلم لیگ‘‘ کی صورت وہ جماعت منظم کرنا شروع کردی۔ مسئلہ اب صرف نواز شریف سے جاں خلاصی کا تھا۔
نواز شریف کے خلاف صرف مشرف کے جہاز کا اغواء کا مقدمہ ہی نہیں بلکہ کرپشن کے اور بھی کئی مقدمات قائم ہوئے تھے۔ خطرہ تھا کہ انہیں بالآخر بھٹو کی طرح نشانِ عبرت بنادیا جائے گا۔ صدر کلنٹن نے مگر 4جولائی 1999 ء کے دن نواز شریف سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر کارگل کی وجہ سے عسکری قیادت ان سے ناراض ہوئی تو امریکہ ان کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ 2001ء کے اختتام میں وائٹ ہائوس چھوڑنے سے قبل سعودی عرب کو ساتھ ملاکر کلنٹن نے اپنا یہ وعدہ نبھادیا۔ نواز شریف کوان کے خاندان سمیت سعودی عرب جلاوطن کردیا گیا۔
ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت کو یہ غلط فہمی ہے کہ نواز شریف،جنرل مشرف کے ہاتھوں عبرت ناک انجام سے سعودی عرب کی بدولت بچے تھے۔حقیقتاََ ایسا نہیں ہوا۔ کلیدی کردار امریکی صدر کلنٹن نے ادا کیا تھا۔ لبنان کے سابق وزیر اعظم حریری اس ضمن میں نواز شریف کو بچانے کے لئے ایک سہولت کار تھے اور سعودی عرب نے محض آمنا وصدقنا کہا۔
بہرحال نواز شریف کے دشمنوں کو یقین ہے کہ قطر کے خلاف سعودی عرب کی لگائی گیم میں انہیں شامل ہونا ہی پڑے گا۔ مجبوری مگر ان کی یہ بھی ہے کہ پانامہ دستاویزات کے منکشف ہونے کے بعد سے اچھلے سکینڈل میں شریف خاندان کو ’’کلین چٹ‘‘ دلوانے کے لئے ایک قطری شہزادے کی جانب سے لکھے خط کی بہت اہمیت ہے۔ فی الوقت نواز شریف کے لئے نظر آنے والے ’’ہنگامی حالات‘‘ میں اس خط کی اہمیت سعودی عرب کے ’’ماضی کے احسانوں‘‘ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ میاں محمد بخش والے ’’جان پھنسی شکنجے اندر‘‘والا معاملہ ہوگیا ہے۔
میری ناقص رائے میں البتہ سعودی عرب یا قطر میں سے کسی ایک کا انتخاب وزیر اعظم کے بس کی بات ہی نہیں۔ خواہ یہ وزیر اعظم نواز شریف ہو یا کوئی اور۔ یہ انتخاب صرف اور صرف ہماری ریاست کا ایک طاقت ور دائمی ادارہ کرے گا اور فیصلہ تقریباََ ہوچکا ہے۔ ہمارے ایک سابق آرمی چیف ہم سے مسلسل Thank Youوصول کرنے کے بعد ان دنوں سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ریاض نے جو ’’اسلامی فوجی اتحاد‘‘ بنانا ہے،اس کی قیادت انہیں سونپنے کا وعدہ ہوچکا ہے۔
حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ جب سعوودی عرب میں جمع ہوئے مسلم ممالک کے سربراہوں کو ’’اسلام سمجھانے‘‘ اور ’’دہشت گردی سے نبردآزما‘‘ ہونے کے طریقے بتانے کے لئے تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے ’’مسلم اُمہ کی واحد ایٹمی قوت‘‘ کے وزیر اعظم سے اکیلے میں ملاقات کے لئے کوئی وقت نہیں نکالا تھا۔ مصر کے فوجی آمر سے البتہ ان کی محبت بڑی گرم جوش نظر آئی۔ اس ’’محبت‘‘ میں پاکستان کے لئے ایک واضح پیغام بھی تھا۔
ریاض میں ہوئی کانفرنس کے دوران ایک اور تصویر بھی منظرِ عام پر آئی تھی۔ اس تصویر میں کھانے کی ایک میز پر جنرل راحیل شریف، ٹرمپ کے داماد اور سعودی عرب کے شاہ کے سب سے زیادہ پسندیدہ بیٹے کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ تینوں باہم مل کر تمام خلیجی ممالک کے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔ پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کا اس پورے عمل میں کوئی کردار نہیں ہے۔ پانامہ کی وجہ سے قبل ازوقت انتخابات ہوبھی گئے تو نیا وزیر اعظم ،خواہ وہ عمران خان ہی کیوں نہ ہو،اس پورے معاملے سے نواز شریف ہی کی طرح غیر اہم اور غیر متعلق رہے گا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button