چینل مالکان اور صحافی

 احساس/اے وحید مراد

مسئلہ کسی کی ذات کا ہوتا توبات نہ تھی، معاملہ مگر صحافتی اصولوں اور اخلاقیات کا ہے۔ ہرپڑھنے اور سننے والاعامی، کسی بھی صحافی سے سچ اور درست معلومات کی فراہمی کا متمنی ہوتا ہے، مگراب صحافی صرف خبر ہی نہیں دیتے بلکہ تجزیہ بھی کرتے ہیں، اور جب سے پاکستان میں ٹی وی صحافت کی وبا عام ہوئی ہے اینکر نامی مخلوق بھی صحافی بن گئی ہے، یہ اینکرز مگر صرف صحافی ہی نہیں بنے بلکہ قوم کے مصلح اور ‘لیڈروں’ کا روپ بھی دھار چکے ہیں۔ یہ اینکرز جب دوسروں کااحتساب کرتے اور اپنی پاکئی داماں کی حکایت کوبڑھاتے ہیں توپھر یارلوگ ان کے دامن اور بند قبا کی جانب اشارے کرنا شروع کردیتے ہیں،ایسے اشارے لیکن آزادی اظہار کے ان ‘علمبرداروں’ کو ایک آنکھ نہیں بھاتے اور یہ اس کو اپنی ‘بے داغ صحافت’ پر حملہ قراردیتے ہیں۔ 2006 میں پنجاب اسمبلی نے ایک قانون بنایا جس کے تحت صوبے کے تین بڑے شہروں لاہور، ملتان اور راول پنڈی میں صحافیوں کوسرکاری زمین سے پلاٹ دے کر رہائشی کالونیاں کھڑی کی گئیں۔ صرف راول پنڈی اور اسلام آباد میں سولہ سو کے لگ بھگ صحافی اس اسکیم سے مستفید ہوئے (ان میں کچھ غیرصحافی عناصر بھی شامل تھے جو صحافی لیڈروں کی وجہ سے اصل حق داروں کے پلاٹ لے اڑے)۔اہلیت کے مطابق مجھے بھی پلاٹ ملا۔ مگر کیا ا ب اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والا کوئی ایک صحافی ‘کرپٹ’ قرار پائے گا؟ یا راول پنڈی/اسلام آباد، لاہور اور ملتان کے تین ہزار سے زائد اخبارنویس سرکاری پلاٹ لینے والے قرارپائیں گے؟۔ یہ کالونیاں چونکہ ایک قانون کے تحت بنی ہیں اور اس وقت پریس کلب کے ساتھ رجسٹرڈ تمام صحافیوں کو پلاٹ ملے تھے اس لیے کوئی ایک صحافی کسی دوسرے کو اس اسکیم سے مستفید ہونے پر طعنہ نہیں دے سکتا۔ یہی اصول ان اخباری مالکان پر بھی لاگو ہوگا جنہوں نے سابق فوجی حکومتوں سے اپنے اداروں کیلئے پلاٹ لیے اور عمارتیں بنائیں۔ اس ملک میں صحافتی ادارے تو ویسے بھی تین ہی ہیں۔ جنگ گروپ، نوائے وقت اور ڈان نے صحافت کیلئے ادارے بنائے تھے۔ بعد میں آنے والے تو سارے اپنے اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کیلئے ‘میڈیا انڈسٹری’ کو ‘رونق’ بخشنے پر مجبور ہوئے۔ خود کو سرائیکی خطے کے حقوق کا علمبردار سمجھنے والے ہمارے پیارے صحافی اور اینکر رئوف کلاسرا مگر اس حقیقت کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔ ممکن ہے کلاسرا صاحب کے دامن نچوڑنے پر فرشتے وضوکرتے ہوں اسی لیے انہوں نے ڈان اخبار کے مالک خاندان کی طرف اپنی توپوں کارخ کیا۔سوال مگر یہ ہے کہ کیا جس وقت رئوف کلاسرا ڈان میں کام کرتے تھے اس وقت اخبار کے مالکان صاف ستھرے تھے؟۔ کیاجس وقت کلاسرا صاحب نے ڈان کو چھوڑ کر جنگ گروپ کے انگریزی اخبار کا رخ کیا تھا اس وقت میر شکیل اپنے اخبارات کے ذریعے صرف صحافت کرتے تھے، اور اپنی گزربسر کیلئے لال مسجد کے سامنے تسبیح،ٹوپی اور مسواک کا اسٹال لگاتے تھے؟۔ ڈان ٹی وی کے صحافیوں کو کلاسرا صاحب نے اپنے انٹرویو کیلئے چیلنج کیا ہے۔ ایک انگریزی اصطلاح ‘کانفلیکٹ آف انٹرسٹ’ بہت عام استعمال ہوتی ہے۔ اس اصول کے تحت کیا کوئی صحافی غیر جانبدار ہوکر اپنے اخبار/چینل کے مالک کے بارے میں پروگرام کرسکتاہے؟۔ ایسا ممکن نہیں۔ کیونکہ وہ صحافی اسی ادارے کا کارکن ہے اور بہت بھی غیرجانبدارہوجائے تب بھی اس کے’سوالوں’ پر سوال اٹھیں گے۔ روزنامہ دنیا جس میں کلاسرا صاحب لاکھوں روپے کے عوض کالم لکھتے ہیں، اس اخبار کا نام اصل مالک سے کیسے ‘خریدا’ گیاتھا؟۔کیا کلاسرا صاحب سمیت اس اخبار میں کام کرنے والا کوئی صحافی اس بارے میں لکھ  سکتا ہے؟۔پرویزمشرف حکومت نے دوہزار دو میں قانون بنایا تھا کہ ایک اخبار کا نام اگر کسی ایک شہر سے ایک شخص کے نام پر ہے تو پورے ملک میں وہی شخص اس نام کا مالک ہوگا۔ہمیں کون بتائے گا کہ پرویزمشرف کے سابق دوست ولاہور کے سابق ضلع ناظم میاں عامر ملک میں تعلیم فروشی کا سب سے بڑا بزنس بنانے کے بعد جب خبریں بیچنے کے کاروبارمیں آئے تو دوہزارتیرہ/چودہ میں روزنامہ دنیا لاہور سے شروع کرنے اور اصل مالک سے نام ‘خریدنے’کیلئے کون سے ‘قانونی’ ہتھکنڈے استعمال کیے۔ مگر کیا صرف ڈان، جنگ اور دنیا میڈیا گروپ کے مالکان ہی ایسے ہیں؟۔ رئوف کلاسرا سمیت بہت سے بڑے ناموں والے صحافی واینکرزآج کل جس گھی کارخانے والے شخص کے ٹی وی چینل پر بیٹھ کر قوم کی رہنمائی کرتے ہیں کیا اس کے بارے میں کوئی خبر اپنے ادارے میں چلاسکتے ہیں؟۔ اس چینل کے مالک کے بھائی نے چند برس قبل فیصل آباد کی ایک لڑکی کوملازمت کے انٹرویو کیلئے میریٹ اسلام آباد بلایا، اور پھروہاں اس کا گینگ ریپ ہوگیا۔اس یتیم لڑکی نے گھروالوں کو پیغام بھیجا تورشتہ داروں کے ذریعے اطلاع ملنے پر تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی بار پانچ ستارہ ہوٹل پر چھاپہ مار کرملزمان کو گرفتار اور لڑکی کو بازیاب کیا۔ کیا کلاسرا صاحب اور اس میڈیا گروپ میں کام کرنے والے دوسرے بڑے صحافی ہمیں بتا سکتے ہیں کہ اس کیس میں تفتیشی افسرکے ساتھ کیا ہوا تھا؟۔ تفتیشی کو تبدیل کرکے مقدمے کو کیسے ملزمان کے حق میں موڑکر بریت حاصل کی گئی۔ کیا اس ایف آئی آرمیں چینل مالک بھی نامزد ملزم نہ تھے؟ کیا اپنے مالکان سے پوچھ کربتائیں گے کہ گینگ ریپ کاشکار یتیم بچی کی والدہ کو کتنی رقم دے کر’صلح’ کی گئی؟۔کیا کلاسرا صاحب گھی والے چینل کے مالک اور اس کے بھائی کو اپنے پروگرام میں بٹھاکر ‘گھڑے مردے’ اکھاڑ سکتے ہیں؟۔نہیں، اس لیے کہ یہ’کانفلیکٹ آف انٹرسٹ’ ہوتا ہے۔ اگر کلاسرا صاحب ایسا انٹرویو کریں گے تب بھی لوگ کہیں گے کہ مالکان کو ‘ڈرائی کلین’ کرنے کیلئے ‘فکس’ سوال کیے گئے۔ یہی وہ اصول ہے جس کے تحت کلاسرا صاحب کا اپنے مخالفین کو انٹرویو کا چیلنج قبول نہیں کیاجانا چاہیے۔ رئوف کلاسرا نے اپنی ذاتی وضاحت کیلئے اخبارکا صفحہ بھی مزید سیاہ کیا ہے۔اس وضاحتی کالم کے آخرانہوں نے ڈان نیوز کے پروگرام میں اپنے انٹرویو کا ذکر کیا ہے، اوریہ بھی لکھا ہے کہ اس پروگرام کے بعد اینکر کوبرطرف کردیا گیا تھا۔وہ اینکر مطیع اللہ جان تھے۔ کیا کلاسرا صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے مطیع اللہ جان کو ڈان نیوز سے برطرف کرایا تھا؟۔کلاسرا صاحب نے اس ‘براہ راست پروگرام’ کے بعد اپنے دوست (اس وقت کے ڈان نیوز کے بیورچیف) کے ساتھ مل کر نیوزروم میں جو ہنگامہ کیا تھا اس کا ذکر اپنے کالم میں نہیں کیا۔( اس پروگرام کی پروڈیوسرخاتون اور ڈان کے نیوز روم میں موجود افراد اس جھگڑے کے چشم دید گواہ ہیں)۔ سوال یہ ہے کہ پروگرام میں اگر کلاسرا صاحب نے اپنا’زبردست’ دفاع کرلیا تھا تو نیوزروم میں اینکر کے ساتھ جھگڑا کیوں کیا؟۔اگر اس وقت جواب دے دیا تھا تو آج اسی جواب کی ویڈیو مبشرزیدی کی جانب سے ٹویٹ کرنے پر سیخ پا کیوں ہیں؟۔اگر معاملہ اسی وقت ختم ہوگیا تھا تو آج دوبارہ چیلنج کیوں کررہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سنہ دوہزار گیارہ کے اس پروگرام کے ذریعے پڑنے والے مکے کے چھ برس بعد ان کو جوابی مکا یاد آیا ہے؟۔کہتے ہیں کہ لڑائی کے بعد یاد آنے والے مکے کی بہترین جگہ اپنا ہی منہ ہوتا ہے۔کیا ہم ایازامیر سے یہ توقع رکھیں کہ دوہزارتیرہ میں چکوال سے قومی اسمبلی کی نشست کیلئے ن لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے کے بعد وہ موجودہ حکومت کے بارے میں غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں گے؟۔کیا کسی پاکستانی میں اتنی وسعت ظرفی ہے کہ وہ اپنے ماضی کی تلخیوں کی وجہ سے تعصب کاشکار نہ ہو؟۔(یہ کالم کسی اخبار میں شائع نہیں ہوسکتا کیونکہ ابھی صحافت اتنی بھی آزاد نہیں ہوئی، سارے اخباری مالک سرمایہ دار ہیں اور صحافت نہیں کاروبار کررہے ہیں)۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے