ریمنڈ ڈیوس

میں سفارت کار نہیں تھا۔ میں نے اپنے دفاع کیلئے دو افراد قتل کیے۔ پاکستان کی حکومت ، عدلیہ اور خفیہ ادارے سب نے مل کر میری رہائی میں میری مدد کی۔ آئی ایس آئی اور اسکے اس وقت کے سربراہ جنرل پاشا نے مقتولین کے اٹھارہ لواحقین کو حبس بے جا میں رکھ کر معاوضے کے عوض مجھے معاف کرنے کیلئے دباو¿ اور دھمکیوں سے کام لیا۔ اس سارے معاملے میں اسوقت کے پاکستانی صدر آصف علی زرداری، آرمی چیف جنرل کیانی اور نواز شریف کے علاوہ پاکستانی ججوں اور وکیلوں نے آپس میں مل ملا کر میرے لیے قانونی طریقے نکالے کہ میں باآسانی رہا ہو جا¶ں ، سولہ مارچ کو اگر میری رہائی نہ ہوتی تو ڈیڑھ ماہ کے بعد ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی فوج کا آپریشن ممکن نہ ہوتا۔ میرا تعلق بھی امریکی فوج کے خصوصی دستوں یعنی سپیشل فورسز سے تھا۔ عدالت میں میرے خلاف کاروائی کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ ٹیکسٹ میسیجز کے ذریعے امریکی حکومت کو کیس کی سماعت بارے آگاہ کرتے رہے۔
تو جناب یہ ہے خلاصہ امریکی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کی مارکیٹ میں آنے والی نئی کتاب ” دی کنٹریکٹر ” کا جس نے ہماری حکومتو ں اور اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ اس کتاب میں درج بہت سے حقائق پہلے بھی منظر عام پر آ چکے ہیں مگر ہماری حکومتوں او ر متعلقہ شخصیات کی طرف سے آج تک ان سے متعلق ٹھوس وضاحت نہیں کی گئی۔بد قسمتی سے ہر دور میں امریکی مفادات کا تحفظ کچھ اس انداز میں کیا جاتا رہا ہے کہ ملک کے قانون اور آئین کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا۔ امریکی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی شاید اتنا متنازعہ فیصلہ نہ ہوتی اگر ہماری سویلین حکومت کو قانون کے مطابق اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کا موقع دیا جاتا۔ ملک میں فوج کے بلواسط اور بلاواسطہ اقتدار نے پاکستان کے اداروں میں عدم توازن کی ایسی صورتحال پیدا کر رکھی ہے کہ جب بھی غیر ملکی قوتوں کو کسی مسئلے پر پاکستانی عدالتی طریقہ کار اور قانون کا حوالہ دیا جاتا ہے تو وہ ہم پر ہنستی ہیں۔ جیسے کہہ رہی ہوں کہ ہم جانتے ہیں پاکستان میں کتنا آئین اور قانون ہے۔ یہی سب کچھ ریمنڈ ڈیوس کیس میں بھی ہوا۔ دنیا کی نمبر ون خفیہ ایجنسی کا سربراہ کمرہ عدالت میں بیٹھا ایک معمولی ٹی وی رپورٹر کی طرح ایک غیر ملکی ایجنٹ کے کیس کی تفصیلات غیر ملکی حکومت کو پہنچاتا رہا۔ اس واقعہ کے بارے میں ریمنڈ ڈیوس کی کتاب سے پہلے بھی تفصیلات منظر عام پر آ چکی ہیں۔ آخر آئی ایس آئی کے سربراہ کو اس حد تک جانے کی ضرورت کیوں پڑی۔ اس کی دو وجوہات نظر آتی ہیں۔ ایک ذاتی اور دوسری سرکاری۔ ذاتی تو یہ بھی تھی کہ امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے ایک پیغام میں خبردار کیا تھا کہ جنرل پاشا ریمنڈ ڈیوس کی حفاظت کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ لیون پینیٹا نے اپنی کتاب "وردتھی فائٹس”
(Worthy Fight)
میں لکھا ہے کہ میں نے جنرل پاشا کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کی حفاظت انکی ذاتی ذمہ داری ہو گی اوراگر اسکو کچھ ہوا تو جنرل پاشا اس کے لیے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ اب اس دھمکی کا اس دباو¿ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس سے جنرل پاشا اس وقت گزر رہے تھے۔ مگر پھر بھی اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں جب آپ اپنے منتخب حکمرانوں اور عوام کی حکومت کو جوتے کی نوک پر لکھ کر اپنی پالیسیاں خود بنائیں گے تو پھر آپ دوسرے ملکوں کے خفیہ اداروں کے سربراہوں کے سامنے ذاتی طور پرہی جواب دہ ہونگے۔جب آپ بندوق کی نالی کے زور پر اپنی حکومتوں کو بلیک میل کرینگے تو پھر امریکی توپ کی دھانے کے آگے آپ کی بندوق کی نالی کیا کریگی؟ طاقت کی زبان بولنے والوں کو طاقت کی زبان ہی سمجھ آتی ہے۔ ملک میں متوازی حکومت ہو تو غیر ملکی حکومتیں اسی طرح دباو¿ ڈال کر کام چلاتی ہیں۔ اب آتے ہیں جنرل پاشا پر ذہنی دباو¿ کی دوسری ممکنہ سرکاری وجہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی سولہ مارچ دوہزار گیارہ کو ہوئی اور اسکے ٹھیک پینتالیس دن بعد ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن ہوا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ جنرل پاشا اور حتیٰ کہ زرداری حکومت اپنی اپنی جگہ ایبٹ آباد میں ممکنہ امریکی آپریشن سے آگاہ تھی۔ اپنی اپنی جگہ اس لیے کہ اتنے حساس معاملے میں زرداری حکومت پہلے سے ” خودمختار” فوج کے سامنے اس ممکنہ حملے میں ملوث ہونے کا خطرناک الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتی تھی۔ اور اسی طرح آئی ایس آئی بھی زرداری حکومت کے ساتھ ایسے ممکنہ حملے کی اجازت دینے یا نہ دینے پر کوئی بات کر کہ سویلین قیادت کو سیاسی ہتھیار نہیں تھمانا چاہتی تھی جس سے سویلین قیادت کے پاس آئی ایس آئی کو کنٹرول کرنے کا موقعہ آجاتا۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ ایک گھر کی چھت تلے میاں بیوی الگ کمروں میں رہتے تھے تو محلے کے لوگوں نے کبھی میاں کے کمرے میں گھس جانا تو کبھی بیوی کے۔ گھر کے دو سربراہ بن جائیں تو یہی ہوتا ہے۔ ہماری حکومتوں اور فوج کی مثال بھی اس میاں بیوی سے مختلف نہیں جن کے پاس عوام جیسے بچوں کو یہ بتانے کی ہمت ہی نہیں کہ گھرمیں اجنبی لوگ کیوں آ رہے ہیں اور گھر کے فیصلے کون کر رہا ہے۔
میاں بیوی بچوں کے کانوں میں ایک دوسرے کے خلاف سرگوشیاں کرتے رہتے ہیں۔ کبھی کبھی کچن سے برتن ٹوٹنے کی آواز آتی ہے تو بچے ڈر جاتے ہیں۔ غلطی کا بھی تعین نہیں ہوتا ، سزا کبھی کسی کو نہیں ملتی۔ تو بس یہی کچھ ایبٹ آباد میں امریکی حملے سے پہلے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں ہوا۔ بیگم نے چور بھگا دیا اور میاں نے آنکھیں بند کر لیں۔ بچے ہیں کہ آج تک حیران۔ بعد میں بھی اس قوم کے ساتھ وہی ہوا۔ ایبٹ آباد میں امریکی گھس گئے اور ہماری سویلین اور عسکری قیادت نے مل کر انکی مدد کی۔ یہی وجہ تھی کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ نہ تو زرداری حکومت نے منظر پر لائی اور نہ ہی نواز شریف حکومت نے۔
ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے ایک بات تو ثابت کر دی ہے کہ ہماری سویلین اور عسکری قیادت امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے ایک صفحے پر ہے اور یہی وہ ایک صفحہ ہے جو کبھی پلٹایا بھی نہیں جاتا۔ اسی لیے تو ایبٹ آباد میں امریکی حملے جیسے سانحے پر زرداری، نواز شریف اور جنرل کیانی اور اسکے بعد کی عسکری قیادت نے کسی کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی جیسے کردار تو محض حکومتی ساکھ اور اداروں کا ” وقار” بچانے کے لیے جیل میں رکھے گئے ہیں۔ جو اصل کردار ہیں جنہوں نے ایبٹ آباد آپریشن کی راہ ہموار کی اور اس میں اعانت کی ان کو عدلتوں سے ایسے چھڑوایا گیا جیسے مکھن سے بال کو نکالا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا اتنا بڑا جرم نہیں جس کے پیچھے میڈیا کو ڈال دیا گیاہے۔ اصل قوم کے مجرم وہ ہیں جنہوں نے ذاتی دباو اور دھمکی میں آ کر آنکھیں بند کیں۔ یہی ہوتا ہے جب آپ بطور حکمران اور سربراہ اداروں کے قوم کی مفادات کا تحفظ کرنے کی بجائے ذاتی مفادات کی خاطر فیصلے کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے سچ کبھی سامنے نہیں آتا۔ یہ سیاستدان اور فوجی آمر یا انکے گماشتے جتنے بھی ایک دوسرے کے مخالف ہوں جب امریکہ بہادر کے دربار میں پہنچتے ہیں تو ایک ہو جاتے ہیں۔ یہ وزیر اعظم محمود ہوں یا جنرل ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں، نہ کوئی بندہ رہتا ہے اور نہ ہی کوئی بند ہ نواز۔ عوام پر احتساب کا رعب و دبدبہ ڈالنے والے اور گارڈ فادر اور سسلین مافیا کی مالا جپنے والے ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کا بھی نوٹس لیں اور قوم کو بتائیں کہ امریکی ایجنٹ کی رہائی میں کس طرح حکمرانوں ، خفیہ اداروں ، ججوں اور وکیلوں نے اپنے اپنے ضمیر کا سودا کیا۔ مسئلہ اس کی رہائی کا نہیں بلکہ اس رسوائی کا ہے جو ہماری قوم اور اداروں نے بخوشی اپنے سر لی۔ آصف زرداری، نواز شریف، جنرل کیانی اور جنرل پاشا کب تک اس معاملے میں امریکہ کے ماضی کے سیاہ فام غلاموں کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ جلسوں میں اور درباروں میں تقریریں کرنا آسان ہوتا ہے ، مشکل اگر ہے تو عوام کے سوالوں کے دینا۔ کم از کم جرنیلوں کو تو ریٹائرمنٹ کے بعد منہ چھپا کر نہیں پھرنا     Courtesy Nawai Waqt چاہیے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button