برطانیہ میں حکومت کس کی

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بکنگھم پیلس میں ملکہِ برطانیہ سے ملاقات کی ہے  اور حکومت سازی کی اجازت مانگیں گی۔ وزیراعظم ٹریزا مے کو امید ہے کہ انھیں ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (ڈی یو پی) کی حمایت بھی حاصل ہو جائے گی۔ کنزرویٹیو پارٹی کو دارالعوام میں 326 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے مزید آٹھ نشستیں درکار ہیں۔ دوسری جانب لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے ٹریزا مے سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ لیبر’فرض نبھانے کے لیے تیار ہے۔’

کنزرویٹیو جماعت کو 319 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ لیبر پارٹی کو 261، سکاٹش نیشنل پارٹی کو 35 اور لبرل ڈیموکریٹس کو 12 اور ڈی یو پی کو 10 نشستیں ملی ہیں۔

کنزرویٹیو اور ڈی یو پی کے اتحاد سے ان کی کل دارالعوام میں کل نشستیں 329 ہو سکتی ہیں۔

ٹزیرا مے نے وزیراعظم کا عہدہ نہ چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کو ‘استحکام’ کی ضرورت ہے جبکہ دس روز بعد بریگزٹ کے حوالے سے مذاکرات کا آغاز ہونے والا ہے۔

ادھر لیبر پارٹی نے انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ میں 29 اضافی نشستیں جیتنے کے بعد کہا ہے کہ وہ اقلیتی حکومت بنانے کے لیے تیار ہیں۔

لیکن اگر وہ ایس این پی، لبرل ڈیموکریٹس، گرین پارٹی اور پلائیڈ کیمری کے اتحاد میں شامل بھی ہو جاتی ہے تو ان کی کل نشستوں کی تعداد 313 بنتی ہے جو مطلوبہ اکثریت 326 سے کم بنتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے