پارا چنار میں دہشت گردی

پارا چنار کے مرکزی بازار میں جمعتہ المبارک کے روز بڑے چاﺅ اور اشتیاق سے عیدالفطر کے لئے خریداری کرنے والوں کو جس درندگی سے یکے بعد دیگرے دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا وہ ہر صورت قابلِ مذمت ہے۔ کوئی پتھر دل ہی اس سانحے کو نظرانداز کرسکتا ہے۔
تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ پارا چنار میں یہ دہشت گردی کی پہلی واردات نہیں تھی۔ افغانستان کو بذریعہ ”جہاد“ روسی کمیونسٹوں سے ”آزاد“ کروانے کے بعد پاکستان کے لئے اس ملک میں Strategic Depthsجس کا ترجمہ ”تزویراتی گہرائی“ کیا جاتا ہے، چند مردانِ جہاد کو پارا چنار میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بھی ہماری ریاست کے لئے ہر صورت ضروری تھا۔ مقامی اور غیر مقامی والا سوال اگرچہ ”تزویراتی“ مجبوریوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ خود مجھے بھی ابھی تک ”تزویراتی“ والی اصطلاح کی سمجھ ہی نہیں آئی ہے۔ پتہ مجھے "Strategic”کے بارے میں بھی ککھ نہیں ۔ بہرحال ”تزویراتی“ یا”Strategic”کوئی شے ہوتی ہے جسے فکرِ روزگار میں مبتلا عامیوں کے لئے سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ قومی دفاع یا فروغِ اسلام کے جہاد میں مصروف ادارے یا افراد ہی اس اصطلاح کی مناسب تشریح اور تعبیر کرسکتے ہیں۔
تعبیر جو بھی رہی ہو،بہت ہی تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ پارا چنار میں سوال اب محض مقامی یا غیر مقامی کا نہیں رہا۔ افغانستان کے تناظر میں تقسیم شدید حد تک مسلکی بنیادوں پر ہوچکی ہے اور متحارب فریقین کے مقامی ہی نہیں غیر ملکی سرپرست بھی ہیں۔ ان سرپرستوں نے 80کی دہائی سے پارا چنار کے سماجی توازن اور رویوں کو مسلسل نشانہ بناتے ہوئے وہاں کے باسیوں کو ”ہم یا تم“ میں تقسیم کردیا ہے۔ ”ہم یا تم“ والی اس تقسیم کے خاتمے کے لئے ریاست کو سب سے پہلے خود کو جھنجھوڑتے ہوئے یہ بتانا ہوگا کہ پارا چنار کے باسی بھی پاکستان کے ”شہری“ ہیں۔ ان کے چند حقوق ہیں۔ جن میں سے سب سے بنیادی حق زندگی کا تحفظ ہے۔
پارا چنار مگر ”وفاق کے زیر انتظام“ ایک ”قبائلی علاقہ“ ہے۔ وہاں پیدا ہوکر وہیں محصور ومقید ہوجانے والوں کے کوئی بنیادی حقوق نہیں۔ ایک زمانے میں کوئی PAیعنی Political Agentیا Administrativeہوا کرتا تھا۔ اس نام کا افسر شاید اب بھی وہاں کا اصل حاکم سمجھا جاتا ہے۔ افغان جہاد کی برکتوں سے مگر اب روایتی انتظامی ڈھانچہ تباہ وبرباد ہوچکا ہے۔ اس کی جگہ کوئی نیا نظام کار ہرگز متعارف نہیں ہوا۔ویسے بھی یہ دور اب آپریشن ضربِ عضب کی شاندار کامیابیوں کے بعد ”ردالفساد“ کا دور ہے۔ اس آپریشن سے کامیابی کے ساتھ نبردآزما ہونے کے بعد ہی کسی نئے انتظامی ڈھانچے کی بابت سوچا جاسکتا ہے۔
ہمارے چند نیک طینت لوگوں کو مگر یہ بنیادی حقائق سمجھ نہیں آرہے۔ جمعتہ الوداع کی شام سے اپنے سمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ کے ذریعے پارا چنار کے بدنصیب رہائشیوں کے ساتھ ہوئی سفاکانہ درندگی کے بارے ماتم کئے چلے جارہے ہیں۔
