ملک کی ”دائمی اشرافیہ“

اندھی نفرتوں اور عقیدتوں میں بٹے ہم جیسے معاشروں کی اشرافیہ اقتدار کا کھیل کھیلتے ہوئے سفاکانہ حد تک متعصب ہوجاتی ہے۔ اس کا ذہن اس قابل ہی نہیں رہتاکہ مجھ ایسے دو ٹکے کے صحافیوں کی جانب سے بے ساختہ کئے تجزیے کو بھی انگریزی زبان والے "As It Is”کی صورت ہضم نہ سہی تو کم از کم نظرانداز کرسکے۔
پانامہ دستاویزات کے منکشف ہونے کے بعد سے تواتر کے ساتھ میں اس بات پر اصرار کئے چلاجارہا ہوں کہ ان دستاویزات میں آئے تمام پاکستانیوں کو -جن کی تعداد 400کے قریب ہے-صاف اور شفاف نظر آنے والے احتسابی عمل سے گزارا جائے۔
”آف شور کمپنی“ بنانا بذاتہی کوئی جرم نہیں ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ دار اپنے منافع پر ٹیکس دینے سے خارکھاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ کئی صدیوں کی جدوجہد کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک نے مگر ایسا نظام بالآخر دریافت،نافذ اور مستحکم کرہی دیا جو اپنے مالدار شہریوں کو منافع کی رقم چھپانے کے قابل نہیں چھوڑتا۔ اپنی حکومتوں کو ٹیکس کی ادائیگی کے بعد بھی لیکن کاروباری افراد نے جو بھاری رقوم منافع کی صورت جمع کی ہوتی ہیں انہیں مزید سرمایہ کاری کے لئے ”آف شور کمپنیوں“ کو متعارف کروایا گیا۔ ورجن لینڈاور پانامہ جیسے ممالک میں وہاں کی ریاست کی بھرپور معاونت سے ایسی کمپنیاں قائم کرنے کی ریت چلی جو قانونی، جی ہاں قانونی طورپر ٹیکس وغیرہ ادا کرنے کی پابند نہیں تھیں۔
"Tax Havens”کہلاتے ان ممالک میں قائم ہوئی کمپنیوں نے برطانیہ جیسے ممالک میں قیمتی جائیدادیں خریدنے کے لئے جو سرمایہ کاری کی وہ Tax Avoidanceمیں بہت مدد گار ثابت ہوئیں۔
اپنے ذمہ ٹیکس ادا نہ کرنا جرم ہے۔ اس ٹیکس کو لیکن بظاہر قانونی طریقے سے Avoidکرنا ”ہنر“ کہلاتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد یورپی ممالک کی معیشت کے احیاءکے لئے یہ ”ہنر“ وہاں کے کلاکار بینکاروں کے ذریعے خوب پھیلاگیا۔ اسی ”ہنر“ کو مگر جب منشیات کے ذریعے کمائی بے تحاشہ دولت کو Whiteکرنے کے لئے استعمال کیا گیا تو یورپ اور امریکہ کی حکومتیں چوکنی ہوگئیں۔ نائن الیون کے بعد سے بینکوں پر کڑی نگاہ رکھنا مزید ضروری ہوگیا۔
پاکستان بہت حوالوں سے مگر ایک کمزور ریاست ہے۔ یہاں کی انتظامیہ نااہل ہی نہیں شدید حد تک بدعنوان بھی ہے۔ وہ ایمان داری سے ٹیکس ادا کرنے کو تیار کاروباری افراد کا جینا بھی دوبھر کردیتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام بھی ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کی مسلسل حوصلہ شکنی کرتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں صاف ستھرا کاروبار کرنے والے کئی نیک طینت لوگ بھی اپنے جمع شدہ سرمایے کو کسی نہ کسی صورت غیر ممالک منتقل کرنے کے بعد وہاں سرمایہ کاری پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
محض انتقام وحسد پر مبنی جذبات کے بجائے پاکستان میں ٹیکس کے نظام کو جدید اور مو¿ثر بنانے کی خاطر معاشی ماہرین کی بھرپور معاونت سے احتساب کا ایک ایسا نظام ہر صورت وضع کیا جاسکتا تھا جس کے ذریعے پانامہ دستاویزات کی بدولت منکشف ہوئے تمام ناموں کو چند بنیادی سوالات کا جواب فراہم کرنا ضروری بنادیا جاتا۔ بدنیتی یا غلط طریقوں سے غیر ممالک منتقل ہوئی رقوم Regulateکرنے کے لئے One Time Waiverکی راہ بھی نکالی جاسکتی تھی۔ اس صورت میں مناسب مگر ٹوکن ”جرمانے“ وغیرہ کی ادائیگی کے بعد پاکستان میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی بھی کی جاسکتی تھی۔
