سیکس جیسی سیاست

سیکس جیسی سیاست اور عشق جیسا انقلاب
‘I’m not a woman, I don’t have bad days’: Putin
اعجاز منگی

آج ماسکو کا آسمان اداس ہے
آج اس کی دھرتی پر
کوئی لینن نہیں بستا!
وہ منگول آنکھوں والا مرد
اس عورت کو نہیں تکتا!
جو پارٹی میٹنگ میں
لپ اسٹک لگا کر نہیں آتی تھی
مگر وہ حسین تھی
اس شہر کی سفید راتوں کی طرح
جو آتی تھیں
چھاتی تھیں
چلی جاتی تھیں!
اب ماسکو کے بدبخت تخت پر
وہ اسٹالن بھی نہیں
جو ایک دہشت تھا
جو ایک وحشت تھا!
اب وہاں کوئی خروشیف
خوف سے نہیں جاگتا
اب وہاں کوئی برزنیف
اپنا سگارنہیں سلگاتا!
اور اب وہاں کوئی دوستو وسکی
درد کی بانہوں میں نہیں سوتا!
اب وہاں کوئی شولوخوف
ڈان کی لہروں میں
اپنے آپ کو نہیں کھوتا!
اب وہاں کوئی ترگنیف
دل کی دھرتی میں
بارہ بیج نہیں بوتا!
اب وہاں غم میں گم ڈوبا ہوا گورباچوف
اورایک جم میں جھولتا ہوا پیوٹن ہے
جوکہتا ہے:
’’میں عورت نہیں کہ مجھ پر
برے دن آئیں!!‘‘
ہاں! وہ یہ بکواس کر سکتا ہے
کیوں کہ اس کے سامنے
میگین کیلی تھی
وہ اوریانا فلاچی نہیں تھی
جو اس انٹریو کا عنوان لکھتی
’’برے دن بہت اچھے ہوتے ہیں‘‘
اور وہ یہ بھی لکھتی:
’’وہ دن
جب عورت
ماں بننے سے انکار کرتی ہے
وہ دن
جب عورت اس دنیا میں
اپنا لخت جگر لانا نہیں چاہتی
وہ دن
جب عورت محبت سے سیکس کی مٹھاس
ہٹا دیتی ہے!
وہ دن
جن کا تذکرہ کرتے ہوئے
پاکستان کی پہلی فیمینسٹ شاعرہ
فہمیدہ ریاض نے لکھا تھا:
’’کب تک مجھ سے پیار کروگے
کب تک؟
جب تک میرے رحم سے
بچے کی تخلیق کا خون بہے گا
جب تک میرا رنگ ہے تازہ
جب تک میرا انگ تنا ہے!
اس سے بھی آگے تو کچھ ہے
انجانے کا شوق بڑا ہے
لیکن میرے ساتھ
تم نہ رہو گے تب تک
کب تک مجھ سے پیار کرو گے
کب تک!!!؟
مگر ماسکو کی تخت پر بیٹھا ہوا
وہ احمق شخص
اس حقیقت سے آشنا نہیں
جس حقیقت کے بارے میں
شام کے شاعرنذار قابانی کو لکھنا تھا:
تم مجھ سے پیریڈس کے پردے میں ملو
تم جو عورت ہو
تم جو انقلاب ہو
تم جو خواب ہو!
مجھ سے اس موسم میں ملو
جب بالوں کا بادل جھک جاتا ہے
اور محبت جسم سے ماورا بن جاتی ہے!!‘‘
مگریہ سیکس جیسی اقتداری سیاست
عشق کی انقلابی باتیں
نہیں سمجھ سکتی!!!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button