ان نیک طینت لوگوں کو سب سے زیادہ شکایت پاکستان کے ”بے حس“ میڈیا سے ہے۔ انہیں گلہ ہے کہ پارا چنار کے حقائق ہمارا ”آزاد“ اور ”مستعد“میڈیا لوگوں کے سامنے لانے میں ناکام رہا ہے۔ان نیک طینت لوگوں کو نجانے کب سمجھ آئے گی کہ میڈیا لوگوں کی دُعاﺅں اور نیک تمناﺅں سے اپنا کاروبارہرگز نہیں چلاسکتا۔ اگر میرے اخبار کو اشتہار نہ ملیں تو اسے چھاپنا قطعاََ گھاٹے کا سودا ہے۔ نفع اور نقصان کی پرواہ کئے بغیر میرا اخبار صرف وہ کچھ چھاپتا رہے جو نیک طینت لوگ پڑھنا چاہتے ہیں تو تیل کے کسی کنوئیں سے اضافی آمدنی کے بغیر اس کے سٹاف کو تنخواہیں دینا ناممکن ہوجائے گا۔ مجھ ایسے نام نہاد ”صاحبِ اسلوب“ کہلاتے، اپنی تصویر کے ساتھ چھپے کالم کی وجہ سے مشہور ہوئے لکھاریوں کو ان حالا ت میں کسی اور اخبار کا مالک ”کم از کم دُگنی تنخواہ“ وغیرہ کے ساتھ بڑے اشتیاق سے اپنے لئے لکھنے کی دعوت دے ڈالے گا۔ میں چند روز تک ہچکچانے کے بعد کچھ دنوں تک احساسِ جرم میں مبتلا ہوا اس اخبار کے لئے لکھنا شروع کردوں گا کیونکہ گھر بھی چلانا ہے۔ بجلی کا بل ادا کرنا ہوتا ہے۔ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانی ہے۔ ATMاستعمال کرنا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔
مسلسل نقصان برداشت کرتے ہوئے حق گوئی پر بضد کوئی اخبار جب بند ہوجائے تو اصل نقصان ان غریبوں کا ہوتا ہے جو ہم صحافیوں کے لئے دفتر میں چائے بناتے ہیں۔یونیفارم پہن کر بندوق پکڑے ہمیں ان لوگوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو دفتروں میں گھس کر اپنی پسند کی خبر کو نمایاں مقام پر چھپوانا چاہتے ہیں۔ پریس میں کام کرنے والے بے تحاشہ مزدور،اخبار کے بنڈل تیار کرنے اور انہیں ڈیلیوری وین میں لادنے والے کارکن۔ میرا کالم کمپوز کرکے اسے پریس میں بھیجے جانے والی کاپی پر لگانے والے مشقتی اور وہ کئی گم نام لوگ جو میری زبان کی درستگی اور اسے قابلِ اشاعت بنانے کے غم میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ سب بے روزگار ہوجائیں تو مہینوں تک ان کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا۔ میرے نیک طینت دوستوں کو مگر ان ممکنہ بے روزگاروں کی تعداد کا اندازہ تک نہیں۔ ان کی مشکلات کا تدارک تو بہت دور کی بات ہے۔
میڈیا کو اپنے سمارٹ فونز کے ذریعے ٹویٹر کی یک سطری زبان میں مسلسل نشانے پر رکھنا مگر اب خود کو راست باز ثابت کرنے کے لئے ضروری ہوگیا ہے۔ مجھ ایسے ڈھیٹ لوگوں کو ایسے طعنے سہنے کی عادت بھی ہوگئی ہے۔ یہ سوال مگر اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کیا ہمارے میڈیا کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ پارا چنار جیسے مقامات پر کئی برسوں سے نازل وحشت کو اس کے تمام تر پہلوﺅں سمیت کماحقہ بیان کرسکے۔ میرا جواب چیختے ہوئے ”نہیں“ میں ہے۔