اندھی نفرتوں اور عقیدتوں میں بٹے پاکستان میں لیکن ایسا ہو نہیں پایا ہے۔ شریف خاندان چونکہ 1980ءکی دہائی سے سیاسی اعتبار سے بھی بہت طاقت ور بن چکا ہے۔پانامہ دستاویزات میں آئے تمام ناموں سے الگ کرکے کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا۔
ذرا کھلے دل سے سوچیں تو شاید پانامہ کے حوالے سے محض شریف خاندان پر تمام تر فوکس بھی خیر کی خبر ہوسکتی تھی اگر اس کا حقیقی مقصد اس خاندان سے ابتداءکرنے کے بعد پانامہ دستاویزات میں آئے باقی تمام نامو ں کی چھان پھٹک بھی نظر آتا۔ بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں پایا۔ معاملات بلکہ اس نہج پر آ پہنچے ہیں جہاں پانامہ کے حوالے سے برپا شورکا واحد وحتمی مقصد اس خاندان کو ”عبرت کا نشان“ بنانے تک محدود ہوگیا ہے۔
غیر جانبدارانہ تجزیے کے ذریعے کوئی صحافی جب اس پہلو کی جانب توجہ دلائے تو اسے ”لفافہ“ پکار کر خوف سے کسی کونے میں دبک کر بیٹھنے کو مجبور کیا جاتا ہے۔ ”احتساب“ ہی کے نام پر اس ملک کی ”دائمی اشرافیہ“ نے ہمیں کئی شاندار سیاست دانوں سے محروم کیا ہے۔ سیاست دانوں کو ”احتساب“ کے نام پر جھٹکا دینے والا یہ عمل قیامِ پاکستان کے چند ہی ماہ بعد شروع ہوگیا تھا۔ سندھ کے ایک وزیر اعلیٰ ایوب کھوڑواس کی پہلی مثال بنے۔
فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی ”احتساب“ وغیرہ کے نام پر ایبڈوکا قانون نافذ کیا تھا۔ حسین شہید سہروردی جیسا زیرک سیاست دان اس کا شکار ہوا۔ خاندانی حوالوں سے بہت ہی اشراف اور پیشہ وارانہ اعتبار سے انتہائی کامیاب وکیل،سہروردی نے اپنے خلاف لگائے کرپشن کے الزامات کا ڈٹ کر دفاع کیا۔ پاکستان کو چین کے ساتھ دوستی کی راہ پر لگانے والے اس شاندار انسان کو جو مشرقی اور مغربی پاکستان کو اکٹھا رکھنے کے لئے ہر ممکن سمجھوتے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا تھا،”عبرت کا نشان“ بنادیا گیا تو اس کی جگہ شیخ مجیب الرحمن جیسے انتہا پسندوں نے لی۔
ذوالفقار علی بھٹو کو بھی ”قاتل“ ٹھہراکر تارا مسیح کے ہاتھوں پھانسی پر لٹکادیا گیا تھا۔ آج بھی وہ مگر لوگوں کے دل میں زندہ ہے۔ اس کی بنائی جماعت کم از کم سندھ میں اب تک حکمران ہے اور آئندہ انتخابات میں بھی اس سے سندھ ”چھیننا“ ممکن نظر نہیں آرہا۔
مجھ ایسے بدنصیب جب کھوڑو، سہروردی اور بھٹو کے حوالے دے کر پانامہ کا ذکر کرتے ہیں تو مقصد اس کا ہرگز یہ ثابت کرنا نہیں ہوتا کہ نواز شریف ان جیسے ہیں۔ میری ناقص رائے میں وہ ہرگز نہیں۔ نواز شریف کو مگر کم از کم حسین شہید سہروردی جیسا ضرور بنایا جارہا ہے۔لاہور کے ایک کاروباری گھرانے سے آئے نواز شریف کو سہروردی بنانے کا یہ عمل JITکے ہاتھوں سرانجام دیا جارہا ہے۔ میں نے اس JITکی ساخت پر 20اپریل کے روز ہی اپنے ٹی وی پروگرام میں چند بنیادی سوالات اٹھادئیے تھے۔ ان سوالات کومزید تفصیلات کے ساتھ اس کالم میں بھی بیان کیا گیا تھا۔
Whatsappکی سہولت سے بنی JITمگر میرے سوالات پر ناراض ہوگئی۔ اس کا قیام نظربظاہر مئی 2017کی ”سعد“ 5تاریخ کو ہوا تھا۔اپنی ”پیدائش“ کے بعد مگر اس نے 20اپریل کو ادا کئے میرے چند کلمات کو اپنے خلاف ”بدگمانی“ پر مبنی ٹھہرایا اور سپریم کورٹ کے روبرو میری شکایت لگادی۔ مقامی ہی نہیں عالمی تاریخ کی شاید یہ پہلی شکایت تھی جہاں کوئی ادارہ یہ شکایت لگاتا پایا گیا کہ اس کی تشکیل سے کم از کم دو ہفتے قبل ہی اسے ”متنازعہ“ بنانے کی کوشش ہوئی۔
ذاتی طورپر پیدائشی بزدل ہوتے ہوئے بھی میں کافی ڈھیٹ واقع ہوا ہوں۔JITکی شکایت نے مگر واقعتا مجھے بہت مایوس واداس کردیا ہے۔ اب انتہائی خلوص سے سوائے ”اگے تیرے بھاگ لچھیئے“کے میں JITکے لئے کوئی اور فقرہ ادا کرنے کو تیار ہی نہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button