کسی بھی مقام پر ہوئے واقعات کی سچی رپورٹنگ کے لئے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ کوئی رپورٹر اس مقام پر بذاتِ خود موجود ہو۔ ہمارے ملک میں 2002کے بعد جب میڈیا کو فروغ ملا تو قبائلی علاقوں سے بھی کئی بہت محنتی، ذہین اور دیانت دار صحافی ہمارے پیشے میں آئے۔ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر انہوں نے اپنے ہاں کے حقائق کی ذرا سی جھلک دکھائی تو صرف دہشت گرد ہی نہیں ریاستی اشرافیہ بھی مشتعل ہوگئی۔ قبائلی علاقوں سے ابھرے صحافیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر پشاور میں پناہ لینا پڑی۔ چند ایک اسلام آباد یا کراچی منتقل ہوگئے۔ سکون یہاں بھی میسر نہیں ہوا۔ اب ان میں سے ذہین ترین صحافیوں کی ایک معقول تعداد وطن چھوڑ کر امریکہ یا دیگر یورپی ممالک جاچکی ہے۔ وہ غیر ملکی نشریاتی اداروں کے لئے پشتو زبان میں پروگرام کرتے ہیں۔ جنہیں یہ مواقع نہیں ملے صحافت چھوڑ کر بندے کے پُتروں کی طرح کسی اور کام کے ذریعے اپنی روزمرہّ زندگی کے بکھیڑوں میں مصروف ہیں۔
مجھے سو فیصد یقین ہے کہ پارا چنار کے حوالے سے اپنے ٹویٹر اکاﺅٹنس کے ذریعے میڈیا کو جمعتہ الوداع کے روز سے دشنام طرازی کا نشانہ بنائے ہوئے نیک طینت لوگوں کو کم از کم سو کے قریب ان افراد کے نام تک معلوم نہیں جنہوں نے اس صدی کے آغاز ہی میں میڈیا کی ”آزادی“ اور ”مستعدی“ کو حقیقی جان کر قبائلی علاقوں کے بارے میں حقائق اجاگر کرنے کا روگ پالا تھا۔ کئی جانیں ضائع کروانے کے بعد ان کی اکثریت کا پنجابی والا ”چاء لتھ“ چکا ہے۔ کانوں کو ہاتھ لگالئے گئے ہیں۔
ٹویٹر اکاﺅنٹس کے ذریعے پارا چنار کی فکر میں مبتلا نیک طینت لوگوں کو گلہ یہ بھی رہا کہ لاہور سے آیا ”پنجابی“ وزیر اعظم احمد پور شرقیہ میں ہوئے حادثے کی خبر سن کر لندن میں اپنا قیام مختصر کرکے جائے حادثہ پہنچ گیا مگر پارا چنار نہیں گیا۔ گلہ بالکل مناسب اور جائز۔ یہ سوال مگر پھر بھی اپنی جگہ موجود کہ Whatsappکی سہولت سے بنی JITکے سامنے ہر روز اپنے خاندان سمیت رسوا وذلیل ہوتا نواز شریف جس پر اس ملک کے آئینی طورپر ”چیف ایگزیکٹو“ ہونے کی تہمت بھی لگائی جاتی ہے،پارا چنار کے بے بسوں کے غم کا مداوا کیسے کرسکتا ہے۔
اسی باعث تو میں فریاد کرتا رہا کہ نواز شریف کو وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہتے ہوئے گریڈ 18سے 20تک کے ریاستی افسران پر مشتمل کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیے تھا۔ نواز شریف صاحب تک میری فریاد مگر پہنچ نہیں پائی۔ پہنچ بھی جاتی تو ہم کہاں کے دانا تھے کہ وہ اس فریاد پر توجہ دیتے۔ اب یقینا سوجوتے بھی ہوں گے اور سوپیاز بھی۔
آرمی چیف جنرل باجوہ صاحب تک پارا چنار کے بارے میں مضطرب ہوئے نیک طینت افراد کی فریاد دریں اثناءپہنچ چکی ہے۔ پارا چنار کے بے بسوں کے لئے محترم مانے علمائے کرام سے رابطے بھی استوار ہوگئے ہیں۔ یہ علماءاب پارا چنارمیں ”مسلکی ہم آہنگی“ اور ”قومی وحدت“ کو یقینی بنانے کے لئے دن رات ایک کردیں گے۔ میرجن کے سبب بیمار ہوئے تھے ان ہی ”عطاروں“ سے اب شاید شفاءبھی نصیب ہوجائے گی۔ ہمارے اقبال خوش نصیب تھے۔ ان کے دور میں ٹویٹر ایجاد نہیں ہوا تھا وگرنہ ”….فی سبیل اللہ فساد“ والا مصرعہ نہ لکھ پاتے۔ نیک طینت لوگوں نے پارا چنار پر ماتم کنائی کے ذریعے ”دین مُلا“ کو خوب توانائی بخشی ہے۔ اچھا ہوا کہ ہمارے ”لالچی“ اور ”بے حس“ میڈیا نے اس ”نیک کام“ میں اپنا حصہ نہیں ڈالا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین